“لوگو!مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو”

Madina mai koi mard na raha

امیر المئومنین حضرت ابو بکر صدیق خطبہ دے رہے تھے:“لوگو!مدینہ میں کوئ مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو”بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:“مدینہ میں کوئ نہ رہے حتی کہ جنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں”اللہ گواہ ہے کہ اگرحضرت علی المرتضی سیدنا صدیق اکبر کو نہ روکتے تو وہ خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے…
اے قوم!تمہیں پھر بھی ختم نبوت کی اہمیت معلوم نہ ہوئ13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو اسلحہ سے لیس کھڑے تھےیہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے:“بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے دیکھی نہ کبھی بعد میں”1200 صحابہ کٹے جسموں کے ساتھ مقتل میں پڑے تھے اور سورج کی چمکتی شعائیں ان کے قدموں کا بوسہ لیتی تھیںاے قوم!تمہیں پھر بھی ختم نبوت کی اہمیت معلوم نہ ہوئانصار کا وہ سردار ثابت بن قیسہاں وہی جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم میں مشہور تھےاس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:“اے اللہ!جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں”چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیااا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم پر کوئ ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر و سناں کا زخم نہ لگا ہوووواے قوم!تمہیں پھر بھی ختم نبوت کی اہمیت معلوم نہ ہوئوہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کااا لاڈلا بھائ۔۔۔۔ہاں وہی زید بن خطاب جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھاااا
اس نے مسلمانوں میں آخری خطبہ دیا:“واللہ!میں اج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں”یہ وہی تھااا جس کی شہادت نے مراد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رنجیدہ کر دیاااااے قوم!تمہیں پھر بھی ختم نبوت کی اہمیت معلوم نہ ہوئوہ بنو حنفیہ کا باغ “حدیقۃ الرحمان” تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے “حدیقۃ الموت” کہا جانے لگا۔۔۔وہ ایسا باغ تھا جس کی دیواریں مثل قلعہ کے تھیںکیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا لشکر ہووو اور براء بن مالک کہے:“لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں تمہارے لئے دروازہ کھولونگا”اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادی کا دعوہ کرے گا یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گااااایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھاا ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیااااا اور پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوت کو کاٹ کر رکھ دیاااااااے قوم!تمہیں پھر بھی ختم نبوت کی اہمیت معلوم نہ ہوئکاش کہ تم جان لیتے کہ تمہارے سلف نے اپنی جانیں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔کاش تمہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ان صحابہ کے جذبوں کا علم ہوتا جووو ایک مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔کاش تم یہ جان لیتے اے کاش!!!!!!!

Leave a Comment