قوت حافظہ بڑھانے کے لئے بہترین وظیفہ

Kuwaty hafiza berhany k liye behtreen wazeefa

اس کائنات میں نبی کریم سرور دو عالم ﷺ سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی اور نا ہے نہ ہوسکتا ہے ۔سید الاولین والآخرین علوم الاولین والآخرین سب جمع فرمائے گئے نبی کریم سروردوعالم ﷺ کے اندر ان کو یہ فرمایا جارہا ہے کہ یہ دعا کرو کہ اے میرے پرور دگار میرے علم میں اضافہ کرتے رہئے اور یہ اس سے پہلے جو آیت کریمہ جس طرح ہے فتعالی اللہ الملک الحق ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ وقل رب زدنی علما تو ایک طرف تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس آیت کو شروع کیا ہے اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے بڑی اونچی شان ہے جس کی یہ سلطنت ہی برحق ہے اس کی شان جس کی سلطنت ہی برحق ہے۔تو یہ شان بیان کرنےکے بعد فرمایا جب نبی کریم ﷺ پر حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آتے تھے تو بعض اوقات قرآن کریم کی طویل طویل آیتیں ہوتی تھیں تو نبی کریم ﷺ شروع میں اس خیال سے کہ میں بھول نہ جاؤں وہ الفاظ دہراتے رہتے تھے جو جبرائیل ؑ لے کر آتے تھے اس پر اسکی وجہ سے آپ کے اوپر بوجھ بھی زیادہ پڑتا تھا کہ ایک طرف سن رہے ہیں دوسری طرف یاد فرمارہے ہیں دل میں دہرارہے ہیں بوجھ پڑتا تھا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تم یہ جب قرآن نازل ہوتا ہے تو جلدی جلدی مت پڑھاکرو جب تک کہ وحی پوری نازل نہ ہوجائے اور ساتھ یہ فرمایا یہ کہا کرو رب زدنی علمایعنی آرام سے سنو اور جب پوری وحی مکمل ہوجائے۔تو پھر اللہ سے ہی مانگو کہ یا اللہ میرے علم میں اضافہ کر دے تو یہ دعا کرنے اللہ تعالیٰ کی تلقین فرمائی ہے ایک اور جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کواطمینان دلا دیا کہ لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ آپ یہ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں جلدی سے یاد کرنے کی خاطر کیوں اس لئے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کو یاد کرائیں گے

اور ہم ہی آپ کو پڑھوائیں گے پھر اس کی تشریح بھی ہم کریں تو ان سب باتوں سے آپ بے فکر ہو کر وحی سن لیا کریں آپ ادھر سنیں گے ادھر آپ کو یاد ہوجائے گی اس کے پڑھنے کا طریقہ آجائے گا اور اس کے جو مفہوم ہیں اس کی جو تشریحات ہیں وہ بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں ۔ڈال دیں گے لہٰذا وحی کو وصول کرتے وقت نہ یہ فکر کیجئے کہ کہیں بھول نہ جاؤں نہ یہ فکر کیجئے کہ اس کو پڑھا کیسے جائے گا۔اور نہ یہ فکر کیجئے کہ اس کے کیا کیا معانی ہوں گے اس میں کیا کیا علوم ہوں گے اس فکر میں نہ پڑیئے بس آپ سنتے رہئے جب وحی نازل ہوجائے گی تو یہ سارے کام ہم نے اپنے ذمہ لے لئے لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اگرچہ ذمے تو لے لئے لیکن پھر بھی آپ اللہ تبارک وتعالیٰ سے علم میں زیادتی کی دعاکرتے رہیں کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرمائیے جو کچھ آپ نے دے دیا اس پر آپ کا شکر لیکن جو نہیں ہے ابھی تک وہ علم بھی مجھے عطافرماتے رہئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم جو ہے وہ ایک بے کنارا سمندر ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ۔قوت حافظہ کو بڑھانے کے لئے رب زدنی علما کا ورد کرتے رہئے یا پھر اس کا دوسرا وظیفہ سورہ طہ کی یہ آیات ہیں رب اشرح لی صدری ویسر لی امری وحلل عقدۃ من لسانی یفقہو قولی اس کا ورد کرتے رہئے اور اللہ سے دعا میں بھی یہی کلمات کہئے

Leave a Comment