کیا پینٹ شرٹ پہننا گناہ ہے؟ اور پینٹ سے نماز کیوں نہیں ہوتی

Kia paint shirt pehnna gunah hai

کیا پینٹ شرٹ پہننا گناہ ہے جب کہ یہ سنت کے خلاف لباس ہے ؟ جواب: سنت لبا س کسے کہتے ہیں؟اسلام بین الاقوامی مذہب ہے ہر دور ہر زمانے کے لئے آیا ہے لہٰذا اسلام نے لباس کے بارے میں چند ہدایات تو دیں ہیں لیکن کوئی خاص لباس مقرر نہیں کیا کیونکہ قیامت تک کے لئے آیا ہے عرب گرم علاقے میں رہتے تھے اگر نبی ﷺ یہ فرماتے کہ کرتا پہننا سنت ہے پھر مائینس فورٹی ڈگری میں رہتے ہیں وہ کیا پہنتے ؟اس لئے اسلام نے لباس کے بارے میں چند ہدایات تو دیں ہیں ۔1۔لباس ایسا ہو کہ ستر ڈھکا ہوا ہو اور عورت کا لباس پورے جسم کو ڈھانپ رہا ہو ۔2:لباس اتنا چست نہ ہو کہ ستر کے اعضاء چھلکتے ہوں اس سے ۔3:مرد کا لباس ایسا ہو کہ جو ٹخنوں سے اوپر ہو۔4:لباس کسی قوم کی مشابہت نہ ہو اس میں غیر مسلم کی ۔ایسا لباس جسے دیکھ کر لوگ آپ کو غیر مسلم سمجھنا شروع کردیں ۔ یہ چار شرطیں ہیں اگر یہ پائی جاتی ہیں تو جو چاہے مرضی لباس پہنیں ۔پینٹ شرٹ اس کا علماء پہلے زمانے ناجائز ہونے کا فتویٰ اس لئے دیاکرتے تھے کہ یہ غیر مسلموں کا شعار سمجھاجاتا تھا اسوقت مسلمانوں میں پینٹ شرٹ کا بالکل رواج نہیں تھا جانتے بھی نہیں تھے کہ یہ پینٹ شرٹ کیاہوتی ہے جب نیانیا انگریز آیا تو جو بھی مسلمان پینٹ شرٹ پہنتا تو وہ دیکھنے میں لگتا کہ یہ غیر مسلم ہے ۔
علماء کہتے ہیں کہ جب کسی چیز کی مشابہت ختم ہوجائے تو وہ ناجائز ہونے کی وجہ بھی ختم جائے گی تو وہ چیز بھی ناجائز نہیں رہے گی اس کی مثال ایسے ہے جیسے پہلے زمانے میں مسلمانوں میں نیچے ہی بیٹھ کر کھانے کا رواج تھا یہ خالصتا غیر مسلموں میں تھا ۔اس لئے علماء نے اس وقت فتوی دیا تھا کہ میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مسلمانوں میں کہیں بھی رائج نہیں ہے لیکن اب مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے یعنی اب دیکھنے میں کسی کو وہم بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہیں کافر تو نہیں ہے اسی طرح پینٹ شرٹ اب ایک ایسا لباس ہے جو مسلمان بھی بہت کثرت سے پہنتے ہیں ۔رائج ہوچکا ہے بعض چیزیں رائج ہونے سے پہلے حکم کچھ اور ہوتا ہےاور رائج ہونے کے بعد اس کا حکم کچھ اور ہوتا ہے کہ جیسے انگلش جب دنیا میں رائج نہیں تھی تو بہت سے علماء منع کرتے تھے کہ آپ اپنی زبان کو ترجیح دیں اور غیروں کی زبان نہ سیکھئے لیکن جب ایک چیز بین الاقوامی ضرورت بن گئی اور رائج ہوگئی تو اب علماء یہی کہتے ہیں کہ آپ کو بھی چاہئے کہ آپ انگلش سیکھیں کیونکہ نہیں سیکھیں گے تو زمانے سے پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ بین الاقوامی زبان ہے پوری دنیا میں ایک جوڑ کا کام کرتی ہے دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں اگر آپ کو انگلش آتی ہوگی تو بہت سارے کام آپ کے ہوسکتے ہیں اس زبان میں جو ٹیکنالوجی اور سائنس سے متعلق جتنا لٹریچر ہے وہ دنیا کی کسی زبان میں نہیں ہے شریعت کے کچھ احکام ایسے ہیں جو زمانے کی تبدیلی سے تبدیل ہوجاتے ہیں
بڑے بڑے علماء جو شام کے شہری ہے اور ترکی میں مقیم ہیں وہ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں اس لئے اب اس کو ناجائز نہیں کہاجاسکتا البتہ یہ ضرور ہے کہ مسلمانون کا ہمیشہ سے لباس ڈھیلا ڈھالا رہا ہے ایک مخصوص جیسے جبہ ہے یا شلوار قمیص ہے اس طرح کا لباس رہا ہے اور علماء صلحا میں اکثریت کا لباس وہ جبہ یا شلوار قمیص یا شیروانی یہ لباس رہا ہے علماء کہتے ہیں کہ افضل یہی ہے کہ وہ لباس اختیار کیاجائے جو کسی قوم کے علماء و صلحاء میں رائج ہو اس کو بہرحال ترجیح دینی چاہئے کیونکہ وہ نیک لوگوں کا شعار ہے ۔پینٹ شرٹ اب کافروں کا شعار نہیں رہا لیکن شلوار قمیض برصغیر میں نیک لوگوں کا شعار ہے تو افضل یہی ہے کہ شلوار قمیص جبہ شیروانی وغیرہ کا استعمال کیاجائے۔ اپنے قومی تشخص کو بحال رکھئے ممالک کے جو وزیر اعظم دوسرے ممالک میں سفر کرتے ہیں تو اپنا ہی لباس زیب تن کر کے جاتے ہیں تو ان کو زیادہ اچھی نگاہوں سے دیکھاجاتا ہے ۔

Leave a Comment