جب اسم اعظم سے دعا کی جائے قبول ہوگی ۔۔۔۔

Quran kream ki Aik Quranii Aayat

کثیر بن سعید فرماتے ہیں ”میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ”کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟“ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ کی ذات پاک ہے، بیشک میں قصوروار ہوں ۔ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت حسن رحمہ اللہ نے یہی آیت لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» تلاوت فرمائی اور فرمایا ”بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔ مقاصد کے حل کے لیے بھی یہ آیت پڑھنے کی طرف اشارہ قرآنِ مجید میں موجود ہے، جب کہ حدیث میں بھی اس کا ذکر ہے، سورہ انبیاء میں ہےکہ جس طرح ہم نے یونس علیہ السلام کو (اس دعا کی برکت سے) غم ومصیبت سے نجات دی، اسی طرح ہم اب مؤمنین کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں، جب کہ وہ صدق واخلاص کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہم سے پناہ مانگیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالنون (حضرت یونس علیہ السلام) نے جو دعا مچھلی کے پیٹ میں کی تھی، جو مسلمان بھی اپنے کسی مقصد کے لیے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالی اس کو قبول فرمائیں گے۔‏‏‏‏ لہذا اللہ پاک ہمیں بھییونس علیہ السلام کی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور تمام مشکلات کو حل فرمائے۔۔۔۔آمین ۔۔۔۔

Leave a Comment