ایک یہودی نے اپنے مسلمان پڑوسی کو تنگ اور ذلیل کرنے کےلیے۔۔۔۔۔!!!!

ایک یہودی نے اپنے مسلمان پڑوسی کو تنگ اور ذلیل کرنے کےلیے۔۔۔۔۔!!!!

ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا ۔ اس یہودی کے ساتھ۔ اس کا مسلمان پڑوسی بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ اس مسلمان کی عادت تھی ۔ کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہ جملہ کہتا تھا۔ حضرت محمدﷺ پردرود پاک بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ جوکوئی بھی اس مسلمان سےملتا۔ وہ مسلمان سے اپنا یہ جملہ ضرور سناتا اور جو بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اسے بھی ایک مجلس میں کئی بار یہ جملہ مکمل یقین سے سناتا تھا کہ حضرت محمدﷺ پر درود پاک پڑھنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہر حاجت اورمراد پوری ہوتی ہے اس مسلمان کا یہ جملہ اس کے دل کا یقین تھا۔ اس نے ایک سازش تیا ر کی تاکہ اس مسلمان کو ذلیل و رسوا کیاجائے۔ اور “درود شریف” کی تاثیر پر اس کے یقین کو کمزور کیاجائے۔ اور اس سے یہ جملہ کہنے کی عادت چھڑوائی جائے۔یہودی نے ایک سنار سے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ اور اسے تاکید کی ایسی انگوٹھی بنائے کہ اس جیسی انگوٹھی پہلے کسی کےلیے نہ بنائی ہو۔ سنا ر نے انگوٹھی بنا دی۔ وہ یہودی انگوٹھی لے کر مسلمان نے اپنا وہی جملہ، اپنی وہی دعوت دہرائی کہ حضرت محمد ﷺ پر درود پاک پڑھنے سے ہر دیا قبول ہوتی ہے۔ ہر حاجت اورمراد پوری ہوتی ہے۔ “یہودی نے کہا کہ اب بہت ہوگئی بہت جلد یہ جملہ تم بھول جاؤ؟ گے ۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد یہودی نے کہا: میں سفر پر جارہاہوں۔ میری ایک قیمتی انگو ٹھی ہے وہ آپ کے پاس امانت رکھ کر جانا چاہتاہوں ۔ واپسی پر آپ سے لے لوں گا۔ یہودی نے وہ انگوٹھی مسلمان کے حوالے کی اور اندازہ لگا لیا کہ مسلمان نے وہ انگوٹھی کہاں رکھی ہے ۔

بالآخر انگوٹھی تلاش کر لی اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اگلے دن وہ سمندر پر گیا اور ایک کشتی پربیٹھ کر سمندر کی گہری جگہ پہنچا اور وہاں انگوٹھی پھینک دی۔اس کا خیا ل تھا کہ جب واپس آؤں گا۔ اور اس مسلمان سے اپنی انگوٹھی مانگوں گا۔ اور نہ دی تو اس پر چوری اور خیانت کا الزام لگا کر خوب چیخوں گا۔ اور بدنام کروں گا۔ وہ مسلمان جب اپنی رسوائی دیکھے گا تو اسے خیا ل ہوگا کہ درود پاک سے کام نہیں بنا اوریوں وہ اپنا جملہ اور اپنی دعوت چھوڑ دےگا۔ مگر اس نادان کو کیا پتا تھا کہ درودپاک کتنی بڑی نعمت ہے اورسیدھا مسلمان کے پاس گیا اور اپنی انگوٹھی طلب کی۔ مسلمان نے کہا آج درود پاک کی برکت سے میں صبح دعا کرکے شکا ر کےلیے نکلاتھا تو مجھے ایک بڑی مچھلی ہاتھ لگ گئی۔ آپ سفر سے آئے ہیں مچھلی کھا کر جائیں۔ اس نے اپنی بیوی کو مچھلی پکانے کو کہا۔ اچانک اس کی بیوی زور سے چیخی اور اسے بلا لیا۔ وہ بھا گ کر گیا تو بیوی نے بتا یا کہ مچھلی کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکلی ہے۔ ویسی ہے جیسی ہم نے اپنے یہودی پڑوسی کی انگوٹھی امانت رکھی تھی۔ وہ مسلمان جلد وہاں گیا جہاں انگوٹھی رکھی تھی انگوٹھی وہاں موجود نہیں تھی ۔وہ مچھلی وا لی انگوٹھی اس کے پاس لے آیا اور کہاحضرت محمد ﷺ پر درود پاک پڑھنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہرحاجت پوری ہوتی ہے۔ پھر وہ انگوٹھی اس کے پاس رکھ دی۔ اس یہودی کی آنکھیں حیرت اور ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے کہا یہ انگوٹھی کہاں سےملی ؟ مسلمان نے کہا جہاں رکھی وہا ں بھی تو نہیں ملی مگر جو مچھلی آج شکار کی اس کے پیٹ سے مل گئی ہے۔

معاملہ سمجھ نہیں آرہا مگر الحمداللہ آپ کی امانت آپ کو پہنچی اور اللہ پاک نے مجھے پریشانی سے بچا لیا۔ یہودی تھوڑی دیر کانپتا رہا پھر بلک بلک کر رونے لگا۔ یہودی نے کہا مجھے غسل کی جگہ دے دیں۔ غسل کرکے آیا ار فوراً کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنے لگا ۔ وہ بھی رو رہا تھا۔ اور اس کامسلمان دوست بھی ۔ اور مسلمان اسے کلمہ پڑھا رہا تھا۔ اور یہودی یہ عظیم کلمہ پڑھ رہا تھا۔ جب اس کی حالت سنبھلی تو مسلمان نے اس سے وجہ پوچھی تب اس نے نومسلم نے سارا قصہ سنادیا۔ مسلمان کے آنسو بہنے لگے اور وہ بے ساختہ کہنے لگا حضرت محمد ﷺ پردرود پاک بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔

Leave a Comment