ایک یتیم بچی کی دکھ بھری رلا دینے والی داستان

Aik yateem bachii ki dukh bharii rula dyny walii dastaan

اس وقت میری عمر چار سال تھی میرے ابو کی کپڑ ے کی دوکان تھی ابو صبح سویرے دوکان پے جاتے اور شام کو آ تے تو ہمارے لیے بہت ساری کھانے کی چیزیں لے آ تے ہم لوگ بہت خوش رہتے تھے ایک دن ابو دوکان پے تھے کہ اچا نک امی کی طبیعت خراب ہو گئی ان کے پیٹ میں زور زور سے درد ہونے لگا میں دوڑ کر پڑ وسیوں کے گھر گئی اور ان کو بتا یا کہ میری امی کو کچھ ہو گیا تو وہ میرے ساتھ آ گئے تو ان کا بیٹا ابو کو فون کر نے لگا کہ آپ کی بیوی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے تو ابو دوکان بند کر کے آ گئے تو میری امی کو سول ہسپتال جھنک میں لے گئے جہاں امی کے کچھ ٹیسٹ کیے گئے۔ جس میں ڈاکٹر نے ابو کو کہا کے آپ کی بیوی کو بلڈ کینسر ہے یہ سن کر ابو کے تو ہوش ہی اڑ گئے میں امی کے پاس کھڑی رو رہی تھی تو ابو ڈاکٹر کے کمرے سے پریشان ہو کر نکلے اور مجھے گود میں لے کر کہا کہ بیٹا پریشان نہ ہو آ پ کی امی ٹھیک ہے۔پھر داکٹر نے ابو کو اپنے کمر ے میں بو لا یا اور ان کو کہا کہ آپ اپنی بیوی کو الا ئیڈ ہسپتال فیصل آباد لے جائیں شاید وہاں کچھ ہو جائے تو ابو نے مجھے کہا کہ بیٹی تم اپنی خالہ کے ساتھ گھر جاؤ ہم آپ کی امی کے کچھ ٹیسٹ کر ا کے آ تے ہیں تو میں اپنی خالہ کے ساتھ گھر آ گئی اور ابو امی کو لے کر فیصل اباد چلے گئے۔ میں امی کے بغیر کبھی نہیں سوئی تھی مجھے ساری رات نیند نہیں آ ئی میں امی کے بارے میں سوچتی رہی اور روتی رہی۔ صبح ہوئی تو ہم سب امی کے پاس گئے لیکن میری امی کی طبیعت بہت خراب تھی و ہ بول نہیں پا رہی تھی امی نے جب مجھے دیکھا

تو اس کی آ نکھوں سےآ نسو جاری ہو گئے تو میں بھی امی کو دیکھ کر رونے لگی تو امی نے میری خالہ کو اشارہ کیا کہ میری بیٹی کو میرے پاس لے آؤ تو میری خالہ نے مجھے امی کے پاس لے گئی تو امی مجھے اپنے سینے پے لیٹا کر زارو قطار رو رہی تھی تو ابو نے مجھے وہاں سے اٹھا یا اور با ہر لے گیا اور مجھے دہلا سا دیتا رہا۔کہ میری امی ٹھیک ہو جائے گی پریشان نہ ہوں۔ پھر ایک رات فون آ یا کہ امی اللہ کو پیار ی ہو گئی ہیں۔ ہم اس کی باڈی کو لے کر آ رہے ہیں جب مجھے بتا یا گیا کہ امی اس دنیا میں نہیں رہی ہیں تو میرے پاؤں تلے سے تو جیسے زمین نکل گئی ہو پھر مجھے نہیں پتہ کے میرے ساتھ کیا ہوا ہے جب میری آ نکگھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھی میں نے رونا شروع کر دیا کہ مجھے میری امی کے پاس جا نا ہے تو مجھے امی کے پاس لے کر آ یا گیا تو میری ماں کی م ی ت ج ن ا زے کے لیے تیار تھی تو اس طرح میری پیاری امی مجھے اس بے درد دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ وقت گزرتا گیا تو ابو نے دوسری شادی کر لی اور مجھ سے کہا کہ یہ تمہاری دوسری ماں ہے پہلے پہلے تو ان کا رویہ ٹھیک تھا مگر بعد میں بہت تبدیل ہو گیا وہ رہ وقت مجھ کو مارتی رہتی تھی اور بہت برا سلوک کرتی تھی اگر مجھ سے کوئی گلطی ہو جاتی تو پورا دن روٹی نہیں ملتی تھی۔

Leave a Comment