گناہوں سے معافی اور آگ سے نجات کی قرآنی دعا

Gunahoo sy mafii or Aag sy nijat

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔
ناظرین کرام کوآج کی بزم مییں بھی ۔۔۔۔۔ خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔یہ دعا اللہ کے محبوب اور متقی بندوں کی ہے جنہیں آخرت میں بہت نعمتیں حاصل ہوں گی۔۔۔ اس قرآنی دعا میں بیان کردہ تین باتیں ایک مسلمان کی زندگی کا اصل اثاثہ ہیں۔ ۔ اس لیے ان تین باتوں کو ہر وقت یاد رکھنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے۔ وہ ہر وقت اپنے ایمان کا جائزہ لیتا رہے کہ دین کی بنیادی باتوں اور رسول اللہ ﷺکی بنیادی دعوت کے بارے میں اس کے ایمان میں کوئی کمزوری تو نہیں۔ وہ کہیں شک کا مریض تو نہیں۔۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے اسے یقین کی قوت سے محرومی کا احساس ہو اور دوسری یہ بات کہ وہ اللہ کی شریعت پر عمل کرتے ہوئے کہیں اس بات کو کافی تو نہیں سمجھتا کہ بس فرض کی ادائیگی کسی طرح بھی ہوجائے وہ میرے لیے کافی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ تقویٰ کی زندگی سے بہت دور ہے۔اسے ہمیشہ اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے رہنا چاہیے اور تیسری یہ بات کہ وہ جیسے جیسے نیکی اور تقویٰ میں آگے بڑھتا جائے ویسے ویسے اس کے اندر یہ تصور اترتا چلا جائے کہ یہ نیکی کا عمل میری ہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ سراسر اللہ کی دین اور اس کی توفیق ہے۔ میرا دل و دماغ اسی کے قبضے میں ہے۔ میرے عمل کی کاوشیں بھی اسی کی عطا ہیں۔ وہ اگر نہ چاہے تو میں کوئی سی نیکی نہیں کرسکتا۔

وہ نیکی کرنے سے پہلے اس سے توفیق مانگے اور نیکی کرنے کے بعد اس پر شکر ادا کرے اور اس کی قبولیت کے لیے دعا مانگے۔۔۔ آج کی اس قرآنی دعا کے الفاظ قرآنِ پاک میں سورت ۔۔آل عمران۔۔کی آیت نمبر ۔۔16۔۔میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے تاکہ۔۔۔دنیا وآخرت کے فائدے آپ بھی حاصل کرسکیںاسی لئے آپ کی آسانی کے پیش نظر ان الفاظ کو تلاوت بھی کئے دیتے ہیں جو کہ سکرین پر بھی آپ کو نظر آ رہے ہیں۔۔۔رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِیعنی اے ہمارے رب ۔۔۔ہم یقیناً ایمان لے آئے ہیں ہمارے گناہوں کو معاف فرمادیجئے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے۔۔۔ناظرینِ اکرام ۔۔۔۔آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اصل کامیابی جہنم کی آگ سے بچنا ہے۔ دنیا کی مختصر زندگی جیسے کیسے حالات میں گزر جاتی ہے،لیکن آخرت کی ابدی زندگی میں اس کے لیے دو ہی راستے ہیں ایک جنت کا راستہ جو کامیابی کی صورت میں ملے گا اور دوسرا جہنم کا راستہ جو ناکامی کی صورت میں مقدر ہوجائے گا۔ اس لیے جو شخص جہنم کا سزاوار ٹھہرا اس سے زیادہ بدنصیب اور ناکام کوئی شخص نہیں اور جسے اللہ نے جنت سے نوازا اس کی کامیابی کے کیا کہنے۔۔۔۔۔ اس لیے قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا ھے کہ جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ٹھہرا۔۔۔اسی لئے ہماری دعا ھے اللہ پاک ہمیں بھی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور ہماری دنیا اور آخرت کی زندگی کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment