سعودیہ عرب کے ایک بزنس مین کا خواب

Saudia arab k aik bussines man ka khawab

سعودی عرب کے ایک بزنس مین نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا ہے کہ : تمہاری کمپنی کے آفس کے مین گیٹ کے سامنے فلاں شخص جو پھل بیچتا ہے اس کو عمرہ کرا دو۔نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا، مگر اس نے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کردیا ، تین دن مسلسل ایک ہی خواب نظر آنے کے بعد وہ شخص اپنے علاقے کی جامع مسجد کے امام کے پاس گیا اور اسے خواب سنایا۔امام مسجد نے کہا : اس شخص سے رابطہ کرو، اور اسے عمرہ کروا دو ۔ اگلے روز اس شخص نے اپنی اس کمپنی کے ایک ملازم سے اس پھل فروش کا نمبر معلوم کرنے کو کہا ،بزنس مین نے فون پر اس پھل فروش سے رابطہ کیا اور کہا کہ : مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرواوٴں، لہذا میں اس نیک کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں ۔ پھل فروش زور سے ہنسا اور کہنے لگا : کیا بات کرتے ہو بھائی ۔؟ میں نےتو مدت ہوئی کبھی فرض نماز ادا نہیں کی اور بعض اوقات شراب بھی پیتا ہوں ۔ تم کہتے ہو کہ تم مجھے عمرہ کروانا چاہتے ہو ۔! بزنس مین اصرار کرنے لگا،اور اسے سمجھایا کہ : میرے بھائی! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں، سارا خرچ میرا ہوگا ۔ خاصی بحث اور تمہید کے بعد آدمی اس شرط پر رضامند ہوا کہ : ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کرونگا، مگر تم مجھے واپس ریاض میرے گھر لیکر آوٴ گے، اور تمام تر اخرجات تمہارے ہی ذمہ ہونگے ۔ وقتِ مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو بزنس مین نے دیکھا کہ ، واقعی وہ شکل وصورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا،

اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جسے عمرہ کرنے کے لئے خواب میں تین مرتبہ کہا گیا !دونوں مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کر کے احرام باندھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے بیت اللّٰہ کا طواف کیا۔ مقامِ ابرہیم پر دو رکعت نماز ادا کی، صفا و مرہ کے درمیان سعی کی۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اس طرح عمرہ مکمل ہو گیا۔اب انھوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ حرم سے نکلنے لگے تو پھل فروش بزنس مین سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا : دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں، نجانے دوبارہ عمرہ کی توفیق ہوتی بھی ہے یا نہیں ۔ اسے کیا اعتراض ہوتا اس نے کہا : نفل پڑھو اور بڑے شوق سے پڑھو ۔اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ جب سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا ، جب کافی دیر گزرگئی تو بزنس مین نے اسے ہلایا ، جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ پھل فروش کی روح حالتِ سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی۔ پھل فروش کی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ رو پڑا کہ : یہ تو حسنِ خاتمہ ہے، کاش! ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی، ایسی موت تو ہر کسی کو نصیب ہو ۔ وہ اپنے آپ سے ہی یہ باتیں کر رہا تھا ، اس خوش قسمت انسان کو غسل دیا گیا، اور احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں فرزندان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی ۔!

اس دوران اس کی وفات کی اطلاع ریاض اسکے گھر والوں کو دی جا چکی تھی، بزنس مین نے اپنے وعدے کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا، جہاں اسے دفن کر دیا گیا۔ بزنس مین نے پھل فروش کی بیوہ سے تعزیت کرنے کے بعد کہا : ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے شوہر کی ایسی کونسی عادت یا نیکی تھی کہ اس کا انجام اس قدر عمدہ ہوا اور اسے حرمِ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی ۔ ؟ بیوہ نے کہا : بھائی! میرا خاوند کوئی نیک و کار آدمی تو نہیں تھا اور اس نے ایک لمبی مدت سے نماز روزہ بھی چھوڑ رکھا تھا، میں اسکی کوئی خاص خوبی بیان تو نہیں کر سکتی،ہاں ۔! مگر اس کی ایک عادت یہ ضرور تھی کہ ، وہ ہمارے ہمسایہ میں ایک غریب بیوہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیساتھ رہتی ہے، ‘میرا شوہر روزانہ بازار جاتا تو جو چیز اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کی لاتا وہ اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کیلئے بھی لے آتا ، اور اس کے دروازے پر رکھ کر اسے آواز دیتا کہ : اے بہن! میں نے کھانا باہر رکھ دیا ہے، اسے اٹھا لو ۔ یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور آسمان کی جانب سر اٹھا کر دیکھتی اور کہتی : اے اللہ رب العزت! آج پھر اس شخص نے میرے بھوکے بچوں کو کھانا کھلایا ۔ اے اللہ رب العزت! اس کا خاتمہ ایمان پر فرما ۔ میرے محترم و مکرم قارئین کرام حاصل کلام یہ کہ، زندگی تو جیسے تیسے بحرحال گزر ہی جانی ہے ، لیکن جس قدر ممکن ہو، اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی مدد کرتے رہا کیجیئے، کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ : کسی سے کی گئی بھلائی ، بری موت سے بچاتی ہے ۔ اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار و سیاہ کار سمیت ہم تمام مسلمانان عالم کو ہر طرح کی برائیوں سے اپنی پناہ میں محفوظ فرما کر اپنے مسکین و یتیم و بیوہ اور ہر ضرورت مند کی ریاکاری سے پاک امداد کرنے کی سعادت فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کا بھی خاتمہ ٹھیک اسی طرح بالخیر فرمائے ۔آمین

Leave a Comment