جو خاوند سے ناراض ہو کر والدین کے گھر چلی جاتی ہیں وہ پیارے نبی ﷺ کی یہ وارننگ پڑھ لیں۔

Jo khavand sy naraz ho ker waldain k gher chali jati han

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جوعورتیں روٹھ کر میکے جاتی ہیں ان کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے رسول اللہ ﷺ نے معراج کی شب عورتوں کو جہنم میں دیکھا تو واپسی پر کیا کہا ؟ایک عورت کی ذمہ داری کیا ہے ؟ وہ شوہر کے ساتھ کس طرح رہے جو عورتیں شوہر کی نافرمان ہوتی ہیں ان کے بارے میں اللہ کے محبوب ﷺ کے فرامین کیا ہیں ۔بخاری شریف کی روایت ہے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیںرسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے آگ دیکھی اور اس جیسا ہولناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیوں آپﷺ نے فرمایا ان کی ناشکری کی وجہ سے صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں آپﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ وہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیںاور ان کا احسان نہیں مانتی ۔ عورتوں کا حال یہ ہے کہ اگر عمر بھر ان کے ساتھ تم احسان کرتے رہو تمہاری طرف سے کوئی معمولی سی تکلیف بھی انہیں آجائے تو وہ کہیں گی میں نے تو تجھ سے کبھی سکون پایا ہی نہیں عمران بن حسین بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے جنت میں جھانکا تو اس میں اکثر لوگ فقراء تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو اس میں اکثر عورتیں تھیں اور اس کے سبب کے متعلق نبی ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں ۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیںکہ نبی ﷺ عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے لئے عید گاہ کی طرف نکلے تو عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمانے لگے اے عورتوں کی جماعت صدقہ و خیرات کیا کرو بے شک مجھے دکھایا گیا

ہے کہ تمہاری جہنم میں اکثریت ہے عورتوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیوں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم گالی گلوچ بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی نافرمانی کرتی ہو میں نے دین اور عقل میں ناقص تم سے زیادہ کوئی نہیں دیکھا تم میں سے کوئی ایک اچھے بھلے شخص کی عقل خراب کر دیتی ہے وہ کہنے لگیں اے اللہ کے رسول ﷺ تو ہمارا دین اور ہماری عقل میں کیا نقص ہےنبی ﷺ نے فرمایا کیا عورت کی گواہی نصف مرد کے برابر نہیں تووہ کہنے لگی کیوں نہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا تو یہ اس کی عقل کا نقصان ہے کہاجب کسی کو حیض آئے تو وہ نماز اور روزہ نہیں چھوڑتی؟وہ کہنے لگی کیوں نہیں تونبی ﷺ نے فرمایا یہ اس کے دین کا نقصان ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عید کے دن نماز میں حاضر تھاتو آپ نے خطبے سے قبل بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی پھر نماز کے بعد حضرت بلال ؓ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کرنے پر ابھارا اور لوگوں کو وعظ کی نصیحت کی پھر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور کہنے لگے اے عورتو صدقہ و خیرات کیا کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہےحضور ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تو عورتوں کے درمیان سے ایک سیاہ نشان رخساروں والی عورت اٹھ کر کہنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیوں؟تو نبی ﷺ نے فرمایا اس لئے کہ تم شکوہ و شکایات بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی نافرمانی اور ناشکری کرتی ہو ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment