حضرت شمعون علیہ السلام کا واقعہ جب بیوی نے بال باندھ کر کافروں کے حوالے کر دیا

Hazrat Shamoon ka wakia

حضرت شمعون علیہ السلام بہت شجاع، دلیر اور حق پرست تھے ۔ سر کے بال کثیر ہونے کے باعث اللہ نے ان کو بہت قوت دی تھی۔ ایک کافر بادشاہ فوط نامی نے دریائے روم کے کنارے ایک عالیشان مکان تیار کروایا تھا۔اس شہر کا نام عموزیہ تھا ۔ بادشاہ کے پاس چھ ہزار لشکر تھا۔ شمعون اکیلے ان کے ساتھ ج۔نگ کرتے اور ان کا لشکر م۔ار آتے ۔ اس کے بعد پھر اپنے گھر آ کر مصروف عبادت ہو جاتے – الله تعالٰی ہمیشہ ان کافروں پر آپکوغالب رکھتا-آپ خلائق کی ضیافت بھی کرتے تھے شمعون علیہ السلام کی بیوی بے حد پارسا خاتون تھی کافر بادشاہ نے مال و جواہر کا لالچ دے کر ورغلانے کی کوشش کی ۔ شمعون علیہ السلام کی بیوی نے رسی چهپا کر رکھ دی ۔ جب رات کو شمعون علیہ السلام سوئے تو ان کو باندھ دیا ۔ جب نیند سے بیدار ہو ئے تو رسی توڑ ڈالی جورو سے پوچھا کس نے مجھے باندھا تھا بولی کہ میں نے۔شمعون علیہ السلام نے کہا تو نے مجھے کیوں باندھا تھا؟ بولی میں تمہاری طاقت اور زور آزمانا چاہتی تھی ۔ شمعون علیہ السلام نے کہا خاطر جمع رکھو کوئی دشم۔ن ہم سے زیادہ زور میں نہیں ہو سکتا۔ تب رسی کھول دی۔ اس واقعہ کے کے تقریباً چار ماہ بعد شمعون علیہ السلام اس شہر میں جہاد کے لیے گئے اور فتح یاب ہو کر لوٹے۔ پھر ک۔افر بادشاہ عموزیہ نے ل۔وہے کی زن۔جیر سے بندهوایا ۔لیکن حضرت شمعون علیہ السلام نیند سے بیدار ہو کر اٹھے تو پاؤں اٹھاتے ہی زن۔جیر ٹوٹ گئی۔ بادشاہ بولا کہ ل۔وہے کی زن۔جیر سے زیادہ کوئی شے مضبوط نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ شمعون علیہ السلام کو گرفت۔

ار کر کے حاضر کیا جائے۔ بی بی نے اپنے خاوند سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو تم سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو شمعون علیہ السلام نے بتایا کہ تم مجھے ایک چیز سے باندھ کر رکھ سکتے ہو۔ اس کو میں توڑ نہ سکوں گا۔ میرے سر یا جسم کے بالوں سے باندھ دو۔ بی بی نے ایسا ہی کیا- نیند سے اٹھ کر بی بی سے پوچھا کیوں جی مجھے کس نے باندھا ہے۔بولی میں نے باندھا ہے میں تمہاری قوت آزماتی ہوں۔حضرت شمعون علیہ السلام نے فرمایا بفضل الله مجھے کوئی باندھ کر نہیں رکھ سکتا۔ بی بی کو کہا کہ میرا بند کولو وہ بولی کئی مرتبہ میں نے باندھا تھا۔ آپ نے اپنی قوت سے کھولا تھا۔اس دفعہ کیوں بلاتے ہو؟ حضرت شمعون علیہ السلام نے کہا کہ اگر میں ہلوں گا تو تمام بدن کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی۔عورت نے سمجھا کہ بند کھولنے کی اس میں طاقت نہیں تو اس نے کافر بادشاہ کو خبر دی۔ اس ملع۔ون نے لشکر بھیج کر شمعون علیہ السلام کے ہاتھ ، پاؤں، ناک، کان، آنکھ اور زبان ن۔کال کر بادشاہ کے پاس حاضر کر دیا۔ سب نے غ۔لط سمجھا کہ اب ہم شمعون علیہ السلام کے ہاتھوں سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ صرف ایک ده۔ڑ رہ گیا تھا۔ ک۔افروں نےدریا کے کنارے لیجا کر بالاخ۔ا۔نہ سے ان کو دریا۔ میں گ۔را دیا۔ بحکم الٰہی جبرائیل علیہ السلام نے شمعون علیہ السلام کو ہوا پر اٹھا لیا جو اعض۔اء ده۔ڑ سے ج۔دا ہو ئے تھے قدرت الہیہ سے اپنے اپنے مقامات پر لگ گئے۔جبرائیل علیہ السلام نے کہا اے شمعون علیہ السلام! تجھ کو خدا نے بےپناہ طاقت دی ہے ، شمعون علیہ السلام نے اللہ کو یاد کر کے حصار اور مکان اور شہر کی تمام زمین کهودکر مع ک۔فار دریا میں ڈال دیے۔ یہاں تک کہ شہر کا نام ون۔شان م۔ٹ گیا۔اس کے بعد اپنے گھر جا کر بی بی کو م۔ار ڈالنے کا قصد کیا۔جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اے شمعون علیہ السلام عورت ناق۔ص العقل ہوتی ہے اس نے حالت نادان۔ی میں آپ کے خلاف کام کیا تھا۔ اس کو کر دو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔آپ کی عمر تقریباً ہزار برس تھی۔ دن کو روزہ رکھتے شب عبادت میں گزارتے اور ک۔افروں سے جہاد کرتے رہے

Leave a Comment