غزوہ حنین ایک وادی

ghazwaey hunain

غزوہ حنین مکہ مکرمہ سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک وادی ہے یہاں پر موجود قبیلہ ہوازن اور ثقیف اپنے آپ کو بہت طاقت ور اور بہادر سمجھتے تھے .اسلام کا غلبہ پسند نہیں کرتے تھے .ان دونوں قبائل کے ساتھ دیگر قبائل کے لوگ بھی شامل ہوگئے تھے .جب مکہ فتح ہوا تو یہ قبیلہ اسلام قبول کرنے کی بجائے مکہ مکرمہ پر حملہ کی تیاریاں کرنے لگے. بنو ہوازن کا سردار مالک بن عوف تمام قبائل کے مال مویشی بچے اور خواتین بھی میدان جنگ میں ساتھ لے آیا .تاکہ یہ مردانگی سے لڑیں . اسلامی لشکر کی طرف پیش قدمی اسلامی لشکر رات کے وقت وادی حنین پہنچا.مالک بن عوف پہلے ہی اپنا لشکر اس وادی میں اتار کر مختلف جگہوں پر پھیلا چکاتھا . مسلمان دشمن کی موجودگی سے بالکل بے خبر تھے مسلمان آگے بڑھے .تو بنو ہوازن کے جنگجوؤں نے اچانک مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر دی. اس اچانک حملے سے مسلمان سنبھل نہ سکے. ان میں ایسی بھگدڑ مچی کہ کوئی کسی کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا .
مال غنیمتہر طرف افراتفری کا سماں تھا اس شدید بھگدڑمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھتے ہوئے فرما رہے تھے .میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں میںعبدالمطلب کا بیٹا ہوں. دشمن کی واضح شکست تھوڑی ہی دیر میں دشمن کو واضح شکست ہوئی. بنو ثقیف کے ستر آدمی مارے گئے . ان کے مال ہتھیار خواتین اور بچے مسلمانوں کے ساتھ بطور مال غنیمت آئے. اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے. جنگ حنین کے دن جب کہ تم کو اپنی جماعت کی کثرت پر غرور تھا .تسکین نازل فرمائیزمین باوجود اتنی بڑی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے پھر خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی ہیں نظر نہیں آتے تھے اتارے اور کافروں کو عذاب دیا . کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے غزوہ حنین سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ظاہری اسباب پر فخر .نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر حال میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرنی چاہیے. جا اور بہادری کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے ہر حالت میں صرف اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ اور توکل کرنا چاہیے.

Leave a Comment