استغفار کی دعا ۔۔۔۔

Astaghfar ki dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔
ناظرین کرام کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا استغفار کا معمول یوں بیان فرمایا کہ الله کی قسم میں دن میں ستر بار سے زیادہ الله تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔آنحضرت صلى الله عليه وسلم اتنی کثرت سے استغفار وتوبہ اس لیے نہیں کرتے تھے، کہ معاذ الله آپ صلى الله عليه وسلم گناہ میں مبتلا ہوتے تھے، کیوں کہ آپ صلى الله عليه وسلم معصوم تھے،بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم مقام عبدیت کے سب سے اونچے مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے اپنے طور پر یہ سمجھتے تھے کہ شاید مجھ سے خدا کی بندگی وعبادت میں کوئی قصور ہو گیا ہو اور میں وہ بندگی نہ کر سکا ہوں ، جو رب ذوالجلال والاکرام کی شان کے لائق ہے، اور اس سے مقصود اُمّت کو استغفار وتوبہ کی ترغیب دلانا تھا کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم باوجود یکہ معصوم اور خیر المخلوقات تھے، جب آپ صلى الله عليه وسلم نے دن میں ستر بار توبہ واستغفار کی، تو گناہ گاروں کو بطریق اولیٰ استغفار وتوبہ بہت کثرت سے کرنی چاہیے۔ چناچہ حدیث میں آپ ﷺ کے استغفار کی دعا منقول ہے ۔یہ دعا کے الفاظ حدیث میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے۔۔۔ آپ کی آسانی کے لئے ان الفاظ کو تلاوت بھی کئے دیتے ہیںاللھم لک الحمد،أنت نور السموت ِوالأرض ومن فیھن،ولک الحمد،أنت قیوم السموتِ والأرض ومن فیھن،ولک الحمد،أنت الحق،ووعدک حق،وقولک حق،ولقائُک حق،والجنۃ حق،والنارحق،والساعۃ حق،والنبیون حق،ومحمد حق،اللھم لک أسلمت،وعلیک توکلت،وبک آمنت،والیک أنبت،وبک خاصمت،والیک حاکمت،فاغفرلی ما قدمت وما أخرت،وما أسررت وما أعلنت،أنت المقدم وأنت المؤخر،لاالہ الا أنت۔
یعنی اے خدا ، آپ کے لئے حمد ہے ، آپ آسمان و زمین اور اس میں روشنی کا نور ہیں ، اور آپ کی حمد ہے ، آپ زمین وآسمان کی اقدار ہیں اور ان میں جو ہیں ، اور آپ کی حمد ہے ، آپ حق ہیں ، اور آپ کا وعدہ حق ہے ، اور آپ کا قول صحیح ہے ، اور آپ لی ملاقات حق ہے ، اور جنت حق ہے ، اور جھنم حق ہے، اور قیامت حق ہے ، اوی نبی حق ہیں ، اور محمد ﷺحق ہیں ، اے اللہ ، میں نے آپ کے لئے اسلام قبول کرلیا ، آپ پر بھروسہ کیا ، میں نے آپ پر یقین کیا ، اور میں آپ کی طرف متوجہ ہوا ، اور میں نے آپ کے لئے مقابلہ کیا ، اورمیں نے آپ کی طرف فیصلہ لوٹا دیا ، پس آپ میرے وہ گناہ بخش دیجیے جو میں نے پہلے کئے اور جو بعد میں کئے ،اور جو میں نے چھپ کر گناہ کئے، اور جو میں نے ظاہری گناہ کئے ، اورآپ ہی مقدم ہیں اور آپ ہی کی ذات موخر ہے ، کوئی معبود نہیں ہے مگر آپ ہی ۔ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس نبوی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو نماز تہجد کے لئے کھڑے ہوتے تو یہی کہتےتھےاللہ پاک ہمیں بھی اس دعا کو پڑھنے والا بنائے اورہمارے تمام گناہوں سے در گزر فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment