گردے مثانے یا پتے میں پتھری ہو تو اس آیت مبارکہ کو چند دن پانی پر دم کر کے پی لیں ۔

Gurdy, masany ya paty mai pathrii ho to

کسی کے بھی گردے میں پتہ میں یا مثانے میں اگر پتھری ہو تو یہ عمل کرلیجئے انشاء اللہ عزوجل پتھری جیسی بھی ہوگی چھوٹی ہوئی یا بڑی ہوئی اس قرآنی عمل کی برکتوں سے نکل جائے گی۔اس عمل کو کرنے کے لئے آپ کو عام اجازت ہے کسی خاص اجازت کی ضرورت نہیں ہے جو بھی مسلمان بہن بھائی یہ عمل کرنا چاہتا ہو وہ بغیر اجازت لئے کرسکتا ہے اور اس عمل کو اگر مریض خود نہ کرسکتا ہو تو کوئی دوسرا بھی مریض کے لئے یہ عمل کرسکتا ہے تو پارہ نمبر 1 سورہ بقرہ آیت نمبر 74: ثُـمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْـهَارُ ۚ وَاِنَّ مِنْـهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ ۚ وَاِنَّ مِنْـهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّـٰهِ ۗ وَمَا اللّـٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔اس آیت مبارکہ کو آپ نے اکتالیس مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرلینا ہے اور اس دم شدہ پانی کو اگر آپ کود مریض ہیں تو آپ نے اسی طریقے کے مطابق روزانہ اکتالیس مرتبہ پانی پر دم کر کے پی لینا ہے یا اگر کوئی اور مریض ہے تو آپ نے روزانہ باقاعدگی کے ساتھ اسی طریقے کے مطابق اس آیت مبارکہ کو اکتالیس مرتبہ پانی پر دم کر کے مریض کو پلاتے رہنا ہےانشاء اللہ عزوجل اس عمل کی برکت سے جہاں پر بھی پتھری ہوئی مثانے میں ہوئی پتے میں ہوئی یا گردے میں ہوئی تو اس عمل کی برکتوں سے وہ خارج ہوجائے گی اور مریض کو اس تکلیف سے نجات مل جائے گی تو اس عمل کی جو مدت ہے وہ تاحصول شفا ہے یعنی جب تک شفاء نہ ملے آپ پورے یقین کے ساتھ اللہ پاک کی رحمت سے باامید ہوکر اس عمل کو کرتے رہئے انشاء اللہ ضرور اس عمل کا آپ کو فائدہ حاصل ہوگا ۔

گردے آپ کے اعضاء کا وہ جوڑا ہے جو آپ کی پشت میں موجود ہوتا ہے۔ اس میں سے ہر ایک گردہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کی کسی ایک طرف موجود ہوتا ہے۔ یہ آپ کے خون کی صفائی اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج کا کام کرتے ہیں۔ گردے زہریلے مادوں کو خون میں سے چھان کر مثانے کی طرف بھیج دیتے ہیں جہاں سے یہ پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر نکل جاتے ہیں۔ گردے فیل ہونے کا مطلب گردوں کی، اپنی خون سے فاسد اور زہریلے مادوں کو چھاننے کی، صلاحیّت سے محروم ہو جانا ہے۔ گردوں کے فیل ہونے کی علامات:گردے فیل ہونے کے شکار کسی بھی فرد میں کوئی تھوڑی بہت علامات اکثر موجود ہوتی ہیں۔ مندرجہ ذیل گردے فیل ہونے کی علامات ان کے فوری تدارک کی متقاضی ہوتی ہیں: پیشاب کی مقدار میں کمی؛ ٹانگوں، ٹخنوں اور پیروں کی سوجن؛ بلا وجہ سانس کا پھولنا؛ بہت زیادہ نیند کا آنا یا تھکاوٹ؛ تادیر برقرار رہنے والی متلی؛ ابہام یا کنفیوژن؛ چھاتی میں درد یا دباؤ؛ سکتہ ؛ اور بیہوشی۔گردے فیل ہونے کی ابتدائی علامات:گردوں کا فیل ہونا ایک مرحلہ وار عمل ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے کی علامات اتنی واضح نہیں ہوتیں۔ یہ عام طور پر ظاہر نہیں ہوتیں اور ان کی پہچان مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے جیسے ہی مندرجہ ذیل گردے فیل ہونے کی علامات ظاہر ہوں فوری طور پر ان کے تدارک کے بارے میں کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے: پیشاب کی مقدار میں کمی؛ جسم سے مائعات کے اخراج کی کمی وجہ سے ٹانگوں اور بازؤں کی سوجن؛ اور سانس پھولنا۔گردے فیل ہونے کی علامات ظاہر ہونے کی وجوہات : گردوں کی طرف خون کی سپلائی کا کم ہونا:
گردون کی طرف ایک دم سے خون کی سپلائی کا رکنا انکے فوری طور پر فیل ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایسی بعض کیفیات کہ جن میں یہ سپلائی کم ہو جاتی ہے درجِ ذیل ہیں: دل کا دورہ؛ دل کی بیماری؛ جگر کا سخت ہوجانا یا فیل ہو جانا؛ پانی کی کمی؛ بہت زیادہ جل جانا؛ کوئی الرجیائی ردِّ عمل؛ کوئی شدید انفیکشن۔بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا؛ اور کسی سوجن دور کرنے کی دوا کا ذیلی اثر۔ بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا اور سوجن دور کرنے کی دوائیں بھی گردوں کی جانب خون کی سپلائی میں کمی لانے کا سبب بنتے ہیں۔ پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ: پیشاب کے خارج ہونے کے راستے میں کسی رکاوٹ یا بیماری کی وجہ سے پیشاب کی کم مقدار خارج ہو پاتی ہے جسکی وجہ سے گردوں میں زہریلے مادے جمع رہنے لگتے ہیں اور پھر انکے فیل ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ پیشاب کے راستے میں رکاوٹ کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں: پراسٹیٹ کی خرابی جو صرف مردوں میں پائی جانے والی خرابی ہے؛ بڑی آنت کی خرابی؛ بچہ دانی کی خرابی (صرف عورتوں میں پائی جانے والی خرابی)؛ اور مثانے میں کوئی خرابی

Leave a Comment