مدینہ منورہ کے مضافات میں ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹی تھی جوجامعہ میں پڑھتی تھی وہ جامعہ سے واپس گھرآئی

Madina manwera k muzafat

مدینہ منورہ کے مضافات میں ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹی تھی جوجامعہ میں پڑھتی تھی ایک دن وہ جامعہ سے واپس گھر آئی گاڑی سے اترتے وقت ایک لڑکے نے اس کا چہرہ دیکھ لیا لڑکی بہت حسینہ وجمیلہ تھی لڑکے کو پسند آئی اس نے پتہ کیالڑکی خطیب صاحب کی بیٹی تھی لڑکے نے اسی دن سے صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام شروع کیا اذان سنتے ہی وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ جاتا نماز تک تلاوت قرآنمیں مشغول رہتا تھا چھ سات مہینے تک وہ اسی معمولات کا پابند رہااسکے بعد اس نے والد سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا والد نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لینگے مناسب رشتہ اس نے کہا کہ لڑکی میں نے دیکھ لی ہے والد کے پوچھنے پر اس نے خطیب صاحب کی بیٹی کے بارے میں بتایا اس نے کہایہ توبہت اچھی بات ہے امام صاحب سے ملتے ہیں عمائدین محلہ کیساتھ امام صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے امام نے لڑکے کے بارے میں پوچھا انہوں اسی لڑکے کے طرف اشارہ کیا خطیب نے لڑکے کی دینداری کو دیکھ رشتہ لڑکی سے مشورہ کرنے اور رضامندی ظاہر کرنے پرقبول کیا،چنانچہ رشتہ طے ہوا چھ سات ماہ بعد شادی ہوئی.شادی کےکچھ عرصہ بعد لڑکے نے نماز پڑھنے میں سستی شروع کی ایک دوماہ بعد لڑکے نے ڈاڑھی کاٹ دی گھر آنے پر لڑکی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس نے کہا کہ یہ نمازیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لئے پڑھ رہاتھا اب مقصد حاصل ہو چکا ہے اب کیا ضرورت، لڑکی یہ سن کر بہت افسردہ خاطر ہوئی اور جاکر والد صاحب سے کہا کہ اس بے دین کیساتھ ایک دن نہیں رہنا چاہتی یہ معاملہ محکمہ عدل تک پہنچ گیا

قاضی نے دونوں میں تفریق کافیصلہ کیا لڑکا بہت پریشان ہوا اس نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی کو دوبارہ نہ پا سکا لڑکے نے ایک جادو گرسے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جادگر نے بڑے رقم ادا کرنے کامطالبہ کیا لڑکے نے سارے پیسے پیشگی ادا کئے کچھ دن گذر نے کےبعد جادوگر نے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لڑکےنے فی الفور وہ بھی اداکئے اور کہا کہ کامہوجانا چاہئے پیسوں کا فکر نہ کرے.ایک ماہ کے بعد جادوگرنے لڑکے کو بتایا آجاو اپنے پیسے لے جا تمہارا کام کسی صورت میں ممکن نہیں ہے، جب وہ لڑکا جادوگر کے کمرے میں پہنچا تو جادوگر ایک بڑا چاقو ہاتھ میں لیے کھڑاہے لڑکےنےحیرت زدہ انداز میں پوچھا یہ کیا کر رہے ہو جادوگرنے کہا مجھے قتل کردو ورنہ دوقتل کردئےجائنگے لڑکے نے کہا میں یہ نہیں کر سکتا لہذا میرے پیسے دےدواس نے پیسے دے دئے لڑکا پیسے لیکر بھاگنے لگادریں اثناء پولیس والے نے لڑکے کو پریشان حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھ گرفتار کر لیا پیسے ضبط کر لئے لڑکےکے توسط سے پولیس جادوگر تک پہنچ گئے جادوگر نے پولیس کو کہا مار ڈالو میں مرنے والا ہوں مجھے وہ نہیں چھوڑیں گے پولیس نے دونوں کو قاضی کے پاس لے گئے قاضی کوجادو گرنے پوری کہانی سنائی کہ ھم استمدادبالشیاطین کے ذریعے جادو کا عمل کرتے ہیں اور کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اس لڑکی پر جب میں نے یہ عمل کیا اور شیطانوں سے مددحاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گھر کے حفاظت پرفرشتے مامور تھے پھر میں نے دوسرا عمل کیا تب بھی فرشتے مامور تھے

لیکن پہلے سے تعداد میں زیادہ اسکے بعد میں نے رئیس الشیاطین سے مددلینے کی کوشش کی اس بار جب وہ گھرکے پاس گئے تو وہاں جبرائل آمین کھڑے تھے اس دن کے بعد سے اب مجھے وہ شیطانی گروہ مارنے پر تلے ہیں.قاضی حیران ہوا اس نے خطیب صاحب کو بلایا جب امام صاحب تشریف لائے تو انہوں نے پوچھاکیا عمل کرتے ہو کہ فرشتےآپ کےگھر کےحفاظت پر مامور ہیں اس نے پوچھا کیوں کیاہوا کیونکہاس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں کیاچل رہاہے جب انہوں نے امام صاحب کوپوری کہانی سنائی توخطیب صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر میں صبح روزانہ سورہ بقرہ کی تلاوت ہوتی ہے اور جس گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت ہوتی ہے اس پرجنات اور شیاطین اثرنہیں ہوتا۔۔۔نیک خاندان کی حفاظت کےلئے اللہ پاک ایسے انتظام فرماتاہے۔

Leave a Comment