ملکہ بلقیس کا تخت اور ہد ہد کا واقعہ

Malka-e-balkees ka takht

سیدنا سلیمان علیہ السلام وہ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے منصبِ نبوت کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر ملک و سلطنت بھی عطا فرمائی تاکہ آپ اپنی ظاہری اور باطنی دونوں قوتوں کے ساتھ معاشرۂ انسانی میں فتنہ و فساد پھیلانے والی شر کی طاقتوں سے نبرد آزما ہو سکیں ۔ حضرت داؤدؑ کے اُنیس بیٹے تھے مگر آپ کے علم و ملک و نبوت اور خلافت کے وارث حضرت سلیمانؑ بنے۔
آپؑ زمین کے مشارق و مغارب کے مالک تھے اور آپؑ نے ساڑھے سات سو سال تک تمام اہل دنیا جن و انس اورچرند پرند پر حکومت کی اور اس کے ساتھ ساتھ آپؑ کو ہر چیز کی زبان کا علم بھی عطا فرمایا گیا تھا۔ روح البیان کے اندر بھی آپؑ کی حکومت ساڑھے سات سو سال ذکر کی گئی ہے-حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر اور ان کے حکم کے تابع بنا دیا گیا حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ اپنے تخت پر بیٹھ کر صبح کے وقت دمشق سے روانہ ہوتے اور ’’اصطخر‘‘ پہنچ کر قیلولہ کرتے، اسی طرح شام کو ’’اصطخر‘‘ سے روانہ ہوتے اور کابل میں رات گزارتے ان دونوں شہروں کے درمیان تیز رفتار مسافر کے لئے ایک ماہ کی مسافت تھی- حضرت سلیمانؑ کے لشکر کی چھائونی سو فرسخ میں تھی ان میں سے پچیس فرسخ جنوں کے لیے، پچیس انسانوں کے لیے، پچیس پرندوں کے لیے اور پچیس فرسخ دیگر جانوروں کے لیے تھے- آپ کے لیے لکڑی کے تخت پر سو گھر تھے جن میں آپ کی باندیاں رہائش پذیر تھیں- آپ تیز ہوا کو حکم دیتے تو وہ آپ کو لے کر چل پڑتی تھی-

پس ایک دن آپ ؑ زمین و آسمان کے درمیان جا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے آپ کی حکومت میں اضافہ کر دیا ہے وہ اس طرح کہ مخلوق سے جو بھی کہیں بات کرے گا ہوا اسے آپ کے پاس لے آئے گی اور آپ کو اس سے آگاہ کردے گی‘‘-حضرت دائود ؑ اس امر سے آگاہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کو علم و دانش ذکاوت و خطابت اور مقدمات کے فیصلے کی صلاحیت بچپن ہی سے عطا کردی تھی-ایک مرتبہ آپ ؑ نے حضرت سلیمان ؑ سے چند سوالات پوچھے کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ جواب ملا ’’ایمان‘‘- پھر آپ ؑ نے بری چیز کے بارے میں سوال کیا؟ تو جواب ملا ’’کفر‘‘ پھر آپ ؑ نے میٹھی چیز کے بارے میں پوچھا تو آپ ؑ نے فرمایا ’’خدا کی رحمت‘‘- پھر آپ ؑ سے ٹھنڈک والی چیز کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا ’’خدا تعالیٰ کا لوگوں سے دَرگزرکرنا اور انسانوں کا ایک دوسرے کو معاف کردینا‘‘- یہ جوابات سن کر حضرت دائود ؑ نے فرمایا کہ سلیمان ؑ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں-بچپن ہی سے حضرت دائود ؑ اُمورِ سلطنت اور نظام حکومت کے اہم فیصلوں میں انہیں شریک رکھتے- اہم اُمور اور مقدموں میں بھی آپ ؑ سے مدد و مشورہ لیا کرتے- حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دو عورتیں اپنے اپنے بچوں کو ساتھ لے کرجارہی تھیں اتنے میں بھیڑیا آکر ان میں سے ایک بچے کو لے گیا- ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ یہ میرا بچہ ہے اور بھیڑیا تمہارے بچے کو لے گیا ہے، دوسری نے کہا نہیں تمہارے بچے کو لے گیا ہے- وہ دونوں حضرت داؤود ؑ کے پاس اپنا مقدمہ لے کر گئیں-

تو آپ ؑ نے مقدمہ سن کرفیصلہ بڑی کے حق میں دے دیا کیونکہ بظاہربچہ بڑی کے قبضے میں تھا اور چھوٹی اس کے خلاف کوئی گواہی بھی پیش نہ کر سکی تھی – وہ دونوں حضرت سلیمانؑ کے پاس آئیں اور آپ کو معاملے کی خبر دی- آپ ؑ نے قصہ سن کر چھری لانے کا حکم دیا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر دئیے جائیں- چھوٹی نے فیصلہ سن کر کہا کہ نہیں بچے کے ٹکڑے نہ کرو- یہ اس بڑی کا ہی بچہ ہے- یوں آپ نے بچے کا فیصلہ چھوٹی کے حق میں سنا دیا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہد ہد، علم ہندسہ کا ماہر تھا اور وہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے پانی کی نشاندہی کرتا تھا –جب آپ ؑ جنگل میں ہوتے تو پانی کی ذمہ داری اسے سونپ دیتے- زمین کے اندر کا پانی اسے اس طرح دکھائی دیتا جس طرح انسان کو زمین پر پڑی ہوئی چیز نظر آتی ہے چنانچہ یہ پانی کی نشاندہی کر دیتا اور سطح زمین سے اس کی گہرائی بھی بتا دیتا- حضرت سلیمان ؑ جنات کو حکم دیتے وہ اس جگہ کنواں کھود لیتے اس طرح وہاں سے پانی پھوٹ پڑتا۔جب حضرت سلیمانؑ حج کرنے کے بعد حرم شریف سے و اپس آئے تو زوال کے وقت یمن کے مقام صنعائ میں پہنچے- یہ جگہ حرم سے ایک ماہ کی مسافت پر تھی ان کو وہ جگہ اچھی لگی- انہوں نے کھانے اور نماز پڑھنے کے لیے وہاں اترنے کا قصد کیا جب وہ تخت سے اس جگہ اتر گئے تو ہدہد نے دل میں کہا حضرت سلیمان ؑ تو اس جگہ کی سیر میں مشغول ہیں میں اڑ کر فضا میں گھومتا ہوں- اس نے دائیں بائیں دیکھا تو اس کو بلقیس کا باغ نظر آیا وہ اس کے سبزہ اور پھولوں کی طرف مائل ہوا وہ اس باغ میں اتر گیا وہاں بھی اس نے ایک ہد ہد کو دیکھا –

حضرت سلیمان ؑ کے ہدہد کا نام یعفور تھا اور یمن کے ہدہد کا نام یعفیر تھا- پس یمن کے یعفیر نے حضرت سلیمان ؑ کے یعفور سے کہاتم کہاں سے آئے ہو اور کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا میں اپنے بادشاہ سلیمان بن دؤاد کے ساتھ یمن میں آیا ہوں- اس نے پوچھا سلیمان کون ہے؟ یعفور نے کہا وہ جن و انس، شیاطین، پرندوں ، چرندوں اور ہواؤں کے بادشاہ ہیں؟ پھر یعفورنے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا میں اس ملک کا رہنے والا ہوں- یعفور نے پوچھا اس ملک کا بادشاہ کون ہے؟ اس نے کہا ایک عورت ہے جس کا نام بلقیس ہے، اور بے شک تمہارا مالک بہت بڑا بادشاہ ہے لیکن بلقیس کا ملک بھی اس سے کم نہیں ہے وہ پورے یمن کی ملکہ ہے اور اس کے ماتحت بارہ ہزار سردار ہیں اور ہر سردار کے تحت ایک لاکھ جنگجو ہیں کیا تم میرے ساتھ چلو گے تاکہ میں تمہیں اس کا ملک دکھاؤں؟یعفور نے کہا مجھے خدشہ ہے کہ سلیمانؑ کو جب پانی کی ضرورت ہوگی تو وہ مجھے تلاش کریں گے کیونکہ میں ان کو پانی کی طرف رہنمائی کرتا ہوں- یمنی ہدہد نے کہا جب تم اپنے باد شاہ کے پاس اس ملک کی خبر لے کر جاؤ گے تو وہ خوش ہوگا، پھر یعفور اس کے ساتھ چلا گیا تو بلقیس اور اس کے ملک کو دیکھا- ہدہد عصر کے وقت حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچا- ادھر حضرت سلیمانؑ نماز کے وقت تخت سے اترے اس جگہ پانی نہیں تھا، آپ ؑ نے انسان، جنات اور شیاطین سے پانی کے متعلق سوال کیا تو ان کو معلوم نہیں تھا- پھر آپ نے پرندوں کی تفتیش کی تو ہدہد کو غیر حاضر پایا- آپ نے پرندوں کے تلاش کرنے والے کو بلایا وہ گدھ تھا اس سے ہدہد کے متعلق سوال کیا،

اس نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کے ملک کو سلامت رکھے مجھے معلوم نہیں وہ کہاں ہے؟ حضرت سلیمان ؑ غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس کو ضرور سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر دوں گا- پھر پرندوں کے سردار عقاب کو بلایا اور اس سے کہا ابھی ہدہد کو لاکر حاضر کرو- عقاب ہوا میں بلند ہوا اور دائیں بائیں نظر ڈالی تو ہدہد یمن کی طرف سے آرہا تھا عقاب اس پر حملہ کرنے کے لئے چھپٹا تو ہدہد نے اس کو قسم دی کہ اس ذات کی قسم جس نے تجھ کو مجھ پر قدرت دی ہے مجھ پر حملہ نہ کر! عقاب نے اس کو چھوڑ دیا اور کہا کہ تجھ پر افسوس ہے تجھ پر تیری ماں روئے اللہ کے نبی نے یہ قسم کھائی ہے کہ وہ تجھ کو ضرور سزا دے گا یا ضرور ذبح کر دے گا- ہدہد نے پوچھا آیا اللہ کے نبی نے قسم کے ساتھ کوئی استثنائ بھی کیا ہے یا نہیں تو اس کو بتایا کہ حضرت سلیمانؑ نے کہا ہے کہ ورنہ وہ اس کی صاف صاف وجہ بیان کرے- ہدہد نے کہا اب میری نجات ہو جائے گی پھر عقاب اور ہدہد حضرت سلیمان ؑ کی خد مت میں حاضر ہوئے- اس وقت حضرت سلیمان ؑ اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے عقاب نے کہا میں نے ہدہد کو حاضر کر دیا ہے- ہدہد نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور اپنی دُم اور پَر جھکا دئیے-حضرت سلیمانؑ نے اس سے پوچھا تم کہاں تھے؟ میں تم کو سخت سزا دوں گا- ہدہد نے کہا اے اللہ کے نبی! آپ وہ وقت یاد کیجیے جب آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے حضرت سلیمان ؑ یہ سن کر کانپنے لگے اور اس کو معاف کر دیا پھر اس سے تاخیر کا سبب دریافت کیا تواس نے کہاکہ میں نے اس جگہ کا احاطہ کرلیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا میں آپ کے پاس ملک سبا کی ایک یقینی خبر لایا ہوں،

میں نے دیکھا کہ ان پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے اور اس کو ہر چیز سے نواز دیا گیا ہے اور اس کا بہت بڑا تخت ہے‘‘- ہدہد نے جب اہلِ سبا اور ان کی ملکہ کے متعلق حضرت سلیمانؑ کو آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم تحقیق کریں گے کہ کیا تو نے سچ بولا ہے یا سزا سے بچنے کے لیے غلط بیانی کی ہے ہم اس کی تہہ تک پہنچیں گے-حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس تخت کی لمبائی اسی ہاتھ تھی اور اس کی چوڑائی چالیس ہاتھ تھی اور اونچائی تیس ہاتھ تھی جس پر موتیوں، سرخ یا قوت اور سبز زبرجد کا تاج تھا‘‘- علمائے تاریخ کا کہنا ہے کہ یہ تخت ایک عظیم الشان اور بڑے پختہ محل میں رکھا ہوا تھا جس کی مشرقی جانب تین سو ساٹھ دروازے تھے اور اتنی تعداد میں ہی مغربی جانب میں تھے- اس کی وضع ایسی تھی کہ ہر روز سورج ایک دروازے سے داخل ہوتا اوراس کے بالمقابل دروازے سے غروب ہوتا اس کے درباری صبح و شام اسے سجدہ کر تے تھے- آپ ؑ نے ملکہ بلقیس کے نام ایک خط لکھا اور ہد ہد کے حوالے کیا اور فرمایا اس کو لے جا چنانچہ ہد ہد اس خط کو اپنے پَر یا چونچ میں لے کر بلقیس کے محل تک پہنچ گیا وہ اس وقت سوئی ہوئی تھی ہدہدایک روشن دان سے دخل ہوا اور خط کو اس کے اوپر پھینک دیا- اس نے خط اٹھایا اور اسے کھول کر پڑھا تو اس کا مضمون یہ تھا-’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے سلیمان بن دائود کی جانب سے بلقیس ملکہ سبا کی طرف ہے جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے لیے سلامتی ہے،اما بعد مجھ پر غلبہ کی خواہش نہ رکھو-
میرے پاس اطاعت کرتے ہوئے حاضر ہوجائو‘‘-ملکہ نے شاہی مشیروں کو خط پڑھ کر سنایا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ طلب کرتے ہوئے کہنے لگی کہ میں حضرت سلیما نؑ کی طرف ایک تحفہ بھیجتی ہوں- اگر انہوں نے قبول کر لیا تو وہ بادشاہ ہے میں اس سے جنگ کروں گی- لیکن اگر انہوں نے تحفہ قبول نہ کیا تو میں اس کی پیروی کروں گی کیونکہ وہ نبی ہیں -بلقیس نے جو تحفے حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں بھیجے تھے پانچ سو لونڈیوں کو خوب آراستہ کیا اور ہزار سونے کی اینٹیں ایک سونے کا تاج جس میں یا قوت اور موتی جڑے ہوئے تھے- جب ملکہ بلقیس کے قاصد حضرت سلیمان ؑ کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان ؑ کو ان کی خبر پہنچ گئی- آپ نے جنوں کو حکم دیا تو انہوں نے سونے اور چاندی کے ایک ہزار محلات بنادیے- جب ملکہ بلقیس کے قاصد وں نے سونے کے محلات دیکھے تو انہوں نے کہا اسے ہمارے تحائف سے کیا سروکار جبکہ اس کے محلات سونے اور چاندی کے ہیں- جب وہ تحائف کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سلیمانؑ نے تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں واپس بھجوا دیا-جب نمائندے بلقیس کے پاس پہنچے اور جا کر سلیمانؑ کے حالات سنائے تو کہنے لگی میں تو پہلے ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ بادشاہ نہیں بلکہ نبی ہیں ہم سے ان کا مقابلہ نہیں ہوسکے گا- یہ کہہ کر حضرت سلیمان ؑ کی طرف ایک قاصد بھیج دیا اور عرض کی کہ میں اپنے سرداروں کو لے کر حاضر ہو رہی ہوں جو آپ کا حکم ہوگا اسے بجا لائیں گے اور آپ کا دین قبول کریں گے۔

Leave a Comment