3کام کبھی نہ کرنا ورنہ برباد ہوجاؤ گے

3 kam kabhi na kerna werna berbad hoo jao gy

3کام نجات دینے والے ہیں ۔3ہلاک کردینے والے ہیں ۔3کفارہ بننے والے ہیں گناہوں کا۔3 درجات کی بلندی کا باعث ہیں ۔کونسی 3 چیزیں ہلاک کردینے والی ہیں ۔بندہ بخیل ہے اور خوش ہے کہ میں صحیح کام کررہا ہو ں یہ ہلاکت میں ہے اس لئے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ بخیل جنت میں نہیں جائے گا اور سلف صالحین سب سے پہلے دیکھتے تھے ویسے تو بڑا خوبصورت ہے کہیں بخیل تو نہیں ہے جس کے ساتھ میں اپنی بیٹی کا نکاح کرنے لگا ہوں نہیں کروں گا کیا ہوا بڑا مالدار ہے بڑا خوبصورت ہے کہا اس نے جنت میں نہیں جانا تو فائدہ کیا ہوا میں اپنی بیٹی کو کیوں بھیجوں۔دوسرے چیز جو ہلاک کردینے والی ہے۔بندہ اپنے آپ کو دیکھے میرے جیسا کوئی نہیں ہلاک ہوگیا ۔ اسی حدیث میں آتا ہے میرے صحابہ اگر تم کوئی بھی گناہ نہ کرو میں اس سے بڑے گناہ کا خوف کھاتا ہوں کہیں تم میں عجب نہ آئے جا کہ میرے جیسا ہے ہی کوئی نہیں ایک بندہ خواہش کا غلام بن جائے ہلاک ہوجائے جو خواہش کا غلام بن جائے اس کا دشمن اس کے سارے شوق اس پر پورے کر لیتا ہے اور دشمن کون ہے شیطان ہے سارے شوق پورے کر لیتا ہے۔تین کونسی چیزیں نجات دینے والی ہیں خلوت و جلوت میں اللہ کا خوف اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے ۔انسان غصے میں ہو یا راضی عدل نہ چھوڑے انسان امیر ہے میانہ روی نہ چھوڑے کونسے تین کام ہیں جو انسان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ایک نماز پڑھی دوسری کا انتظار کرتا ہے کب وقت ہو میں وہ بھی نماز پڑھوں ۔سخت سردی ہے ٹھٹھر رہا ہے۔
لیکن وضو پورا ہی کرتا ہے کہتا ہے نہیں میں نے اللہ کے سامنے کھڑے ہونا ہے ۔ پیدل چل کر مسجد جاتا ہے اللہ گناہوں کا کفارہ بھی بناتے ہیں اور انعام دیکھئے گا ایک قدم اٹھتا ہے دس نیکیاں رکھتا ہے دس نیکیاں اور جب مسجد میں جاتا ہے وضو کر کے گیا ہے واپس آئے گا تو اتنا ثواب ملے گا جتنا حاجی حج کر کے آیا ہو اور اگر نیت بھی لے کر جائے کہ میں نے نیک مجلس میں بیٹھنا ہے وہاں کچھ سیکھنا ہے یا سکھانا ہے یہ اگر نیت بن جائے تو اللہ ذوالجلال کے پیغمبر کافرمان ہے مکمل حج کا اس کو بھی ثواب مل جائے گااور اگر اس کی نیت تھی میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھوں گا نہیں پہنچ پایا پہلے سے نماز کھڑی ہوگئی جو اسے فکر لاحق ہوئی اللہ کے پیارے پیغمبر فرماتے ہیں اللہ اس کا اجر اتنا لکھتے ہیں جتنے مسجد میں لوگ ہوتے ہیں۔اور ان سب کے برابر اس اکیلے کو اجر ملتا ہے اللہ کی رضا کے لئے لوگوں کو کھانا کھلانا سلام کو عام کرنا اور تہجد کی نماز پڑھنا آج مسلمانوں کو یہ آسان کام بھی پسند نہیں ہے دھکے اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ کوئی کھانا نہ کھا لے اللہ کے رسول فرماتے ہیں حج کا ثواب وہ لے سکتا ہے جو کسی کو اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلاتا ہے ۔سلام کو عام کرنا کتنا آسان ہے السلام علیکم زبان اس قدر بانجھ ہوجاتی ہے کہ کوئی سلام کرنے کے لئے سلام کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment