موذن رسولﷺ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔

Moazan Rasool SAW ki iman afroz dastaan hayat

حبشہ کے سیاہ فام غلام رُباح کا سیاہ فام بیٹا۔ غلام ابنِ غلام! غلامی میں آنکھ کھولی، غلامی میں پلا بڑھا، غلاموں کی مخصوص سوچ کے ساتھ جوان ہوا، غلاموں کی طرح باربار بیچا اور خریدا گیا اور شاید یہی داغ سینے پر لئے، کسی کوڑے کی ضرب پر جان دے کر، اپنےطوقِ غلامی سمیت کسی گوشہء ارض میں گمنام دفن ہو جاتا، اگر مکے کا تاجر اُمیہ ایک دن مجھے قتل کرنے کا فیصلہ نہ کرتا۔آج میں دمشق میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا ہوں۔ اُمیہ مجھے ماضی کے افق پر بہت دُور ایک دھندلے سے دھبے کی طرح دکھائی دے رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ یہ دھبہ کراں تا کراں میری ساری زندگی پر محیط تھا۔ روشنی کی کوئی کرن نہیں تھی جو اُس کی ظلمت کو چیر کر مجھ تک پہنچ سکتی۔ یہ دھبہ پھیلتا، سمٹتا، گرجتا، برستا مگر اس کا حصار کبھی نہ ٹوٹتا۔ پھیلتا تو دنیا اندھیر ہو جاتی، سمٹتا تو دیوقامت چٹانوں کی طرح اپنی پوری طاقت سے مجھے کچل کر رکھ دیتا، گرجتا توکالے بادلوں کی طرح اچانک یوں پھٹ پڑتا کہ جائے پناہ نہ ملتی اور برستا تو اُس کے ہر کوڑے پر کائنات دم توڑنے لگتی۔غلاموں کی زندگی میں اُتار چڑھاؤ نہیں ہوتے۔ حادثات کی بھرمار نہیں ہوتی۔ زندگی ایک ڈگر پر چلی جاتی ہے۔ صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے اور وقت کا دھارا یونہی بہتا چلا جاتا ہے۔ لیکن غلامی کی زندگی میں اگر کوئی سانحہ آ جائے تو وہ حتمی ہوتا ہے۔ پھر کسی اور سانحے کی گنجائش نہیں رہتی۔ غلام گرا تو پھر اُٹھتا نہیں۔
ٹوٹا تو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا۔ غلامی کی حیثیت ہی کیا ہے؟ محض ایک کھال جو کوڑوں کے لئے وقف رہتی ہے اور یہ کوڑے کسی بھی وقت، کسی بھی بات پر، کسی بھی جگہ برس سکتے ہیں۔
اُمیہ ایک خود پسند، خود سر انسان تھا۔ من مانیاں کرنے کا حق، اُس کے خیال میں اُسے اپنے حسب نسب اور اپنی دولت و ثروت سے ملا تھا۔ اُس کے لئے میرے بارے میں صرف اتنا جاننا کافی تھا کہ میں بلال ہوں، اُس کا زرخرید غلام اور بس۔ میرے لئے بھی بس اتنا ہی جاننا کافی تھا کہ وہ میرا آقا ہے۔ آقا کس بات سے خوش ہوتا ہے، کس بات پر خفا ہوتا ہے، یہ جاننا صرف آقا کا حق تھا۔ غلام کے لئے کچھ بھی جاننا لازم نہیں ہوتا۔ اُسے کچھ بتانا، سمجھانا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ غلام کو کوئی سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اُس کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے طور پر صورتِ حال کا جائزہ لیتا رہے اور قرائن سے جو نتیجہ چاہے، اخذ کرتا رہے۔ وہ صحیح ہو تو اُس کی قسمت، غلط ہو تو اُس کا مقدر!غلام کے لئے اُس کے آقا جیسی کوئی آواز نہیں ہوتی۔ جب وہ آواز گونجتی ہے تو اُس سے مفر ممکن نہیں ہوتا۔ غلام کا یہ فرض ہے کہ یا تو وہ نظروں کے سامنے ہو یا آواز پر فوراً حاضر ہو جائے۔ تیسری صورت ممکن نہیں کیونکہ اُس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہےاور وہ یہ کہ غلام بھاگ گیا ہے اور اس جرم کی ایک ہی سزا ہے۔ موت!جو لوگ اس دنیا میں نہیں رہے اُن کو بُرا کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا، البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ اُمیہ نے مجھے مکّہ کے بازار سے خرید کر کوئی گھاٹے کا سودا نہیں کیا تھا۔ اسے اپنی رقم کی ایک ایک پائی وصول ہو گئی تھی۔ میں نے اُسے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔
اُمیہ کی بہت سی باتیں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ میں انہیں بھولا نہیں ہوں لیکن بھلا دینا چاہتا ہوں۔ میں بلال، اُمیہ کا زرخرید غلام، آپ کو اُن دنوں کی باتیں سنانا چاہتا ہوں جو شروع سے آخر تک حیرت و استعجاب کے دن تھے اور حیرت بھی ایسی کہ آج تک اس کے نشے سے سرشار ہوں۔ بائیس سال تک اس غلام نے اُس فضا میں سانس لیا جس میں اللہ کے آخری نبی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سانسوں کی مہک تھی۔ جو انہوں نے کہا، میں نے سنا۔ جو انہوں نے کیا، میں نے دیکھا۔کعبے کے شب و روزموسم گرما کی ایک صبح تھی۔ اُمیہ حسبِ معمول اپنے تاجر ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے گھر سے نکلا۔ تاجروں کی یہ محفل خانہء کعبہ کے سائے میں لگتی تھی۔مجھے یہ صبحیں بہت اچھی لگتی تھیں۔ تاجروں کے ساتھ اُن کے غلام بھی ہوتے تھے جو کچھ فاصلے پر بیٹھے اپنے اپنے آقاؤں کے اشاروں کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ ایسے موقعوں پر غلام آپس میں ہلکی ہلکی سرگوشیاں بھی کر لیتے تھے۔ اِدھر اُدھر کی جھوٹی سچی خبریں مل جاتی تھیں اور وقت اچھا گزر جاتا تھا۔ سب سے زیادہ لطف اُن محفلوں کا یہ تھا کہ ہم غلام لوگ بھی سائے میں بیٹھتے تھے۔مکے میں سایہ ایک نعمت سے کم نہیں اور پھر ہم غلاموں کو تو یوں لگتا تھا جیسے سخت حبس میں سانس لینے کے لئے ٹھنڈی، تازہ ہوا کا جھونکا میسر آ گیا ہو۔
مکے میں کچھ نہیں اُگتا۔ نہ پودے، نہ پھول، نہ گھاس، نہ درخت۔ دن بھر سورج کی تمازت سے اردگرد کی پہاڑیاں تانبے کی طرح تپ اٹھتی ہیں اور رات گئے تک اُن کی تپش مکے کی فضا میں آگ برساتی رہتی ہے لیکن نہ جانے اس شہر کی فضا میں کون سا ایسا جادو تھا۔ کون سی مقناطیسی کشش تھی کہ یہاں کے باسی جب کہیں باہر جاتے، اُن کا کہیں جی نہ لگتا۔ وہ مکے کے لئے اُداس ہو جاتے اور کاروبار سے فارغ ہوتے ہی مکے کی راہ لیتے۔ یہاں تک کہ مکے کے نام پر اُونٹوں کے بھی کان کھڑے ہو جاتے اور وہ بھی اپنی رفتار تیز کر دیتے۔ میں تو محض ایک غلام تھا اور مکے میں ذلت اور رسوائی کے سوا میں نے دیکھا کیا تھا! جب سے پیدا ہوا تھا لوگوں کے ہاتھوں صعوبتیں اٹھا رہا تھا۔ کوئی بوجھ اٹھواتا تھا، کوئی دائروں میں دوڑ لگواتا تھا، یہ دیکھنے کے لئے کہ اس میں کتنا دم خم ہے یا کتنے میں ٹھیک رہے گا اس کا سودا، مگر مجھ غلام کو بھی اپنی یہ جائے عقوبت اچھی لگنے لگی تھی۔

Leave a Comment