قرآنی الفاظ میں استغفار

Qurani Alfaz mai astaghfar

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ناظرین کرام کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔اللہ تعالی نے جس کام کو کرنے کا حکم فرمایا اس کو نہ کرنا گناہ ہے۔ ہر وہ شے جس کو اللہ پاک نے چھوڑنے کا حکم دیا اس کو نہ چھوڑنا گناہ ہے۔ امر ونہی دو چیزیں اس مرتبہ میں ہیں لہذا گناہ کبھی بڑا اور کبھی چھوٹا ہوتا ہے بڑا ہو تو کبائر میں آتا ہے۔ چھوٹا ہے تو صغائر میں آتا ہے۔

گناہ کے بعد اللہ سے معافی مانگنے کو استغفار کہتے ہیں۔معافی مانگنا یہ ہے کہ زبان سے کلمہ معافی طلب کرنا، دل سے اس پر نادم ہونا اور بدن سے عملاً چھوڑ دینا یہ استغفار کے تین درجے ہیں۔ یہ تین جزو ملیں تو کاملاً استغفار بنتا ہے۔ لوگ کثرت گناہ کے بعد توبہ کرتے ہیں۔ جبکہ مومن کی توبہ یہ ہے کہ ہر لمحہ اللہ کی طرف راغب، راجع اور تائب رہتا ہے۔ توبہ دراصل ایک دائمی کیفیت ہے۔اگر گناہ سے شرمندہ ہوئے اور گناہ سے جدا ہوگئے تو استغفار ہوا۔ استغفار یہ ہے کہ صرف دروازے پر کھڑے ہیں معافی مانگ لی اور گناہ کو چھوڑ دیا۔

جب کہ توبہ یہ ہے کہ جیسے گناہ کیا تھا اب شرمندہ ہوکر چھوڑ دیا ہے ویسے اللہ کی بندگی کی طرف پلٹ گئے۔ اس رجوع کو توبہ کہتے ہیں۔ گناہ چھوڑنے کو توبہ نہیں کہتے۔ گناہ سے معافی مانگنا توبہ نہیں یہ استغفار ہے۔ نیکی، اطاعت اور تقویٰ کی طرف پلٹ جانے کو توبہ کہتے ہیں۔اللہ رب العزت کے کرم کا اندازہ اس سے ہوتا ہے وہ کتنا رحیم کریم اور تواب ہے کہ بندہ گناہ کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ گناہ کے بعد نہ گناہ کا نقصان رہے بلکہ نفع میں بھی چلے جائے۔ جیسےموٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہنتے ہیں اس کو عربی میں مغفر کہتے ہیں۔ مغفر، مغفرت اور غفر سے ہے۔

گناہ سے معافی مانگ کر مغفر تو پہن لیا مگر شیطان پر حملہ نہ کرسکے مگر جب توبہ کی گویا تو شیطان پر حملہ کردیا۔مشہورزمانہ تفسیر’’روح المعانی‘‘کے مصنف حضرت علامہ سیّدمحمودآلوسی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت ’’لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ‘‘کی تفسیر میں فرماتے ہیں:میں نے الحمدللہ خوداس دعاء :’’لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ‘‘کی تاثیرکامشاہدہ کیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے ایک ولی مسافر نے مجھے اس دعاء کاحکم فرمایا… اس وقت مجھ پر ایسی آزمائش آئی ہوئی تھی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے…یعنی بہت سخت آزمائش اور تکلیف تھی جواس دعاء کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے دور فرمادی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمین ان الفاظ کو کثرت سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment