بخشش طلب کرنے کی دعا

Bakhshish talab kerny Qurani Dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔
ناظرین کرام کوآج کی بزم مییں بھی ۔۔۔۔۔ خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔بخشش طلب کرنے یا توبہ و استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے سیکھے تھے۔ شیطان نے جب اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد نہ صرف وہ اس پر اڑ گیا، بلکہ اس کے جوازو اثبات میں عقلی دلائل بھی دینے لگا۔ نتیجتاً وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لیے ملعون قرار پایا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی بھول پر ندامت و پریشانی کا اظہار اور بارگاہ الہی میں توبہ و استغفار کا اہتمام ان الفاظ میں کیا، تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یہ الفاظ قرآنِ پاک میں سورۃ الاَعراف کی آیت نمبر 23 میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے تاکہ۔۔۔دنیا وآخرت کے فائدے آپ بھی حاصل کرسکیںاسی لئے آپ کی آسانی کے پیش نظر ان الفاظ کو تلاوت بھی کئے دیتے ہیں جو کہ سکرین پر بھی آپ کو نظر آ رہے ہیں۔۔۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَیعنی اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔۔۔زما وائس چینل کے پیارے دوستو۔۔۔گناہ کر کے اس پر اترانا ، اصرار کرنا اور اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے “دلائل ” کے انبار فراہم کرنا شیطانی راستہ ہے۔ اور گناہ کے بعد احساس ندامت سے مغلوب ہو کر بارگاہ الہی میں* جھک جانا اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا بندگان الہی کا راستہ ہے۔ آپ ان الفاظ کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں کیونکہ اگر اللہ نے ہمارے حال پہ رحم نہ فرمایا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔۔۔دعا ھے اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور ہمیں یہ قرآنی دعا پڑھنے والا بنائے۔۔۔۔ آمین۔۔

Leave a Comment