موسی علیہ السلام کے استغفار کی دعا ۔۔۔۔

Hazrat mussa k Astaghfar ki dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔
ناظرین کرام کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔قرآن و حدیث میں بیش تر مواقع پر قدرتی آفات اور آسمانی مصائب اللہ کی طرف سے مقررکردہ طرزِ زندگی سے انحراف، سرکشی اور بغاوت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یہ درحقیقت اللہ کی جانب سے انتباہ اور یاد دہانی ہوتے ہیں کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی اور اُس کی نافرمانی چھوڑکر اللہ کے دامنِ رحمت میں پناہ تلاش کی جائے۔’’سُورۂ توبہ‘‘ میں ارشاد ہوتا ہےترجمہ ہے کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم اُنہیں سال میں ایک دو مرتبہ کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا کردیتے ہیں، کیا یہ یاد دہانی بھی انہیں اس بات پر آمادہ نہیں کرتی کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور نصیحت پکڑیں۔‘‘ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان پریشانیوں سے نجات کا ایک ذریعہ بتایا ہےجو استغفار کو اپنے اوپر لازم قرار دے لیتا ہے تو الله تعالیٰ اس کو ہر رنج وغم سے نجات دیتا ہے او راس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ نکال دیتا ہے، او راسے ایسی جگہ سے پاک وحلال روزی بہم پہنچاتا ہے، جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ چناچہ استغفار کے لئے یہ دعا کے الفاظ قرآن پاک کی سورت القصص کی آیت نمبر 16 میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے۔۔۔ آپ کی آسانی کے لئے ان الفاظ کو تلاوت بھی کئے دیتے ہیں جو کہ اسکرین پر بھی آپ کو نظر آ رہے ہیں۔۔۔رَ‌بِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى فَاغفِر‌لى فَغَفَرَ‌لَهُیعنی اےمیرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا لہذا آپ مجھے بخش دیجیے پس اللہ نے ان کو بخش دیا ۔
ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک قِبطی اور ایک اسرائیلی کسی بات سے آپس میں جھگڑرہے ہوتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اسرائیلی کی حمایت کرتے ہوئے قبطی کو ایک مکہ مارتے ہیں جس سے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ فوراً اپنی کوتاہی اور غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہی استغفار کرتے ہیں۔رَ‌بِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى فَاغفِر‌لى فَغَفَرَ‌لَهُ…لہذا اللہ پاک ہمیں بھی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور ہماری تمام خطاؤں کو معاف فرمائے۔۔۔۔آمین ۔۔۔

Leave a Comment