حضرت محمد ﷺ کی اولا د ! بظاہر ہم مسلمان ہیں مگر بہت کم لو گوں کو نبی ﷺ کی اولاد کے بارے میں پتہ ہے

Harat Muhammad ﷺ ki olad!

ہمارے معاشرے میں اَن گنت لو گ ایسے بھی ہو ں گے جنہیں نبی کریم ﷺ کی اولاد کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ نام سے بھی واقف نہ ہوں گے۔ اور کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ آپ ﷺ کی اولا د کے بارے میں بھی معلومات مکمل نہ ہوں۔ اگر کوئی آپ سے پوچھ بیٹھے کہ نبی کریم ﷺ کے کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں تھیں ؟ اور آپ نہ بتا سکیں تو کیا آپ شرم سے پانی پانی نہیں ہو جا ئیں گے۔ اس سے کہیں بہتر ہےکہ آپ کو اولادِ نبی ﷺ کے بارے میں سر حاصل معلومات ہوں تا کہ ایسا وقت آنے پر آپ مکمل طور پر اعتماد کے ساتھ مخاطب کو جواب دے سکیں۔ تو آ ئیے سنتے ہیں اولاد النبی ﷺ۔ رسول اللہ ﷺ کی اولاد کی تعداد میں اختلاف پا یا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اولاد کی تعداد چھ ہے۔ قاسم۔ ابراہیم۔ زینب۔ رکیہ۔ امِ کلثوم اور فاطمہ  لیکن معروف سیرت نگار ابنِ اسحاق نے دو اور صاحبزادوں کا بھی نام لیا ہے۔ طاہر اور طیب۔ ایک قول یہ ہے کہ اعلانِ نبوت کے بعد آپﷺ کے ہاں عبداللہ پیدا ہوئے انہیں طیب اور طاہر کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن ایک قول یہ ہے کہ طیب اور طاہر عبداللہ کے علاوہ تھے۔بعض سیرت نگاروں نے مطیب اور مطاہر نامی دو بیٹوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ بحر حال اس بارے میں تمام باتوں کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اولاد کی تعداد کیا ہے۔ جن میں سے ساتھ صاحبزادے تھے اور چار صاحبزادیاں تھیں۔ صاحبزادیوں کی تعداد میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے ۔ تمام صاحبزادیوں نے اسلام کا زمانہ پا یا اور ہجرت سے بھی مشرف ہو ئیں۔

البتہ صاحبزادوں کی تعداد میں اختلاف پا یا جاتا ہے۔ مجموعی تعداد ساتھ تک پہنچتی ہے۔ جن میں قاسم اور ابر ا ہیم پر تمام زاویوں کا اتفاق پا یا جاتا ہے ۔ ہم صرف انہی کے حالات بیان کرتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے قاسم تھے۔ لہٰذا ہم انہیں کے حال احوال اور واقعات سے ابتداء کرتے ہیں۔ اعلانِ نبوت سے پہلے نبی کریم ﷺ نے سید ہ خدیجہ القبرہ  سے نکاح فر ما یا۔ ان کے بدن سے سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے۔ جو نبوت سے گیارہ برس پہلے پیدا ہوئے۔ انہی کے نام کی منا سبت سے آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ آپ اس کنیت کو بہت پسند فر ما تے تھے۔ صحابہ کرام  بھی عموماً ابو القاسم ہی کہتے تھے۔ ایک دن نبی ﷺ بازار سے گزر رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے یہ ابوالقاسم کہہ کر آ واز دی ۔ آپ ﷺ نے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں اس نام سے کسی اور شخص کو پکار رہا ہوں۔تو نبی کریم ﷺ نے فر ما یا کہ کوئی ابو القاسم کنیت نہ رکھے۔ قاسم کے متعلق کہا جا تا ہے کہ یہ دو سال زندہ رہے ۔ ایک قول مے مطا بق ڈیڑہ سال اور ایک قول کے مطا بق اتنے بڑے ہوئے تھے کہ چلنا پھر نا سیکھ لیا تھا۔

Leave a Comment