اس کا باپ فوت ہوا تو انکل کے گھر آگئی،انکل اسکو آواز دی کہا میری چائے کمرے میں لے آؤ

اس کا باپ فوت ہوا تو انکل کے گھر آگئی،انکل اسکو آواز دی کہا میری چائے کمرے میں لے آؤ

میرا تعلق مڈل کلاس کے اس گھرانے سے رہا ہے جہاں ایک کمانے والا اور دس کھانے والے موجود ہوتے ہیں۔جن کی سفید پوشی کی چادر سر سے پاؤں تک کھینچا تانی میں تار تار ہوتی رہتی ہے میں سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کی وجہ سے والدین اور بہنوں کی امیدوں کا مرکز تھا انہوں نے میری اچھی تعلیم وتربیت کیلئے بہت جتن کیے میں شروع سے ہی ذہین تھا اے گریڈ میں ایم اے کرنے کے بعد ایک جاننے والے کے توسط سے سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیا ب ہوگیا ۔جب میری تمام بہنیں کسی نہ کسی طور پر ٹھکانے لگ گئیں مطلب یہ ہے کہ اپنے گھر کی ہوگئیں تو اماں کو ہوش آیا میری شادی کے بارے میں سوچا گیا میں اس وقت چالیس سال کا تھا جب میرے سر پر سیرا سجا نورین نے آکر میری سب محرومیوں کو دور کردیا وہ میری توقع سے زیادہ اچھی بیوی اور دوست ثابت ہوئی ۔ گو میری اور اس کی عمر میں خاصہ گیپ تھا لیکن اس نے کسی رویے مجھے ظاہر نہ کیا وہ میرے لیے باوفا بیوی کے ساتھ ساتھ خوش قدم عورت بھی ثابت ہوئی ۔اس کے میرے گھر میں قدم رکھتے ہی مجھ پر پیسوں کی برسات ہونے لگیں ۔ترقی اور کامیابی کے سب راہیں کھلتی چلی گئیں تھیں ۔ تین پیارے بچے ان کی آمد پر ہمارے گھرانے کو ایک مکمل روپ دے دیا گیا تھا نورین بہت سلجھے ہوئے خیالات کی عورت تھی ۔ اس نے مجھے اور بچوں کو کانچ کے برتنوں کی طرح سنبھال کر رکھا ہوا تھا ۔ جو ہمیں دیکھتا ہماری جوڑی پر رشک کرتا تھا خاندان بھر میں ہمارا گھر مثالیہ پیش کیا جاتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی جب تکبر کے وعدے میں اترا تو اوقات ہی بھول گیا
گو میں نماز اور روزے کا سختی سے پابند تھا ۔ حج اور عمرے کی سعادت کے بعد تو میرا یہ امیج اور گہرا ہوگیا لوگ مجھے اکثر حاجی صاحب کہہ کر پکارنے لگے ۔ یہ بات صرف میں اور اوپر والا جانتا تھا کہ دولت کی فراوانی اور ایاش فطرت دوستوں کی صحبت کےبعد میرا اندر میرے باہر سے بہت مختلف ہوچکا تھا میرے اندر ایک گندی گلی آباد ہوچکی تھی ۔ مجھ میں وہ تمام برائیاں آگئیں تھی جو کسی بگڑے ہوئے شخص کا خاصہ رہا ہے ۔ ان دنوں میرے بہنوئی کو ملازمت کے سلسلے میں ہمارے شہر شفٹ ہونا پڑا سب سے بڑا مسئلہ ان کی کسی اچھی جگہ رہائش کا تھا اماں کے کہنے پر میرے اپنے مکان کے اوپر والے پورشن میں رہنے کی اجازت دیدی۔بہن اور بہنوئی کے علاوہ بہنوئی کی بیوہ بہن اور اسکی کمسن بیٹی ہیرا بھی ساتھ رہنے لگی ۔ جب ہیرا کو پہلی بار دیکھا تو عام سی دبلی پتلی لڑکی بلکہ بچی لگی تھی وہ اس وقت نویں کلاس میں تھی اس کی ظاہرہ شخصیت نے مجھ پر کوئی خاص تاثر قائم نہیں کیا تھا ۔ مگر گھریلو کام میں وہ بہت تیزی دکھاتی تھی ۔ جس کیوجہ سے میری بیوی نورین سے اس کے تعلقات بہت اچھے ہونے لگے ۔ یوں اسکا نیچے ہمارے پورشن میں آنا جانا اُٹھنا بیٹھنا اور سونا ہوگیا تھا ۔ وہ اکثر گھر کے کاموں میں نورین کا ہاتھ بٹانے لگی تھی
اور میں اپنی بیوی کے کہنے پر اسے پڑھنے میں مدد کرنے لگا تھا ۔وہ رفتہ رفتہ نورین کی طرح قریب ہوتی چلی گئی بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔آنکل جی کہتے ہیرا کی زبان نہ تھکتی تھی ۔ شاید وہ باپ کی شفقت سے محروم انجانے میں مجھ میں مقدس رشتہ تلاش کرنے لگی تھی ۔ شروع میں میں نے بزر گ کی طرح ڈیل کیا تھا مگر آہستہ آہستہ میرے اندر کا حوس زدہ مرد اسے ایک لڑکی کی طرح دیکھنے لگ گیا تھا یوں یہ کہاں شروع ہوگئی ہیرا کہاں ہو تم میں نے لانچ میں پکارتے ہوئے کہا جی انکل جی وہ ڈرائنگ روم بغیر دوپٹے صافی ہاتھ میں لیے برآمد ہوئی تھی گھر کے تمام لوگ حسب معمول اپنے کمروں میں سورہے تھے ۔ لیکن وہ صفائی کررہی تھی ۔ یہ کیا ہر وقت کام میں لگی رہتی ہو حلیہ دیکھا ہے اپنا میں نے بقدر غصے سے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا وہ حسب عادت سر ہلاتے ہوئے رہ گئی تھی ۔ اچھا جاؤ میرے سرمیں درد اچھی سی چائے بنا کر میرے کمرے میں لے آؤ میں نے نرم گرم لہجے میں کہا تھا میرے اندر گندی گلی کا دروازہ پوری طرح کھل چکا تھا ۔ جی انکل جی ابھی لائی وہ چٹکی بجاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ہیرا چائے لیکر میرے کمرے میں آئی میں اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔یہ لیں آنکل چائے پی لیں یہ گولی بھی کھالیں سردرد میں آرام آجائیگا۔ہیرا نے احترام سے کہتے ہوئے چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا ہیرا تمہاری آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں میں نے یہ کہتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا تو وہ نظروں کی چبھن سے گھبرا کر پہلو بدلنے لگی ۔

ہیرا ذرا میرا سرتو دبا دو تو وہ گم سم ہوکر مجھے دیکھنے لگی پسینے کے قطرے اسکے ماتھے پر چمکنے لگے ۔وہ مہض سال کی معصوم لڑکی پل بھر میں جان گئی جب احترام کے آئنے میں بال آیا تو وہ بکھری سی رہنے لگی ۔ اب ہیرا میرے اندر کے شیط ان کو دیکھ چکی تھی تو میرا سامنے آنے پر قطرا کر گزرجاتی یا خود کو کہیں اور مصروف کرلیتی ۔پھر ایسے ہی ایک روز جب نورین اور بچوں کو فوتگی کے سلسلے میں جانا پڑ گیا ۔ میں طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر گھر میں ہی رہ گیا میرے اندر کا شی ط ان پوری طر ح جاگ رہا تھاہیرا کہاں ہوتم میں نے مدہوش قدموں اسکے روم کی طرف قدم بڑھا دیئے میں جانتا تھا کہ اس وقت اسکے گھروالے سورہے ہوں گے اسکے روم میں گیا تو وہ وہاں موجود نہیں تھی میں نچلے پورشن میں آگیا اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہ میری بیوی نورین کے بیڈ پر سوئی ہوئی تھی میں خوش ہوگیا اور میرے چہرے پر شیط انی مسکراہٹ تھی لیکن وہ گہری او ر پُرسکون نیند سورہی تھی کیونکہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہتی تھی اس نے خود اپنی زبانی اپنی عزت ہارنے کی بجائے زندگی ہار گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ میرا زیادہ دیر مقابلہ نہیں کرپائے گی اس نے بنا کسی سے کچھ کہے چپ چاپ خ ودک شی کرلی تھییہ منظر دیکھ اذیت اور وح ش ت کا ایک منظر تھا جو میرے ارد گرد دھک رہا تھا پھر میں زن دہ ہوکر بھی زن دہ نہ رہا میں آج تک اسکی فاتحانہ مسکراہٹ نہیں بھول سکا ہوں جو م وت کے بعد اس کے معصوم چہرے کو گھیرے ہوئے تھی آج جب میں اپنی بیٹی کے چہرے پر وہی تعاصر دیکھتا ہوں اندر ہی اندر ہل جاتا ہوں میری نگاہیں اپنی بیٹی گرد موجود ہر رشتہ چہرے میں اپنے گ۔ناہوں کا عکس دیکھنے لگتی تھی ۔ جیسے اسکے چاروں طرف میں ہی میں موجود ہوں ۔اور میں کیاہوں میں اچھی طرح جانتا ہوں اب تو ہردم اللہ سے معافی اور رحم کی بھ یک کیساتھ یہ دعا کرتا ہوں کہ میرے گ ن اہوں کا کفارہ میری بیٹی کو نہ کرنا پڑے ۔

Leave a Comment