کیا آپ جانتے ہیں؟آذان کی آواز سُن کر کتے کیوں رونےلگتے ہیں؟پیارے نبیﷺکا فرمان سن لیں

Aazan ki awaz sun ker kutty q rony lagty han?

آپ نے بھی یہ مشاہدہ کیا ہوگا کہ جیسے ہی فجر کی اذان ہوتی ہے تو اکثر اوقات کتے آذان کے ساتھ رونے جیسے آوازیں نکالتے ہیں اور آسمان کی جانب منہ کر کے روتے ہیں بعض اوقات کتے فجر کے علاوہ باقی اذانوں کے ساتھی بھی ایسی ہی آوازیں نکالتے ہیں اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سوال پوچھتے بھی ہیں کہ کتے ایسا کیوں کرتے ہیں ۔
آج کی اس تحریر میں اسی حوالے سے گفتگو کریں گے کہ کتے ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اذان کی پکار ہم دن میں پانچ وقت سنتے ہیں اور ہر نماز سے پہلے اذان کے ذریعے نماز کے لئے بلایا جاتا ہے یہ اسلامی احکام میں سے ایک حکم ہے آذان کی کیا اہمیت ہے اس کی فضیلت کیا ہے اور اس کا حیران کن معجزہ کیا ہے جو اللہ کی بڑائی اور عظمت کی واضح دلیل ہے اس بارے میں ہم تفصیل ذکر کریں گے ۔کتے اذان کے ساتھ کیوں روتے ہیں تو یاد رہے کہ روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ رات کے اوقات میں اکثر شیاطین اور شیطانی جنات وغیرہ اس کائنات میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور ان کا یہ گھومنار ات کو ہی ہوتا ہے اورجیسے ہی مؤذن فجر کی اذا ن کے لئے اللہ اکبر کی آواز بلند کرتاہے تو یہ شیاطین اس آواز کو سنتے ہی بھاگنے لگتے ہیں جب یہ بھاگ رہے ہوتے ہیں تو کتے ان کو دیکھتے ہیں اور ان کو دیکھ کر ایسی آوازیں نکالتے ہیں جیسا کہ رو رہے ہوں اور شیاطین کے یوں بھاگنے کا ذکر ایک حدیث میں یوں آیا ہے کہ موذن جب اذان دیتا ہے تو اس کی آواز سن کر شیطان خروج ریہ کی آواز کرتے بھاگتا ہے یاد رہے کہ انسانی نظر سے اللہ نے بہت سی باتوں کو پوشیدہ رکھا ہے لیکن بعض جانوروں میں یہ طاقت رکھی ہے کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں مثلا عذاب قبر کی بات کی جائے تو اس کے بارے میں بھی روایت ہے کہ مردے کی چیخ و پکار کی آواز کو انسان کے علاوہ باقی مخلوقات بھی سنتی ہیں اور کتا بھی انہی جانوروں میں سے ہے جو کہ
جنات کو اور شیاطین کو دیکھتا ہے۔اسی لئے یہ ان کو دیکھ کر ایسی آوازیں نکالتا ہے یہ تھا جواب اس سوال کا کہ کتا آذان کے وقت رونے کی آوازیں کیوں نکالتا ہے۔آذان کی فضیلت کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے سنا کہ مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور ہر خشک و تر اس کے لئے مغفرت طلب کرتاہے اور آذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دیجئے جاتے ہیں بروایت ابن ماجہ اس روایت میں ذکر ہے کہ ہر خشک و تر چیز گواہی دے گی تو گویا اس میں جن و انس حیوانات جمادات سبھی شامل ہیں تو خود ہی سوچ لیجئے کہ آج کل لاؤڈ سپیکر ز کی وجہ سے آذان کی آواز کتنی دور تک جاتی ہے۔اور اس تمام علاقے کی تمام مخلوق آپ کے لئے دعائے مغفرت کرے کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے اسی طرح سے بخاری کی روایت میں حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اکثر لوگوں کو آذان اور پہلی صف کے اجر و ثواب کا علم ہوجائے تو وہ اس کو حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی بھی کرنا پڑے تو وہ ضرور کریں گے ۔اس حدیث سے بھی آذان کے بے پناہ اجر کا ذکر ملتا ہے جو اگرچہ بیان نہیں ہوا لیکن اس کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں کو آذان کا اجر معلوم ہوجائے تو وہ آذان دینے کے لئے اپنا نام قرعہ اندازی سے نکالنے کے لئے بھی گریز نہ کریں۔

Leave a Comment