’نمازِ حاجت ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟‘‘اگر آپ کو کو ئی حاجت درپیش ہو تو نبی کریم ؐ کے بتائے طریقے سے دو کعت نماز ادا کریں

Nimazy hajat ada kerny ka treeka

نماز کی ضرورت پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟” اگر آپ کو کوئی حاجت ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے انداز میں دو نمازیں پڑھیں اور پھر آخر میں اس دعا کی تلاوت کریں۔ دعا اس طرح قبول ہوگی کہ آپ بھی سبحان اللہ کہیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالی یا کسی مخلوق کی طرف سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے:وہاں کوئی معبود نہیں لیکن رحمن سبحان اللہ ، عرش کا مالک ، اللہ کی حمد ہے ، رب العالمین ، آؤ أ s أ تاریک ہوکر ولا ہما کے علاوہ کل برآمدات سوائے فرجت ولا کسی بھی قسمت کی خوشنودی سے نجات پائے۔ قازت لی ماجن ، سنن ، کتب اقامت الصلا و السنہ فیھا ، باب ما جا فی فی صلا الحجاجہ ، 2: 171 ، 172 ، نمبر 1384۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ جو غالب ہے ، عرش کا مالک ہے تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔ (اے اللہ!)میں تیرے فضل سے ، مغفرت کے ذریعہ ، نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں۔ مجھے معاف کردو ، میرے سارے دکھ دور کرو اور میری ساری ضروریات پوری کرو جو تمہاری رضا کے مطابق ہوں۔ ۔ T: ترمذی ، ابن ماجہ ، احمد ابن حنبل ، حکیم ، ابن خزیمہ ، بیہقی اور طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف سے روایت کیا ہے: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مدد کے لئے ایک نابینا ساتھی دیا۔ رکعت نماز کے بعد ، آپ نے دعا کے بعد دعا کی

دعا کی ، جس کی برکت سے اللہ تعالی نے اس کی بینائی بحال کردی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دو فائدے کے لئے اسی طرح دو رکعت نماز کے بعد دعا فرماتے تھے: أِنِّي أَسَأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ لَِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ! قِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ لَِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقضَى ، اَللّٰهُمَّ! فَشَفِّعْهُ فِيَّ. ابن ماجہ ، السنن ، اس میں نماز اور سنت کے قیام کی کتاب ، صلو الحجات میں باب ماجہ ، 2: 172 ، نمبر: 1385 “اے اللہ! میں آپ سے پوچھتا ہوں اور حضور نبی اکرم صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے آپ کی طرف توجہ دلاتا ہوں ، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے توسط سے میں اپنے رب کو اپنی حاجت پوری کرنے کی پیش کش کرتا ہوں۔ اے اللہ میرے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔

Leave a Comment