خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ ؑ کی پیدائش کا قصہ

Khatoon Jannat sayada Fatima ki paidaish ka kissa

جماعت و ثانی اور نبوت کا پہلا سال ہے۔ تاجدارِ کونو مکاں ، قبلہ گھائے قدسیاں ، شہنشاہ انبیاء ، رحمت مجتبیٰ محمدِ مصطفیٰ ﷺ کے گھر میں شہزادیِ کو نو مکاں سیدہ فاطمۃ الزہرہ کی تشریف آ وری ہونے والی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ کہف و سرور میں ڈو با ہوا ہے۔ ملا ئکہ نے احترام سے نگا ہیں جھکا رکھی ہیں۔ حوریں ملکا ئیں فردوسیں استقبال کے لیے سیدہ خطیجۃ القبرہ  کے ہجرہ منورہ کے اندر و باہر صفیں باندھی کھڑی ہیں۔ ایک طرف تو شان و شوکت کا یہ اہتمام ِ خاص کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف یہ حروف اور دل ہلا دینے والا منظر بنا ہوا ہےکہ جنا بِ خدیجۃالقبر ہ  کے پاس ان مخصوص لمحات میں کوئی عورت موجود نہیں ۔ اس قسم پرسی کا تصور کر تے ہی روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔ کائناتِ دل لرز جاتی ہے کہ مکہ معظمہ کے جس قابلِ سد احترام ہستی سے شرفِ ہمکلامی حاصل کر کے قریش کی عورتیں فخر کیا کرتی تھیں جس کے ایک پیغام پر پورے شہر کی عورتیں جمع ہو جا یا کرتی تھیں جس گھر میں آ نا باعث و عزت و افتخار سمجھا جاتا تھا ۔ آج اس قریش کی عظیم عورت یوں اکیلی ہے۔ نہ کوئی سہیلی ہے۔ نہ کوئی دایا ء ہے اور نہ ہی کوئی تیمار دار اور نہ غم غسار۔ قریش کی عورتیں جان چکی تھیں کہ شہر کی امیر ترین عورت اپنی دولت کا کافی حصہ خرچ کر چکی ہے
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دینِ اسلام سے محبت تھی اور وہ بھی کہا کرتی تھیں۔ کہ اس نے اپنے مال و دولت ایک فقیر کی گودلی میں ڈال دیا ہے ۔ اس نے قریش کے پیغامات کو ٹھکرا کر ابو طالب کے گھرانے کے اس یتیم سے نکا ح کیا ہوا ہے جس کے پاس اپنی ہی ایک کوڑی بھی نہیں ہے۔ ناظرین گرامی روضہ ِ شہدا میں ہے کہ جب سیدہ فاطمۃ الزہرا ی ولادت کا وقت قریب آ یا تو حضرت سیدہ خطیجۃالقبرہ  نے ایک شخص کو بھیجا کہ بیگماتِ قریش کو بلا لا ئے تا کہ میرے ساتھ تعاون کریں جیسا کہ عورتوں کو اس حال میں ضرورت ہو تی ہے۔لیکن ان عورتوں آنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگیں کہ تو ابو طالب کے گھر انے کی یتیم کی زوجیت قبول کر کے ہمارے نزدیک گنہگار ہو چکی ہے ۔ تو نے نگری سے درویشی کو بہتری سمجھ رکھا ہے۔ اس لیے ہم نہیں آ ئیں گی ۔ اور تیرے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر یں گی۔ ناظرینِ گرامی دیکھنے میں روضۃالشہدا یہ عبارت عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ سر کارِ دو عالم ﷺ سے جناب خدیجۃ القبرا  کو نکاح مبارک کیے ہوئے سولہ سال کا عرصہ ہو چکا تھا اور اس قدر طو یل عرصہ گزر جانے کے بعد قریش عورتوں کا یوں طعنہ زنی نا قابلِ فہم بات ہے۔ مگر اس کا پسِ منظر پر نظرِ غیر دیکھا جائے تو قریشی عورتوں کا یہ سلوک اچنبھے کی بات نہیں ۔

Leave a Comment