ایک ہی دن میں ہر دلی مراد پوری ہوجائے گی۔

Aik hi din mai her dili murad purii ho jaey gii

اس تحریر میں رزق کے تمام مسائل کے حل کے لئے ایک قرآنی وظیفہ شیئر کیاجارہا ہے اس ایک وظیفہ کی برکت سے آپ کے ہر قسم کے مسائل حل ہوجائیں گے نوکری کا مسئلہ کاروباری مسائل قرض سے نجات کے لئے نہایت ہی مجرب ہے ۔وہ آیت مبارکہ کونسی ہے جس کا وظیفہ آپ نے کرنا ہے وہ آیت مبارکہ ہے آیت الکرسی ہر قسم کے مسائل مشکلات سے نجات اور بڑی بڑی جائز حاجات کے پورا ہونے کے لئے نہایت ہی مجرب المجرب وظیفہ ہے۔

جب حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپﷺ نے حضرت عزرائیل ؑ سے فرمایا کیا میری امت کو بھی موت کی تکلیف ہوگی تو آپﷺ کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے تو اللہ پاک نے فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی امت اگر ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے گی تو موت کے وقت ان کا ایک پاؤں دنیا میں ہوگا اوردوسرا جنت میں حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی زینت ہوتی ہے اور قرآن پاک کی زینت سورہ البقرہ ہےاور اس میں موجود آیت الکرسی قرآن پاک کا سردار ہے

اس آیت کو پڑھنے والے کی روح خود اللہ پاک قبض فرماتے ہیں یہ عمل نہایت ہی آسان ہے یہ عمل آپ نے ہر نماز کے بعد کرنا ہے جب آپ نماز ادا کرلیں تووہیں بیٹھے بیٹھے آپ نے یہ وظیفہ کرلینا ہے آپ نے تین سو تیرہ مرتبہ آیت الکرسی کا ورد کرنا ہے اول وآخرت درود پاک بھی لازمی پڑھئے گا جو بھی حاجت جو بھی مقصد ہوگا اس کو ذہن میں رکھ کر آپ نے یہ وظیفہ کر لینا ہے انشاء اللہ جو بھی حاجت ہوگیجو بھی مقصد ہوگا ایک دن میں پورا ہوجائے گا۔

حضرت أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے ابومنذر؛کیا تو جانتا ہے کہ کتاب اللہ کی کونسی سب سے عظیم آیت تیرے پاس ہے ؟میں نے جوب دیا ؛اللہ تعالی اور اسکے رسول زیادہ جانتے ہیں ؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ؛اے ابو منذر ؛کیا تو جانتا ہے کہ کتاب الہی کی کو نسی سب سے عظیم آیت تیرے پاس ہے ؟

حضرت ابی بن کعب کہتے ہیںکہ میں نے جواب دیا :اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم : یعنی آیت الکرسی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سےمیرے سینے پر مارا اور فرمایا :ابومنذر تجھے علم مبارک ہو۔جو شخص صبح کو اس آیت کو پڑھ لیگا تو شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا اور اگر شام کو پڑھ لیگا توصبح تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا ، چنانچہ حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ میرا کھجور ں کا ایک کھلیا ن تھا ،میں دیکھتا تھا کہ روزآنا اسمیں سے کچھ کھجورکم ہو جاتی ہے ،

چنانچہ ایک رات میں اسکی نگرانی کر نے لگا، دیکھتا ہو ں کہ ایک شخص نوجوان لڑکے کی شکل میں ظاہر ہوا، میں نے اس سے سلام کیا؛اس نے سلام کا جواب دیا؛ میں نے پوچھا :تو انسان ہے کہ جن ؟اس نے جواب دیا کہ میں جن ہوں ؛ میں نے کہا ؛اپنا ہاتھ دکھلاؤ اس نے اپنا ہاتھ دکھلایا،کیا دیکھتا ہوں کہ اسکا ہاتھ کتے کے ہاتھ جیسا ہے اور اس پر کتے جیسے بال ہیں؛میں نے سوال کیا کہ کیا جنوں کی خلقت ایسی ہی ہے ؟

اس نے ہاں کہہ کر جواب دیا اور کہا کہ تمام جن جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے طاقتور اور کوئی شخص نہیں ہے لیکن تمہارے سامنے میں مجبور ہوں حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ تو یہاں کیا کرنے آیا ہے ؟اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہو ا کہ تم صدقہ وخیرات پسند کرتے ہو تو میں نے چاہا کہ میں بھی اس سے محروم نہ رہوں ،حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کہا : وہ کیا چیز ہے جو تم لوگوں سے ہمیں محفوظ رکھے ؟

اس نے کہا کہ کیا تم آیۃ الکرسی اللہ لاالہ الاھوپڑھتے ہو ؟یعنی کیا تمھیں یہ آیت یاد ہے حضرت ابی بن کعب نے جواب دیا ؛ ضرور یاد ہے، اس جن نے کہا کہ اس آیت کو اگر صبح پڑھ لو گے تو شام تک ہم سے محفوظ رہو گے اور جب شام کو پڑھ لو گے تو صبح تک ہما ر ے شر سے محفوظ رہوگے،حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ صبح کو میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سا را قصہ سنا دیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؟ صدق الخبیث خبیث نے سچ کہا ہے ۔

Leave a Comment