حدیث نبوی ﷺ کے مطابق دین و دنیا کی کامیابی

Hadees Nabvii ﷺ k mutabiq deen-o- Dunia ki kamyabii

یہ دنیا وآخرت کی کامیابی کا عمل ہے ایک حدیث شریف ہے صرف اس حدیث پر عمل کر لیجئے تو ساری دنیا بھی آپ کی اور آخرت بھی آپ کی میرے نبی ﷺنے فرمایا چار باتیں مجھ سے لے لو دنیا بھی تمہاری آخرت بھی تمہاری ہمیشہ سچ بولنا جھوٹ نہ بولنا کسی کو دھوکہ نہ دینا کیونکہ جھوٹ اور دھوکہ انسان کو ذلیل بھی کرتا ہے ور برباد بھی کرتاہے سچائی میں نجات ہے حضرت عیسیٰ ؑ سفر پر تھے راستے میں ایک شخص نے حصول برکت کے لئے صحبت میں رہنے کی اجازت طلب کی حضرت عیسیٰؑ نے اسے اجازت دے دی اوردونوں ایک ساتھ سفر کرنے لگےراستے میں جب کھاناکھانے لگے تین روٹیاں تھیں ایک ایک روٹی دونوں نے کھالی حضرت عیسیٰ ؑ تیسری روٹی وہیں پر چھوڑ کر نہر پر پانی پینے کے لئے گئے اور واپس آئے جب واپس آئے تو دیکھتے ہیں کہ تیسری روٹی غائب ہے تو آپ نے اس شخص سے پوچھا تیسری روٹی کہاں ہے اس نے کہا مجھے معلوم نہیں میں نہیں جانتا حالانکہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے نبی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ روٹی اسی نے غائب کی ہے لیکن اس شخص کی جرات اتنی کہ حضرت عیسیٰؑ کی بابرکت صحبت میں رہنے کے باوجود وہ پھر بھی جھوٹ بول رہا ہےحضرت عیسیٰؑ نے اس کے ساتھ سفر جاری رکھا اب راستے میں ایک ہرنی کے بچے کو دیکھ کر حضرت عیسیؑ نے اس کو بلایا وہ حکم پاتے فورا ہی حضرت عیسیؑ کی خدمت میں حاضر ہو گیا حضرت عیسیٰؑ نے اس کو ذبح کیا اس کا گوشت پکایا اور دونوں نے اس کا گوشت کھایا جب کھانے سے فارغ ہوگئے تو حضرت عیسیٰؑ نے ہڈیوں کو جمع کیا

اور کہا اللہ کے حکم سے کھڑا ہوجا یکایک وہ ہڈیاں دوبارہ ہرنی کا بچہ بن گئیں اور وہ ہرنی کا بچہ زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا تو ایک مرتبہ پھر حضرت عیسیٰؑ سے اس شخص سے کہا تجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے میرے ہاتھوں یہ معجزہ دکھایا بتاوہروٹی کس نے لی تھی وہ پھر کہتا ہے مجھے معلوم نہیں میں نہیں جانتا وہ کس نے لی تھی حضرت عیسیٰؑ نے سفر جاری رکھا راستے میں ایک دریا آیا حضرت عیسیٰؑ نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر پانی پر چلتے ہوئے دریا پارکرنے لگے اور پھر اسے ایک مرتبہ فرمایا تجھے اس رب کی قسم جس نے تجھے میرے ہاتھوں پر یہ معجزہ دکھایا سچ بتا تیسری روٹی کس نے لی تھی وہ نامراد بد بخت انسان پھر کہتا ہے مجھے معلوم نہیں کس نے لی تھی دیکھئے وہ شخص جو اتنے بڑے بڑے معجزات دیکھ کر پھر بھی سچ نہیں بولا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کا نبی سب کچھ جانتے ہیںلیکن اس طرح وہ ڈھیٹ اور ضدی ہوگیا ہے دنیا کی محبت اور لالچ نے اس شخص کی آنکھوں پر پٹی ڈال دی ہے کہ وہ اللہ کے نبی کی بارگاہ میں جھوٹ بول رہا ہے حالانکہ اگر وہ کہتا کہ تیسری روٹی میں نے کھا لی ہے تو اس کا کیا جاتا تو حضرت عیسیؑ اسے کوئی سزا تو نہیں دیتے وہ تومعاف کردیتے لیکن یہ حب دنیا حب مال انسانوں کو اس طرح ڈھیٹ اور ضدی اور اندھا بنادیتا ہے کہ جب تک وہ پکڑے نہیں جاتے وہ اپنا گناہ قبول نہیں کرتے حضرت عیسیٰؑ نے سفرجاری رکھا اور راستے میں ایک ویران صحرا آگیا حضرت عیسیٰؑ نے کچھ ریت جمع کی اور فرمایا

اے ریت اللہ جل شانہ کے حکم سے سونا بن جا ریت نے حکم پر عمل کیا نبی کا حکم تھا ریت فورا سونے میں بدل گئی تو حضرت عیسیٰؑ نے سونے کے تین حصے کئے اور فرمایا ایک حصہ سونے کا میرا دوسرا تیرا اور تیسرااس کا جس نے وہ روٹی لی تھی اب دیکھئے اس لالچی شخص کے تیور کیسے بدلے وہ فورا بے شرمی کے دانت نکالنے لگا اور کہنے لگا جی حضرت تیسری روٹی میں نے لی تھی۔یہ دنیا کی محبت ہے یہ مال کی محبت ہے جھوٹ اور دھوکہ ایسی بری بیماری ہےجو انسان کے باطن کو تباہ و برباد کردیتی ہے حالانکہ اس نے اپنی آنکھوں سے اللہ کے پیاروں کے معجزات دیکھے لیکن پھر بھی اس نے سچ نہیں بولا اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ نے اس شخص سے فرمایا یہ تینوں حصے تو ہی لے لے تجھے مبارک یہ دنیا کی دولت ہے حضر عیسیٰؑ اس شخص کو وہی پر چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے اب وہ شخص اتنا سونا ملنے پر بہت خوش ہوا لیکن پھر کیا ہوتا ہے دو آدمیوں نے اسے سونے کے ساتھ دیکھا تو ارادہ کیا اسے قتل کر کے اس کا سونا چھین لیں اور آپس میں تقسیم کرلیں تو اس شخص نے کہا مجھے قتل نہ کریں میری جان بخشو ایسا کرتے ہیں کہ ہم تینوں سونا آپس میں تقسیم کرلیتے ہیںوہ تینوں نے اس پر اتفاق کیا اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ایک شخص جائے اور بازار سے کھانا لے کر آئے ہم کھانا کھائیں گے اور کھانا کھانے کے بعد سونا تقسیم کرلیں گے اب ان تینوں میں سے ایک شخص بازار جاتا ہے کھانا لینے کے لئے لیکن فورا دنیا کا لالچ دنیا کی محبت اس پر غالب آجاتی ہے اور اس نے کھانے میں زہر ملا دیا اس نیت سے کہ جب میں واپس جاؤں گا

ان کو کھانا دوں گا وہ کھانا کھائیں گے مرجائیں گے اور سارا سونا میں اپنے قبضے میں لے لوں گا سارا سونا میرا ہوجائے گا اور ادھر دو جووہاں رہ گئے تھے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا جب یہ اکیلا شخص آئے گا تو ہم اس کو قتل کرکے سونا آپس میں تقسیم کرلیں گے چنانچہ جیسے ہی وہ کھانا لے کر پہنچاتو ان دونوں نے مل کر اس ایک کوقتل کردیا اور قتل کرنے کے بعد یہ دونوں ملکر وہ زہر ملا ہوا کھانا کھانے لگے اور بالآخر ان کی بھی موت ہوگئی اور وہ سونا وہیں کا وہیں پڑا رہ گیا اب کچھ عرصے کے بعد حضرت عیسیٰؑ کادوبار ہو وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا سونا وہیں موجود ہے تین لاشیں وہاں پر پڑی ہوئی ہیں تو اس وقت حضرت عیسیٰؑ نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا یہ دنیا ایک دھوکہ ہے اس سے بچو جو اس کے لالچ میں پھنسا وہ ہلاک ہوگیا ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment