الحمدُ للہ کا آسان اور مجرب استخارہ

Alhamdullillah ka aasan or mujarb istakhara

اس تحریر میں ایک مجرب استخارہ بتایا جارہا ہے جو کہ الحمد للہ سے کیاجاتا ہے بہت سے لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ ہم استخارہ کسی کام کے لئے کرتے ہیں اور رات سوجاتے ہیں لیکن ہمیں خواب میں کچھ نظر نہیں آتا یا پھر ہم نے بہت سے ایسے طریقوں سے استخارہ کیا ہے جن سے ہمیں کوئی نتیجہ معلوم نہیں ہوتا آیا کہ جس کام کے لئے ہم نے استخارہ کیا وہ کام کریں یا نہ کریں ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

اس تحریر میں بہت ہی آسان طریقہ جو کہ آپ اپنی کھلی آنکھوں سے کرسکتے ہیں دس پندرہ منٹ کا عمل ہے بہت ہی آسان عمل ہے کوئی بھی شخص کسی بھی کام کے لئے یہ استخارہ کرسکتا ہے ۔چاہے آپ شادی کے لئے استخارہ کرنا چاہیں اپنے رشتہ کے لئے استخارہ کرنا چاہیں یا کسی نیک مقصد کے لئے استخارہ کرنا چاہیں تو آپ یہ عمل کرسکتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات انسان اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتا ہےکہ جس کام میں میرے لئے خیرہو وہ کام ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے وہ کام اختیار فرمادیتے ہیں جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے

لیکن ظاہری اعتبارسے وہ کام اس بندہ کی سمجھ میں نہیں آتا تو وہ بندہ اپنے پرور دگار پر ناراض ہوتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تو یہ کہا تھا کہ میرے لئے اچھا کام تلاش کیجئے لیکن جو کام ملا وہ تو مجھے اچھا نظر نہیں آرہا ۔ اس میں تو میرے لئے تکلیف اور پریشانی ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد جب انجام سامنے آتا ہے تب اس کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے میرے لئے جو فیصلہ کیا تھا وہ میرے حق میں بہتر تھا اس وقت اس کو پتہ نہیں تھا سمجھ رہا تھا

کہ میرے ساتھ زیادتی اور ظلم ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا صحیح ہونا بعض اوقات دنیا میں ظاہر ہوجاتا ہے اور بعض اوقات آخر میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس روایت میں چند باتیں ملتی ہیں جو کہ بہت ہی قابل ذکر ہیں ان کو سمجھ لینا چاہئے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتا ہے استخارہ کا مطلب ہے کہ اللہ سے مشورہ کرنا آپ کوئی بھی کام کرنے جارہے ہوتے ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ سے مشورہ کرتے ہیں کہ آیا وہ کام کریں یا نہ کریں ۔

جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے لئے خیر کا فیصلہ فرمادیتے ہیں استخارہ کے بارے میں لوگوں کے درمیان طرح طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ استخارہ کرنے کا کوئی خاص طریقہ اور خاص عمل ہوتا ہے خواب نظر آتا ہے اس خواب کے اندر ہدایت دی جاتی ہے کہ فلاں کام کرو یا نہ کرو۔ یہاں پر یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ جو حضور ﷺ سے استخارہ کا مسنون طریقہ ثابت ہے اس میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں ہے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ استخارہ رات کو سوتے وقت ہی یا پھر عشاء کی نماز کے بعد ہی کرنا چاہئے ایسا کوئی ضروری نہیں ہے

بلکہ جب بھی موقع ملے اس وقت یہ کرلیں نہ رات کی کوئی قید ہے نہ ہی دن کی کوئی قید ہے اور نہ سونے کی کوئی قید ہے اور نہ جاگنے کی کوئی قید ہے جب بھی آپ کو ٹائم ملے جب بھی آپ اپنا کوئی کام کرنا چاہیں اس کے بارے میں جاننا چاہیں کہ آپ وہ کام کرنا چاہیئے یا نہیں کرنا چاہئے تو آپ اسی وقت استخارہ کرلیں۔آپ نے کرنا یہ ہے کہ آپ نے تازہ وضو کرنے کے بعد دو رکعت نماز نفل اداکرنی ہے۔

سبحان اللہ پڑھنے کے بعد الحمدُ للہ پڑھنی ہے اور جب لفظ ایاک نعبد پر پہنچیں تو آپ نے نعبدُ کی تکرار کرنی ہے آپ کا رخ آپ کا چہرہ دائیں یا بائیں طرف مڑ جائے دل میں اپنے کام کا تصور رکھنا ہے ۔ جب آپ نعبُدُ کی تکرار کریں گے اگر آپ کا چہرہ دائیں طرف ہوجائے تو سمجھئے کہ کامیابی ہوگی آپ کو وہ کام کرنا چاہئے اور اگر آپ کا چہرہ بائیں طرف ہوجائیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کام آپ نہ کریں اس میں آپ کے لئے فائدہ نہیں ہے آپ اس کام کو کرنے سے رک جائیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو۔آمین

Leave a Comment