حضرت یوسف علیہ اسلام کے خواب کی انوکھی تعبیر

Hazrat yousaf ki dastan

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو “احسن القصص ” یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ فرمایا۔ا س لیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی مقدس زندگی کےا تار چڑھاؤ اور رنج وراحت اور غم وسرور کے مدوجزر میں ہر ایک واقعہ بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کےسامان اپنے دامن لیے ہوئے ہے۔آپ ؑ کے بارہ بھا ئی تھے۔ان میں حضرت بنیامین حضرت یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے ۔باقی دوسری ماؤں سے تھے۔حضرت یوسف علیہ السلام اپنے تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ اپنے باپ کے پیارے تھے ۔ا ورچونکہ ان کی پیشانی پر نبوت کے نشان درخشاں تھے اس لیے حضرت یعقوب علیہ السلام ان کا بے حدا حترام کرتے ان سے انتہائی محبت فرماتے تھے ۔ سات برس کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاندسورج ان کو سجدہ کررہے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنا خواب اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کو سنایا توآپ نے ان کو منع فرمایا کہ پیارے بیٹے ! خبردار تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے مت بیان کرنا ورنہ وہ لوگ جذبہ حسد میں تمہارے خلاف کوئی چال چل دیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے بھائیوں کو ان پر حسد ہونے لگا۔ یہاں تک کہ سب بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان کو کس طرح گھر سے لے جاکر جنگل کے کنویں میں ڈال دیاجائے؟ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے سب بھائی جمع ہو کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس گئے ۔اور بہت اصرار کرکے شکاراورتفریح کا بہانہ بنا کر ان کو گھر سے کندھوں پر بٹھا کر لے چلے ۔

لیکن جنگل میں پہنچ کر دشمنی کے جوش میں ان کو زمین پر پٹخ دیا اورسب نے بہت زیادہ مارا ، پھر ان کا کرتا اتار کر اور ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک گہرے اندھیرے کنویں میں گرادیا۔ لیکن فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کنویں میں تشریف لاکر ان کو غرق ہونے سے اس طرح بچالیاکہ ان کو ایک پتھر پر بٹھادیاجو اس کنویں میں تھااور ہاتھ پاوں کھول کرتسلی دیتے ہوئے ان کا خوف وہراس دورکردیا ۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپ کو کنویں میں ڈال کر آپ کے پیراہن کو بکری کے خون سے لت پت کر کے اپنے گھرکو روانہ ہوگئے۔ا ور مکان کے باہر ہی سے چیخیں مار کر رونے لگے ۔حضرت یعقوب علیہ السلام گھبرا کر گھر سے باہر نکلے۔ا وررونے کا سبب پوچھا کہ ” تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟”کیا تمہاری بکریوں کو نقصان پہنچ چکاہے یا پھر۔۔۔۔؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ” یوسف کہاں ہے “؟ میں اس کو نہیں دیکھ رہاہوں ۔ تو بھائیوں نے روتے ہوئے کہا کہ ہم کھیلتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف علیہ السلام کو اپنا سامان کے پاس بٹھادیا۔ تو ایک بھیڑیا آیا اور بھائی کو کھاگیا۔ یہ ان کا کرتاہے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اشک بار ہوکر اپنے نور نظر کے کرتے کو جب ہاتھ میں لے کرغورسے دیکھا توکیادیکھتے ہیں کہ کرتاتو بالکل سلامت ہے ۔ کرتا کہیں سے بھی پھٹا ہوا نہیں ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فر ما یا”یہ سب تم لوگوں کی کارستانی اورمکروفریب ہے”۔ پھر آپ نے دکھے دل اوردرد بھری آواز میں فرمایا کہ :اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام تین دن اس کنویں میں تشریف فرمارہے ۔

یہ کنواں کھارا تھا مگرآپ کی برکت سے اس کا پانی بہت ہی میٹھا ہوگیا۔ا تفاق سے ایک قافلہ مدین سے مصر جارہاتھا۔ جب اس قافلے کا ایک آدمی جس کا نام مالک بن ذعرتھا۔ پانی بھرنے کے لیے آیا۔ کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلام ڈول پکڑ کر لٹک گئے ۔ مالک بن ذعر نے ڈول کھینچا توآپ کنویں سے باہر نکل آئے جب اس نے آپ کے حسن وجمال کو دیکھا تو “یبشریٰ ھذا غلام ” یہ کہہ کر ا پنے ساتھیوں کو خوش خبری سنانے لگا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اس جنگل میں روزانہ بکریاں چرایا کرتے تھے ۔ روزانہ کنویں میں جھانک جھانک کردیکھا کرتے تھے ۔جب ان لوگوں نے آ پ کو کنویں میں نہیں دیکھا توتلاش کرتے ہوئے قافلے کے پاس جا پہنچے ۔اور آپ کو دیکھتے ہی کہنے لگے یہ تو ہمارا بھاگاہوا غلام ہے ۔جو بالکل ہی ناکارہ اور نافرمان ہے۔اگر تم اس کو خریدوتوبہت ہی سستا تمہیں فروخت کردیں گے مگرشرط یہ ہے کہ تم لوگ اس کو یہاں سے اتنی دور لے جاکر فروخت کرنا کہ یہاں تک اس کی خبر تک نہ پہنچے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھائیوں کے خوف سے خاموش کھڑے رہے۔اور ایک لفظ بھی نہ بولے پھر ان کے بھائیوں نے ان کو مالک بن ذعر کےہاتھوں 20 درہم میں فروخت کردیاہے ۔ مالک بن ذعر نے ان کو خرید کر مصر کے بازار کا رخ کیا۔ اور بازار میں ان کو فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ا ن دنوں مصر کا بادشاہ ریان بن ولید عملیق تھا۔ا وراس نے اپنے وزیر اعظم قطفیر مصری کو مصر کی حکومت اور خزانے سونپ دئیے تھے۔ اور مصر میں لوگ ا س کو عزیز مصر کے خطاب سے پکارتے تھے۔

جب عزیز مصر کو معلوم ہوا کہ بازار مصر میں ایک بہت ہی خوبصورت غلام فروخت کے لیے لایا گیا ہے ۔اور لوگ اس کی خریداری کےلیے بڑی بڑی رقمیں لے کر بازار میں جمع ہوگئے ۔ توعزیز مصر نےحضرت یوسف علیہ السلام کے وزن کے برابر سونا اور اتنی ہی چاندی اور اتنا ہی مشک اتنے ہی حریر قیمت دے کر خرید لیا۔اور گھر لے جاکر اپنی بیوی ” زلیخا” سے کہا کہ اس غلام کو نہایت ہی اعزاز واکرام کے ساتھ رکھو اس وقت آپ کی عمر 13 یا 17 برس تھی ۔زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کے فریفتہ ہوگئی ۔ایک دن خوب بناؤ سنگھار کر کے تمام دروازوں کو بند کردیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو تنہائی میں لبھانے لگی ۔آپ نے ” معاذ اللہ” کہہ کر فرمایا : کہ میں اپنے مالک عزیز مصر کے احسان کو فراموش کر کے ہر گز اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرسکتا۔ پھر جب خود زلیخا آپ کی طرف لپکی توآپ بھاگ نکلے ۔ا ور زلیخا نے دوڑ کر پیچھے سے آپ کا پیراہن پکڑلیا۔ جو پھٹ گیا اور آپ کے پیچھے زلیخا دوڑتی ہوئی صدر دروازے پر پہنچ گئی ۔ اتفاق سے ٹھیک اسی حالت میں عزیز مصر مکان میں داخل ہوا۔ اوردونوں کو دوڑتے ہوئے دیکھ لیا ۔اس وقت زلیخا نے مکاری کی اور فورا بولی:اس غلام کی سزا یہ ہے کہ اس کو جیل خانہ بھیج دیاجائے یااور کوئی دوسری سخت سزا دی جائے ۔ کیونکہ اس نے تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا۔حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا :عزیز مصر !یہ بالکل غلط بیانی کررہی ہےاس نے خود مجھے خودمجھے لبھایا میں اس سے بچنے کےلیے بھاگا تواس نے میرا پیچھا کیا۔ عزیز مصر دونوں کا بیان سن کر حیران رہ گیا ۔

ا ور بولا :اے یوسف ! میں کس طرح یقین کرلوں کہ تم سچے ہو؟سلطنت کے ایک معزز شخص نے یہ تجو یز دی “اگر یوسف کی قمیص سامنے کی طرف سے پھٹی ہو تو عورت سچ کہتی ہے، اور وہ جھوٹے ہیں اور اگر ان کی قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹ بولتی ہےاور یہ سچے ہیں۔”قرآن اس واقعے کو یوں بیان کر تا ہے “پھر جب شوہر نے دیکھا کہ ان کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا کہ : یہ تم عورتوں کی مکاری ہے، واقعی تم عورتوں کی مکاری بڑی سخت ہے۔”یوسف ! تم اس بات کا خیال نہ کرو، اور اے عورت ! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینی طور پر تو ہی خطاکار تھی۔ شہر کی معززعورتوں میں اس واقعے کا چرچا ہونے لگا۔ کہنے لگیں کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو ورغلا نا چاہتی تھی،یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے!!!
جب زلیخا نے یہ بات سنی توان عورتوں کو دعوت بھیجی اور پھل وغیرہ ان کےسامنے رکھے ۔ا ورایک چھری پکڑوادی اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا کہ ذرا ان کے سامنے آئیے! جب ان عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا توحیرت کے مارے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پھل کاٹنے کے بجائے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ بولیں یہ تو انسان نہیں ہے بلکہ یہ فرشتہ ہے ۔ان خواتین نےاپنے اپنے طور سے یوسف علیہ السلام کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا،لیکن حضرت یوسف علیہ السلام ان کے دامن ِ فریب میں نہ پھنسے۔جب اس طرح کے واقعات بڑھ گئےتووزراء اورا رکان سلطنت سے عزیز مصر نے مشورہ کیا اور طے پایا کہ یوسف علیہ السلام کو قید خانہ بھجوادیاجائے۔ آپ نے جیل پہنچ کرفرمایا: اے اللہ! یہ قید خانہ کی کوٹھری مجھ کو اس بلا سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف زلیخااور خواتین ِمصر مجھے بلارہی تھی ۔ آپ سات یا بارہ برس جیل خانہ میں رہے ۔ا ور قیدیوں میں توحید اور اعمال صالحہ کی دعوت فرماتے رہے ۔تمام قیدی آپ کے حسن اخلاق اور آپ کے کردار کے گرویدہ ہوگئے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن آپ قید خانے میں داخل ہوئے اس دن آپ کے ساتھ بادشاہ مصر کے دو خادم ایک شراب پلانے والا دوسرا باورچی دونوں جیل خانے میں داخل ہوئے ۔دونوں پر الزام تھا کہ انھوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔ان دونوں نے جیل میں خواب دیکھا ، دونوں نے اپنا اپنا خواب حضرت یوسف علیہ السلام سے بیان کیا جس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے بیان کی جو سو فیصد صحیح ثابت ہوئی ۔

پہلے کا خواب یہ تھا کہ : “میں نے دیکھا ہے کہ میں شراب کا رس نچوڑ رہا ہوں “۔اس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے کچھ یوں دی کہ تم الزام سے بری ہوجاؤگےاور دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوکر اپنے مالک کو شراب پلاؤ گے ۔دوسرے کا خواب یہ تھا کہ :”میں نے دیکھا ہے میں اٹھائے ہوئے ہوں اپنے سر پرروٹی کہ کھارہے ہیں اس میں سے پرندے “۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس خواب کی تعبیر بیان کی کہ تمہیں سولی پر لٹکایا جائے گا اور تمہارے سر کو پرندے نوچ نوچ کر کھائیں گے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ساقی بری ہوگیا اور باورچی کوسزائے موت ہوگئی۔قیدخانے میں آپ کا نام معبر یعنی تعبیر دینے والا مشہور ہوگیا۔اسی دوران مصر کے بادشاہ اعظم نے بھی خواب دیکھا ـ”میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، نیز سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں۔ اے درباریو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کا مطلب بتاؤ۔” بادشاہ اعظم نےا پنے درباریوں اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو لوگوں نے اس خواب کو خواب پریشان کہہ کر اس کی کوئی تعبیر نہ بتائی اتنے میں بادشاہ کا ساقی جو قید خانے سے رہا ہو کر آگیاتھا اس نے کہا کہ مجھے اس خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے جیل خانے میں جانے کی اجازت دے دی جائے چنانچہ یہ بادشاہ کا قاصد بن کر قید خانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے اپس گیا۔ بادشاہ کا خواب بیان کر کے تعبیر دریافت کی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ سات برس مسلسل کھیتی کرواور ان کےا ناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھو پھر سات برس تک سخت خشک سالی رہے گی۔

قحط کے ان سات برسوں میں پہلے سات برسوں کا محفوظ کیا ہوا اناج لوگ کھائیں گے ۔ اس کے بعد پھر ہریالی کا سال آئے گا ۔قاصد نے واپس جاکربادشاہ سے اس کے خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ نے حکم دیاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانےسے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ قاصدرہائی کا پروانہ لے کر جیل خانہ میں پہنچا۔ تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زلیخا اوردوسری عورتوں کے ذریعےمیری بے گناہی اور پاک دامنی کا اظہارکرالیاجائے ۔ا س کے بعدہی جیل سےباہرنکلوں گا۔چنانچہ بادشاہ نےاس کی تحقیقات کرائی ۔توتحقیقات کے دوران زلیخا نے اقرارکرلیا کہ میں نے خود ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو پھسلایا تھا۔خطا میری ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام سچےاور پاک دامنی ہیں۔ا س کے بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں بلا کر کہا کہ آپ ہمارے دربار کے معزز ہیں ۔قحط سالی کے بعد یہ مشورہ ہوا وزراء سے مشورہ ہوا اورآپ سے بھی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ آپ زمین کے خزانے کے انتظامی امور اورحفاظتی نظام کے انتظام پر میرا تقرر کردیں ۔میں پورے نظام کو سنبھال لوں گا۔ بادشاہ نے خزانےکا انتظامی معاملہ اور ملک کے نظام کا پورا شعبہ آپ کے سپرد کردیا۔ اس طرح ملک مصر کی حکمرانی کا اقتدار آپ کو مل گیا۔اس کے بعدآپ نے خزانوں کا نظام اپنے ہاتھ میں سات سال تک کھیتی کی۔ اور اناجوں اور بالیوں میں محفوظ رکھا یہاں تک کہ قحط اورخشک سالی کا زورشروع ہوگیا توپوری سلطنت کے لوگ غلے کی خریداری کے لیے مصر آنا شروع ہوگئے اور ان کے غلے کی فروخت شروع ہوگئی اس سلسلے میں آپ کے بھائی کنعان سے مصرآئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان لوگوں کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پہچان لیا۔ ان کے بھائیوں نے آپ کو نہ پہنچانا۔ آپ نے ان لوگوں کو غلہ دے دیا اور پھر فرمایا : مجھے معلوم ہو اہے کہ تمہارا ایک بھائی یہ بھی ہے ۔آئندہ اس کو ساتھ لے کرآنا اگر تم لوگ ان کوساتھ نہ لائے تو تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔ بھائیوں نے جواب دیا: ہم اس کے والد کو رضامند کرنے کی کوشش کریں گے۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام اپنے غلاموں سے کہا کہ تم لوگ ان کی نقدیوں کو ان کی بوریوں میں ڈال دو۔
یہ لوگ جب اپنے گھر پہنچیں اور نقدیوں کو دیکھیں گے تو ضرور واپس آئیں گے ۔چنانچہ یہ لوگ اپنے والد کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : اباجان ! اب کیا ہوگا؟ عزیز مصر نے یہ کہہ دیا جب تک تم لوگ بنیامین کو ساتھ لے کر نہ آؤ گے تمہیں غلہ نہیں ملے گا ۔ لہذا آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیں ۔ تاکہ ہم ان کے حصے کا بھی غلہ لے لیں ۔ اورآپ اطمینان رکھیں کہ ہم لوگ ان کی حفاظت کریں گے۔ اس کے بعد جب ان لوگوں نے اپنی بوریوں کو کھولا تو حیران رہ گئے کہ ان کی رقمیں اور نقدیاں ان کی بوریوں میں موجود تھی یہ دیکھ کر برادرز یوسف علیہ السلام نے پھر اپنے والد سے کہا : اباجان ! اس سے بڑھ کر اچھا سلوک کیا چاہیے ؟ دیکھ لیجیے ! عزیز مصر نے ہم کو پورا غلہ بھی دیا ہے اور ہماری نقدیوں کو بھی واپس کردیاہے لہذا آپ بلاخوف وخطر ہمارے بھائی بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا :میں ایک مرتبہ یوسف کے معاملہ میں تم لوگوں پر بھروسہ کرچکاہوں ، اب میں دوبارہ تم لوگوں پر بھروسہ کیسے کروں ۔ میں اس طرح بنیامین کو ہر گز تم لوگوں کے ساتھ نہیں بھیجوں گا ۔ لیکن ہاں اگر تم لوگ جاؤ اٹھا کر میرے سامنے عہد کرو تو البتہ میں اس کو بھیج سکتا ہوں ۔ یہ سن کر بھائیوں نے حلف کا عہد اٹھالیا۔ اورآپ نے ان لوگوں کے ساتھ بنیامین کو بھیج دیا۔ جب یہ لوگ عزیز مصر کے دربار میں پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنی مسند میں بٹھادیا۔ اور چپکے سے ان سے کہا کہ میں تمہارا بھائی (یوسف ) ہوں ۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت یوسف علیہ السلام نے یہاں ایک چال چلی ان تمام بھائیوں کی بوریاں اناج سے بھردیاور اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ / پیمانہ شاہی رکھوادیا ۔
پھر ایک پکارنے والے نے پکارا : تم تو چور ہو۔ وہ سارے بھائی متوجہ ہوگئے ۔ا ور ان سے کہنے لگے: تم کیا گم کر بیٹھے ہو؟ وہ بولے ہمارا ایک شاہی پیالہ گم ہوا ہے۔ جو اسے ڈھونڈ کر لائےگا اسے ایک اونٹ کا بوجھ ملے گا۔سارے بھائی بولے: اللہ کی قسم ہم توچور نہیں ہیں ۔ پکارنے والے نے کہا : اگر تم پر چوری ثابت ہوجائے تو کیا سزا ہے ؟ وہ بھائی بولے :” جس کے پاس سے وہ پیالہ شاہی نکلے وہ بندہ ہی اس کی سزا ہے “پھر انہوں نے سامان کی تلاش شروع کی پہلے دوسرے بھائیوں کا سامان کھنگالاا ور آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی لی۔بنیامین کے سامان سے وہ پیالہ شاہی نکال لیاگیا ۔بھائی بولے :” اس نے چوری کی ہے تو اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکاہے۔”پھر کہنے لگا :” اے عزیز! بے شک ہمارا باپ بوڑھا اور لمبی عمر والا ہے اس کی جگہ ہمیں پکڑلوو ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے “۔یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم اللہ کی پناہ پکڑیں سوائے اس کے کہ ہم نے پایا اپنا سامان جس کے پاس۔بے شک میں اس وقت ظالموں سے ہوں گا۔”اب برادران یوسف سخت پریشان ہوئے اپنے والد کے روبرو یہ عہد کر کے آئے تھے کہ ہم اپنی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کریں گے ۔ اور یہاں بنیامین ان کے ہاتھوں سے چھین لیےگئے اب گھر جائیں توکیسے؟ اور ٹھہریں تو کیسے ؟یہ معاملہ دیکھ کر سب سے بڑا بھائی یہودا کہنے لگا : میرے بھائیو! سوچو تم نے اپنے والد کو کیا عہد دیاہے ؟اس سے پہلے بھی تم اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کتنی بڑی کوتاہی کرچکے ہو۔ لہذا میں تواس وقت تک یہاں سے نہ جاؤں گا جب تک والد صاحب خود آنے کا فرمائیں یا اللہ تعالی اس معاملے کو حل فرمادیں!
چنانچہ یہودا کے سوا دوسرے سب بھائی لوٹ کر گھر آئے اور اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے سارا حال بیان کردیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: یوسف کی طرح بنیامین کے معاملے میں بھی تم لوگوں نے حیلہ بازی کی ہے ۔ خیر!میں صبر کرتا ہوں اور صبر بہت اچھی چیز ہے۔ پھر آپ نے منہ پھیر کر رونا شروع کردیااور کہا : ہائے افسوس ! میرا یوسف! اور یوسف علیہ السلام کویاد کر کے اتنا روئے کہ شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور روتے روتے آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ آپ کی زبان سے یوسف علیہ السلام کا نام سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام سے ان کے بیٹوں ، پوتوں نے کہا: اباجان ! آپ ہمیشہ یوسف علیہ السلام کو ہی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لب گور ہو جائیں یا جان سے گزر جائیں ،اپنے بیٹوں ، پوتوں کی بات سن کر آپ نے فرمایا :’’ میں اپنے غم اور پریشانی کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں ۔ا ور میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم لوگوں کو معلوم نہیں ۔‘‘پھر فرمایا: میرے بیٹوں تم لوگ جاؤ ۔ یوسف اور اس کے بھائی بنیامین کو تلاش کرو۔ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا! اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجانا کافروں کا کام ہے ۔چنانچہ برادران یوسف پھرمصر کو روانہ ہوئے اور جاکر عزیز مصر سے کہا : اے عزیز مصر! ہمارے گھروالوں کو بہت بڑی مصیبت پہنچ چکی ہے ۔اپنے بھائیوں کی زبان سے گھر کی داستان سن کر حضرت یوسف علیہ السلام پر رقت طاری ہوگیا۔ اور آپ نے بھائیوں سے پوچھا : تم لوگوں کویاد ہے تم لوگوں نے یوسف اور اس کے بھائی بنیامین کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ یہ سن کر بھائیوں نے حیران ہو کر پوچھا ـ سچ سچ آپ یوسف علیہ السلام ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! میں ہی یوسف ہوں ۔ اور بنیامین میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پربڑا فضل واحسان کیا ہے ۔ یہ سن کر بھائیوں نے نہایت شرمندگی اور لجاجت کے ساتھ کہنا شروع کیا کہ بے شک ہم لوگ واقعی بڑے خطاکار ہیں ۔
ا ور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر بڑی فضیلت بخشی ہے ۔ بھائیوں کی شرمندگی اور لجاجت سے متاثر ہو کرآپ کا دل بھر آیا۔ آپ نے فرمایا :آج میں تم لوگوں کو ملامت نہیں کروں گا ، جاؤ میں نے سب کچھ معاف کردیا۔ اللہ تعالیٰ تم کو معاف فرمائے ۔ اب تم لوگ یہ میرا کرتا لے جاؤ اور اباجان کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی آنکھوں میں روشنی آجائے گی۔ پھر تم سب گھر والوں کو ساتھ لے کر مصر چلے آؤ۔بڑا بھائی کہنے لگا: یہ کرتا میں لے کر جاؤں گا کیونکہ میں ہی آپ کا کرتا بکری کے خون میں رنگ کر کے اپنے والد کے پاس لے گیاتھا اور انہیں یہ کہہ کر غمگین کردیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھاگیا۔تو میں نے ہی انہیں غمگین کیا تھا اورآج حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کی خوشخبری بھی میں ہی سناؤں گا۔ اور ان کو خوش کرنا چاہتا ہوں ۔ یہودا اس کرتے کو لے کر اسی کوس تک ننگے سر دوڑتا ہوا چلاگیا۔راستے کی خوراک کےلیے اس کے پاس سات روٹیاں تھیں مگر فرط مسرت اور جلد سے جلد سفر طے کر کے والد محترم کے پاس جا پہنچا ۔یہودا جیسے ہی کرتا لے کر مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوا ادھر کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو محسوس ہوئی ۔آپ نے اپنے پوتوں سے فرمایا :اگر تم مجھے یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے، تو مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ آپ کے پوتوں نے جواب دیا :”خدا کی قسم! آپ اب بھی اس پرانی سی بات پر پڑے ہوئے ہیں ۔ بھلا کہاں یوسف ہیں اور کہاں ا ن کی خوشبو ؟لیکن جب یہودا کرتا لے کر کنعان پہنچا اور جیسے ہی کرتے کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالا توفوراً ہی ان کی آنکھوں کی روشنی لوٹ آئی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے :
پھر جب خوشخبری دینے والا پہنچ گیا تو اس نے (یوسف کی) قمیص ان کے منہ پر ڈال دی، اور فورا ان کی بینائی واپس آگئی۔ انہوں نے (اپنے بیٹوں سے) کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے؟پھر یعقوب علیہ السلام نے تہجد کےوقت کے بعد اپنے سب بیٹوں کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور یہ دعا مقبول ہوگئی ۔چنانچہ آپ پر وحی اتری کہ آپ نے صاحبزادوں کی خطائیں بخش دی گئی ہیں ۔پھر مصر کو روانگی کا سامان ہوا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نےا پنے والد اور سب گھر نے اہل وعیال لانے کے لیے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں بھیج دیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا تو کل بہتر یا تہتر آدمی تھے۔جن کو ساتھ لے کر مصرروانہ ہوگئے ، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے مصر جانے سے صرف چارسوسال بعد کا زمانہ ہے ۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے چار ہزار لشکر اور بہت سے مصری سواروں کو ساتھ لے کر آپ کا استقبال کیا۔ اور جھنڈے اور قیمتی پرچم لہراتے ہوئے قطاریں باندھے مصری باشندے جلوس کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزند یہودا کو کہا :یہ بادشاہ مصر کا لشکر ہے؟ تویہودا نے عرض کیا : جی نہیں ۔ یہ آپ کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو اپنے لشکروں اورسواروں کے ساتھ استقبال کے لیے آئے ہوئے ہیں ۔
آپ کو متعجب دیکھ کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا : اے اللہ کےنبی! سراٹھا کر فضائے آسمانی میں نظر فرمائیے کہ آ پ کے سرورشادمانی میں شرکت کے لیے ملائکہ کا جم غفیر حاضر ہے ۔ جو مدتوں آپ کے غم میں روتے رہیں ۔ملائکہ کی تسبیح اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ ار طبل وبوق کی آوازوں نے عجیب سا سماں پیدا کردیاتھا ۔ جب باپ بیٹے دونوں قریب ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے سلام کا ارادہ کیا توحضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ذرا توقف کیجیے ۔چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان لفظوں میں ان کو سلام کہا کہ” اے تمام غموں کو دور کرنے والے آپ پر سلام ہو ۔” پھر باپ بیٹے بڑی گرمجوشی سے ملے اور فرط مسرت میں دونوں خوب روئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے سہارادے کر اپنے والد محترم کو تخت شاہی پر بٹھادیا ۔ اور آپ کے ارد گرد گیارہ بھائی اورآپ کی والدہ بیٹھ گئے ،اور سب کے سب حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے سجدے میں گر پڑے ۔اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا :ترجمہ: اے اباجان ! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بے شک اسے میرے رب نے سچا کیا۔اور بے شک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا۔ اس کے بعد شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی ۔بے شک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے اور بے شک وہی علم وحکمت والا ہے ۔ یعنی میرے گیارہ بھائی ستارے ہیں اور میرے باپ سورج اور میری والدہ چاند ہیں اور یہ سب مجھ کو سجدہ کررہے ہیں ۔یہ تاریخی واقعہ محرم کی دس تاریخ عاشورہ کے دن وقوع پذیر ہوا، حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ کی عمر ایک سو برس تھی۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام کو سنگ مرمر لکڑی کے صندوق میں ڈال دیاتھا۔ا ورا ن لوگوں نے حصول برکت لیے بیچ وبیچ دریائے نیل میں رکھ دیا۔پھر چار سو برس بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دریائے نیل سے نکال کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پہلو مبارک ملک شام میں دفن کردیا ۔حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت اسحٰق علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک ملک شام میں ہے

Leave a Comment