وظائف کر کے تھک چکے ہیں اور دعا قبول نہیں ہوتی

Wazaif ker k thak chuky han

آج جو بات میں آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی ہوں ۔ اس بات میں اللہ تعالیٰ کا اسم ِ مبارک کے بارے میں جو ستارے پر لکھا ہوا ہے۔ اس اسمِ اعظم کے بارے میں جو ستارے کا اسمِ اعظم ہے۔ جو بھی اس کو پڑھے گا۔ اس کے بعد جو بھی ما نگے گا۔ اللہ تعالیٰ فوری طور پر ہر دعا قبول فرما ئیں گے۔ اور فوری طور پر عطا فرما ئیں گے۔ میں پہلے بھی آپ سے ذکر کر چکی ہوں کہ بہت ہی اللہ والے تھے۔ اللہ کے بندے تھے۔ اللہ کے ولی تھے۔ ان کا بتا یا ہوا عمل ہے۔ یہ عمل ان سے منقول ہے۔ تو انشاء اللہ آپ اس کو ضرور کریں اور اس کا فائدہ ضرور حاصل ہوگا۔ بغور سنیے گا۔ اس میں میں اس عمل کے بارے میں ذکر کر وں گی۔جیسا کہ میں نے آپ سے ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اعظم آپ سے ذکر کروں گی ۔اس اسمِ اعظم کے ذریعے جو بھی آپ مانگیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فر مائیں گے۔ کیونکہ اسمِ اعظم کی یہ خصوصیت ہے کہ اسم اعظم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اسمِ اعظم کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ما لا مال فر ما دیتے ہیں۔ وہ اپنے رب سے اسمِ اعظم کی بدولت جو بھی پاتا ہے ۔ سب کچھ پا لیتا ہے۔ اسمِ اعظم کے صدقے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ہر دعا قبول فر ما تا ہے اور اپنے بندے کی حاجت پوری کر دیتا ہے۔ اور اس کی ہر مشکل آ سان کر دیتا ہے۔ جن لوگوں کو اسمِ اعظم کا راز ہاتھ لگ جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں نام یافتہ بنا دیتے ہیں۔ نا ختم ہو نے والی دولت نصیب میں آ تی ہے۔
نا ختم ہونے والی عزت ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ اسمِ اعظم کی یہ کنجی کو آپ نے اچھے سے سنبھال کر رکھنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر نا ہے۔ انشا ء اللہ تعالیٰ کی شان میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فیوض و بر کات سے نوازنے پر قادر ہیں۔ انشاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ کی شان ہی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمان ہیں۔ جب اس اسمِ اعظم سے اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے تو اللہ تعالیٰ کی شان ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں آپ کو حاصل ہو نگی۔ کیونکہ اسمِ اعظم ایسا ہی ہے جو ستارے پر لکھا ہوا ہے۔ حضرت سیر ی سختی ؒ سے منقول ہے کہ اسمِ اعظم حضرت سیر سختی ؒ یحیحیٰ ؒ جو قبیلہ طئی کے ان سے نقل کرتے ہیں کہ اس آ دمی کی اچھی تعریف فر ماتے کہ نہایت ہی نیک ہے۔

Leave a Comment