چہرے پر رونق اور دل میں نور کیسے آئے گا؟

Chehry per ronak or dil mai noor kesy aaey ga?

عبداللہ بن عباس ؓ کی بات کو غور سے پڑھ لیجئے وہ کہا کرتے تھے ان للحسنۃ ضیاء فی الوجہ میری خواہش ہے یہ بارونق چہرے اس حدیث کو یاد کرلیں صرف یاد ہی نہیں بلکہ آگے بھی پہنچائیں ۔جب انسان نیکی کے کام پر لگتا ہے تو اس کا چہرہ ٹمٹمانے لگ جاتا ہے ،ہر وقت بشاشت پررونق خوش باش ہشاش بشاش ،مسکراتا یا ٹمٹماٹا چہرہ کب بنتا ہے نیکی کرنے سے دل کے اندر روشنی کیا مطلب؟خوشی،رونق،وقار،سنجیدگی،متانت،ہروقت انسان کے ساتھ رہتی ہے کب؟ جب دل روشن ہو۔اتنی روشنی دنیا جہان کی مصیبتیں دائیں بائیں کھڑی ہوں وہ پھر بھی مسکراتا ہی نظر آتا ہے اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی خوش نصیب ہے ہی کوئی نہیں ۔مال تھوڑا ہی ہوتا ہے اتنی فراوانی اتنی وسعت رزق میں ہوتی ہے دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے ۔اتنا مال اس کے پاس اور اس کی جیب خالی ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے مال میں بھی اتنی فروانی کردیتے ہیںبڑے بڑے بینک والے بھی اس کے سامنے جھکتے نظر آتے ہیں لگتا ہے یہ پارٹی بڑی ہے یہ پارٹی بڑی کیوں ہے ؟ اس کے رب نے اس کے دل میں غنا پیداکردیا ہے ۔آج صبح اٹھ کر کوئی بادام کھاتا ہے کیا ہے جی بس جی سر کمزور ہوگیا ہے حسابات اکاونٹینٹ ہو تو کرتا جمع ہو ں ہو تفریق جاتی ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ بادام کھائیں تب قوت آئے گی یہ کیا ہے ؟بس جی حکیم صاحب نے کہاتھا بڑا گوشت نہیں کھانا بس کلیجی کھانی ہے صبح شام اچھا جی یہ کیا ہے بس جی کیا بتائیں ٹانگیں بڑی درد کرتی ہے تو انہوں نے کہاتھا چلوآپ پائے کھالیاکریں ۔دیکھنے میں چھوٹا سا جسم نظر آئے گا

ہوگا انسان لیکن ایک انسان سینکڑوں انسانوں جتنا کام کرتا نظر آئے گا جب نیکی پر لگے گا اللہ تعالیٰ اس کے جسم میں طاقت پیدا کردیں گے قوت پیدا کردیں گے عبداللہ بن مسعود چڑھے مسواک اتارنے کے لئے اللہ کے رسول کے لئے اتنے کمزور تھے ان کی پنڈلیاں اتنی باریک تھیں ہوا آئی توپنڈلیاں کانپنے لگ گئیں صحابہ مسکرا دیئے مسکراتے ہوئے جب اللہ کے رسول ﷺ نے دیکھا تو فرمایا کیوں مسکرا رہے ہو اس کی باریک پنڈلیوں کی وجہ سے ؟اللہ کی قسم اس عبداللہ بن مسعود کی پنڈلیاں یہ تمہیں باریک نظر آتی ہیں یہ احد پہاڑ سے بھی وزنی ہیں رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ:انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایسا لوتھڑا ہے کہ اگر وہ صحیح ہو تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور اگر اس میں خرابی پیدا ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ جسم کا یہ حصہ دل ہے۔ دل کی روز مرہ کی صورتحال انسان کو خوش یا اداس رکھتی ہے۔ اگر دل غیر مطمئن ہو تو خوشی انسان سے روٹھ جاتی ہے۔ دل ہی ہماری تمام خواہشات، ہمارے عزم، اور ہماری نیتوں کو برقرار رکھتا ہے۔ ہم اپنے دل کو خوش رکھنے کے لیے اپنی خواہشات پوری کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی جب ہمارا دل ناخوش ہوتا ہے تو اس کا اظہار ہمارے لوگوں سے روز مرہ کی ملاقاتوں میں ناخوشی کے ذریعے ہوتا ہے۔ایک ناخوش دل ہمارے دنوں کو روکھا، ہماری راتوں کو بے خواب، اور ہمارے کھانوں کو بے ذائقہ بنا دیتا ہے۔ ہم اپنے کام پر توجہ نہیں دیتے اور ہر کسی سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment