نبی کریم ﷺ کی ایسی نصیحت کہ صحابہ ؓ بھی رونے لگے۔

Nabii Kream ﷺ ki aisi naseehat k sahaba bhii rony lagy

اللہ کے رسول ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی درس دیا صحابہ رونے لگ گئے دل دہل گئے صحابہ کہتے ہیں لگتا ہے کوئی الوداعی نصیحت ہورہی ہے آج آپ نے فرمایا میرے صحابہ میرے تمہیں وصیت کرتا ہوں تقویٰ اختیار کرنا ذمہ دار کی بات سننا بھی ماننا بھی کوئی حبشی غلا م بھی تمہارا بادشاہ بن جائے اور ہوسکتا ہے کہ میرے بعد تم میں کسی کی عمر لمبی ہو میرے بعد اختلاف اگر دیکھو تو کیا کرنا ؟میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کو اختیار کرنا مضبوطی سے تھام لینا اور سنو محدثات سے بچنا نئی چیزیں گھڑنی نہیں ہر نئی چیز جو تم گھڑو گے وہ بدعت ہو گی اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔اگر ہمارے رسول رسُولِ کامل ہیں، کہ ان پر دین کی تکمیل ہوئی۔ اگر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور سیرت کا ایک ایک لحظہ محفوظ اور قابل عمل ہے۔ اگر ان کی اتباع اور پیروی کا نام ہی دین ہے۔اگر سنت رسول سے اعراض بے دینی ہے۔ تو پھر یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ زندگی گزارنے کا ہرہرگوشہ اورہر ہر شعبہ اسوئہ رسول اور سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوگا، تو وہی دین ہوگا۔اور اگر کوئی شخص عبادت و نیکی اور ثواب کا کوئی ایساکام کرے گا جس کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دَور میں نہیں تھا۔ اور خلفاء راشدین کا سنہرا دور بھی اس کام سے خالی نظر آتا ہے۔ اور اصحابِ رسول بھی وہ کام نہیں کرتے تھے، آج کوئی شخص اس کام کو نیکی اور دین سمجھتا ہے تو وہ سراسر فریب اور دھوکہ اور غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ وہ کام ثواب اور دین نہیں ہوگا بلکہ بدعت ہوگا۔

حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیںعبادت کا جو کام اصحاب رسول نے نہیں کیا، وہ کام تم بھی نہ کرو کیونکہ پہلے لوگوں نے پچھلوں کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی، جس کو یہ پچھلے پوراکریں۔پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اے مسلمانو! اور پہلے لوگوں کے طریقے اختیار کرو۔آج اگر کوئی شخص ایسا کام کرتاہے جو کام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے مبارک دَور میں نہیں تھا، اور پھر وہ شخص اس کام کو نیکی اور دین اور ثواب سمجھتا ہے وہ عملی طور پر اس بات کا دعویدار ہے کہ (معاذ اللہ) اللہ کابھیجا ہوا دین ناقص ہے جس میں نیکی اور ثواب کا یہ کام بیان نہیں ہوا۔ جو آج میں نے سمجھا ہے۔اسکے علاوہ وہ شخص اس بات کا بھی مدعی ہے کہ نیکی کی جس بات کا اور ثواب کے جس کام کا آج مجھے علم ہوا ہے۔ (معاذ اللہ) آنحضرت اور اصحاب رسول کی قدوسی جماعت کو بھی نیکی کے اِس کام کا علم نہیں تھا۔ یا ان کو علم تو تھا ، مگر امت کو بتانے میں بخل کرگئے۔ اور اللہ کے پیغام پہنچانے میں کوتاہی بھی کی اور خیانت بھی اور اس طرح کاگمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں رکھنا واضح کفر ہے۔جو شخص بدعت کا کام کرتا ہے، اور اسے نیکی سمجھتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ رسالت میں خیانت کی ہے پس جو کام اس زمانے میں دین نہیں تھا، وہ کام آج بھی دین نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کردیا ہے۔میری اس گفتگو کانتیجہ اور خلاصہ یہ ہے کہ عبادت و نیکی اور دین کا ہر کام کرتے ہوئے پرکھنا ہوگا۔ اور دیکھنا ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب پیغمبر کا اس بارے میں کیا عمل تھا۔

اگر اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور سے مل جائے تو وہ کام سنت ہوگا۔ ثواب ہوگا، نیکی ہوگا، دین ہوگا، خدا کی رضامندی کا موجب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کا سبب ہوگا۔ اگر اس کام کا ثبوت اور نام ونشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت میں بھی نہ ہو، اصحاب رسول کے اعمال سے بھی نہ ہو، تو پھر وہ کام بظاہر کتنا ہی خوشنما کیوں نہ ہو۔ بظاہر نیکی معلوم ہو وہ سنت اور دین نہیں ہوگا بلکہ بدعت، ضلالت اور گمراہی ہوگا، وہ کام غضب خداوندی کا موجب ہوگا، رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment