جو عورتیں ہاتھوں پر مہندی نہیں لگاتیں وہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ضرور سن لیں۔

Jo oratain hathoon per mehndi nai lagai thii ,

مہندی ہمارےسفید بالوں کو چھپانے بالوں کو مضبوط چمکدار اور گھنا بنانے کے ساتھ ساتھ کئی امراض سے نجات کا ذریعہ بھی ہے آج کل شادی بیاہ اور تہواروں پر لڑکیاں اور خواتین ہار سنگھار کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں اس آرائش حسن کے لوازمات میں مہندی کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے سرخ و سیاہی مائل نقش و نگار سے ہاتھوں کو انتہائی خوبصوری سے بزین کیاجاتا ہے بلاشبہ مہندی عورت کے حسن کو چار چاند لگادیتی ہے مگر مہندی محض ہاتھوں پر بیل بوٹے بنانے کے کام نہیں آتی بلکہ یہ ایک ایسا قدرتی پودا ہے جس کے پتوں پھولوں اور بیجوں میں کئی کمالات پائے جاتے ہیں۔مہندی پاک و ہند کی خوبصورت روایات کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے تو اس تحریر میں یہی بتارہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مہندی کے استعمال کا کیا طریقہ بتایا اور سائنس نے اس پر ریسرچ کر کے مہندی کے کون کونسے فوائد ڈھونڈ نکالے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام پڑھنے والوں کو نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلنے کی توفیق دے آمین۔صدیوں سے مہندی کا استعمال کسی نہ کسی شکل و صورت میں ضرور ہوتارہا ہے تاریخی حیثیت سے یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ قدیم مصری عورتیں اسے چونے کے ساتھ ملا کر استعمال کرتی تھیں مصر کے فرعون اس کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے چنانچہ وہ اسے ہاتھوں پیروں پر لگاتے تھے۔
اور اس سے کپڑوں کو رنگواتے خوشبو کے لئے سلگاتے اور پھر مرنے کے بعد اس کے پتے اپنے مقبروں میں رکھواتے تھے قدیم ہندومذہب اور بت عقائد نے بھی اس کی بہت اہمیت بیان کی ہے چنانچہ ہندو امرا اپنی دلہنوں کے لئے ایسے سونے کے تاج بنواتے جن پر انتہائی سلیقے کے ساتھ مہندی کے پتے ایک حاشیئے کی صورت لگادیئے جاتے تھے ۔ اسی طرح یونانیوں کے ہاں بھی مہندی اشیائے مقدسہ میں شامل تھی اب بات کرتے ہیں اسلام اور جدید سائنس کی مہندی کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسالت مآب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اپنے بالوں میں مہندی وغیرہ کا رنگ نہیں دیتے۔تم رنگ دے کر ان کی مخالفت کرو حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص جس نے مہندی کا خزاب لگایا ہواتھا گزرا تو آپﷺ نے فرمایا کہ کتنا اچھا خزاب ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اورکتم سے رنگاہوا تھا ﷺآپﷺ نے فرمایا یہ پہلے سے بھی زیادہ اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے زرد رنگ کا خزاب لگایا ہوا تھا تو فرمایا یہ سب سے اچھا ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ ؓ اس حال میں آپﷺ کی خدمت میں لائے گئے کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال ذخامہ گھاس کی طرح سفید تھے تو رسول ﷺ نے فرمایا اس سفیدی کو کسی اور چیز کے ساتھ بدل دو لیکن سیاہ رنگ سے بچو ان احادیث کی روشنی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خزاب لگانا حضور اکرم ﷺ کی سنت ہے لیکن وہ سیاہ رنگ کا نہیں ہونا چاہئے ۔

Leave a Comment