وفاداری کا اعلان اور استغفار ۔

Wafadaarii ka ilan or Astaghfar

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ناظرین کرام کو خوش آمدید کہتے ہیں  اور ہم  امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ کرام۔۔۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’جب مال غنیمت کو دولت قرار دیا جانے لگے اور جب زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جانے لگے اور جب علم کو دین کے علاوہ کسی اور غرض سے سکھایا جانے لگے،

اور جب مرد، بیوی کی اطاعت کرنے لگے اور جب ماں کی نافرمانی کی جانے لگے اور جب دوستوں کو قریب اور باپ کو دور کیا جانے لگے اور جب مسجد میں شوروغل مچایا جانے لگے اور جب قوم و جماعت کی سرداری، اس قوم و جماعت کے فاسق شخص کرنے لگیں اورجب قوم و جماعت کے زعیم و سربراہ اس قوم و جماعت کے کمینہ اور رذیل شخص ہونے لگیں اور جب آدمی کی تعظیم اس کے شر اور فتنہ کے ڈر سے کی جانے لگے اور جب لوگوں میں گانے والیوں اور سازو باجوں کا دور دورہ ہو جائے اور جب شرابیں پی جانی لگیں اور جب اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو برا کہنے لگیں اور ان پر لعنت بھیجنے لگیں تو اس وقت تم ان چیزوں کے جلدی ظاہر ہونے کا انتظار کرو،

شدید ترین طوفانی آندھی کا، زلزلے کا، زمین میں دھنس جانے کا، صورتوں کے مسخ و تبدیل ہو جانے کا اور پتھروں کے برسنے کا،بلکہ ان چیزوں کے علاوہ قیامت اور تمام نشانیوں اور علامتوں کا انتظار کرو،جو اس طرح پے درپے وقوع پذیر ہوں گی جیسے (موتیوں کی) لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اس کے دانے پے درپے گرنےلگیں ۔چناچہ ایسے وقت میں وفاداری کے اعلان اور استغفارکے لئےیہ دعا کے الفاظ قرآنِ پاک میں سورت ۔۔ البقرۃ ۔۔کی آیت نمبر ۔۔285۔۔میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے۔۔۔

آپ کی آسانی کے لئے ان الفاظ کو تلاوت بھی کئے دیتے ہیں جو کہ اسکرین پر بھی آپ کو نظر آ رہے ہیں۔۔۔سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیرْیعنی ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی اے ہمارے رب آپ ہمیں بخش دیجیے اور آپ کی طرف لوٹنا ہے۔ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ  اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمہ وقت گناہوں سے پاک رہنا فرشتوں کی صفت ہے۔

ہمیشہ گناہوں میں غرق رہنا شیطان کی خصلت ہے۔ جبکہ گناہوں پر نادم ہوکر توبہ کرنا اور معصیت کی راہ چھوڑ کر شاہراہِ ہدایت میں قدم رکھنا اولادِ آدم علیہ السلام کا خاصہ ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ اس کی فطرت میں موجود اعلیٰ تربلند مقامات اور جاہ و منصب تک جانے کی خواہش کی آڑ میں اسے مرتبہ انسانیت سے گرانے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ پاک ہمیں بھی  اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اورہمارے تمام گناہ معاف  فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment