وہ وقت جب سیدنا عمر فاروق کے دور حکومت میں لوگ اتنے امیر ہو گیے کہ زکوة لینے والا کوئی نہ بچا ۔۔۔۔عمر فاروق کی خلافت کا ایمان افروز واقعہ

Hazrat Umer k doory hakoomat

سیدنا عمر کے پاس زکوة کا مال آتا ھے فرمانے لگے :غریبوں میں تقسیم کردو۔بتلایا گیا اسلامی سلطنت میں کوئی بھی فقیر نہیں رھا (اللہ اکبر)فرمایا : اسلامی لشکر تیار کرو۔بتلایا گیا اسلامی لشکر ساری دنیا میں گھوم رھے ھیں۔فرمایا : نوجوانوں کی شادیاں کر دوبتلایا گیا کہ شادی کے خواھش مندوںکی شادیوں کے بعد بھی مال بچ گیا ھے۔فرمایا : اگر کسی کے ذمہ قرض ھے تو ادا کر دوبتلایا گیا قرض ادا کرنے کے بعد بھی مال بچ گیا ھے۔فرمایا : دیکھو ( یہودی اور عیسائیوں ) میں سے کسی پر قرض ھے تو ادا کردو .بتلایا گیا یہ کام بھی کر دیا گیا ، مال پھر بھی بچ گیا ھےفرمایا : اھلِ علم کو مال دیا جائے.بتلایا گیا اُن کو دے دیا گیا ھے اور مال پھر بھی بچ گیا ھے.فرمایا : اُس کی گندم خرید کر پہاڑوں کے اوپر ڈال دو کہ مُسلم سلطنت میں کوئی پرندہ بھی بھوکا نہ رھے۔ (اللہ اکبر)اے عُمر !! اب تُجھ سا ھم کہاں سے لائیں ؟؟ سیدہ کائنات حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی رفعت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے والد گرامی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبع نور ہدایت ہیں۔ آپ کے شوہر نامدار باب العلم ہیں۔ آپ کے بیٹے سرداران جنت ہیں، آپ کے انوار میں نور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ گر ہے۔ آپ کے رگ و ریشہ میں خون مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجزن ہے۔ آپ کی پوری زندگی تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔کتب سیرت میں سیدہ کائنات حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بہت سے اسمائے گرامی بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند کا تذکرہ اس مضمون میں کیا جائے گا جس سے قارئین کے دلوں میں سیدہ کائنات کے ساتھ والہانہ
عقیدت و محبت میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ سیدہ کائنات رضی اللہ تعالی عنہا کی عظمت و مقام مرتبہ سے بھی شناسائی ہوگی۔ ذیل میں سیدہ کائنات کے اسمائے گرامی ان کی وجہ تسمیہ اور پس منظر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسوہ بتول رضی اللہ تعالی عنہپر احادیث کی روشنی میں تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہالفظ فاطمہ باب فاعلہ سے ہے جس کا معنی بالکل علیحدہ کردیا جانا ہے۔ لسان العرب کے مطابق اگر لکڑی کے ایک حصے کو کاٹ کر الگ کردیا جائے تو اسے تغطیم کہتے ہیں۔ بزار، طبرانی اور ابونعیم نے روایت کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! جانتی ہو میں نے آپ کا نام فاطمہ کیوں رکھا؟ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ فرمادیجئے کہ ان کا نام فاطمہ کیوں رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فاطمہ اور ان کی اولاد کو نار جہنم سے بالکل الگ کررکھا ہے‘‘۔ (الاستیعاب، ج 2، ص 752)اس معانی میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سم بامسمی ہیں۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور آپ کی اولاد کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھنا اس امر کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کا عزوشرف اللہ کی بارگاہ میں بہت زیادہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ رضی اللہ تعالی عنہا کو پیار سے فاطم کہہ کر پکارتے تھے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپ کو فاطم کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔بتول رضی اللہ تعالی عنہاسیدہ کائنات حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بتول کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ معانی کے لحاظ سے یہ لفظ بتل سے نکلا ہے جس کا معنی سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہنا۔

Leave a Comment