وادی حجر کی مکمل داستان

Wadi hijar ki dastaan

معزز خواتین و حضرات اللہ رب العزت قرآن کر یم میں ارشاد فرما تے ہے کہ “قوم لوط نے (پیغمبر کی ) تنبیہ کو جھٹلایا ۔ ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا ان پر بھیج دی جس نے انہیں تباہ کر دیا، صرف لوطؑ کے گھر والے اس سے محفوظ رہے، جنہیں ہم نے اپنے فضل سے صبح ہونے سے قبل وہاں سےبچا کر نکال لیا۔ ہم ہر اس شخص کو جز ا دیتے ہیں، جو شکر گزار ہوتاہے۔ اور لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری (جانب سے بھیجی گئی) سزا سے خبردار کیا لیکنوہ ساری تنبیہات پر شک کرتے اور انہیں نظر انداز کرتے رہے۔‘‘(سورۃ القمر۔آیات 33 تا 36 )حضرت لوط ؑ کا زمانہ عین وہی ہے جوحضرت ابراہیم ؑ کا تھا۔ حضرت لوطؑ کو حضرت ابراہیم کے ایک نواحی علاقے میں پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔ یہ لوگ ، جیسا کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے، بدفعلی کی عادتِ بد میں مبتلا تھے جو اس وقت تک کی دنیا میں ایک نامعلوم عمل شمار ہوتی تھی۔جب حضرت لوط ؑ نے ان لوگوں کو بدفعلی سے روکا اور انہیں اﷲ تعالی کی جانب سے تنبیہ پہنچائی ، تو انہوں نے حضرت لوطؑ کو پیغمبر ماننے اور کوئی بھی نصیحت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور غیر فطری فعل سے شغل جاری رکھا۔ آخر کار اﷲ تعالی نے ان لوگوں پر عذاب نازل کیا اور وہ لوگ ایک عبرت انگیز حادثے کی بناء پر روئے زمین سے نیست و نابود ہو گئے۔قرآن کہتاہے:”لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ۔ یاد کرو جب ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا ’کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں لہٰذا تم اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لئے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو‘۔ان لوگوں نے کہا:”اگر تو ان باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں، ان میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا‘ (اس پر) انہوں (حضرت لوطؑ ) نے کہا:”تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کڑھ رہے ہیں، میں ان میں شامل ہوں۔”(سورۃ الشعراء ۔آیات 160 تا 168)حضرت لوطؑ کی دعوتِ حق کے جواب میں ان لوگوں نے انہیں دھمکانا شروع کردیا۔یہ لوگ حضرت لوطؑ اور ان کے ماننے والوں کی راست بازی کے باعث ان سے نفرت کرنے لگے اور انہیں جلا وطن کرنے کے خواہش مند ہوگئے۔دیگر آیاتِ قرآنی میں یہ واقعہ کچھ اس طرح بیان کیاگیا ہے:”اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بناکر بھیجا ۔ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ’ کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہوکہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’نکالو ان لوگوں کو اپنی بستیوں سے! بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ‘۔‘‘”سورۃ الاعراف۔ آیات 80 تا 82 )حضرت لوطؑ نے اپنی قوم کو روز روشن کی مانند عیاں سچائی کی دعوت دی اور انہیں کھلے بندوں میں تنبیہ کی، لیکن یہ لوگ کسی نصیحت ، کسی تنبیہ کو خاطر میں نہیں لائے۔ انہوں نے حضرت لوطؑ کی بات ماننے سے انکار کیا

اور اس سزا کا یقین بھی نہیں کیا جس کی انہیں پیشگی اطلاع دی جارہی تھی۔قرآن بتا تا ہے:”اور (یاد کرو) جب ہم نے لوط ؑ کو بھیجا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: ’تم وہ فحش کام کرتے ہو، جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں (تک) میں برے کام کرتے ہو۔‘ پھر اس کی قوم کے پاس، اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا: ’لے آ اﷲ کا عذاب اگر تو سچاہے‘۔‘‘(سورۃ العنکبوت۔ آیات 28 تا 29 )اپنی قوم کا یہ جواب سننے کے بعد حضرت لوطؑ نے اﷲ تعالی سے مدد مانگی: ’’اے میرے رب! ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما‘‘۔(العنکبوت ۔ آیت 30 )’’اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے اہل وعیال کو ان کی بدکرداروں سے نجات دے‘‘۔(الشعراء ۔آیت 169 )حضرت لوطؑ کی دعا پر اﷲ تعالی نے آدمیوں کی شکل میں دو فرشتے بھیجے۔حضرت لوطؑ کے پاس آنے سے پہلے یہ فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس گئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم کو خوشخبری دی کہ ان کی بیوی کے یہاں بچے کی ولادت ہوگی، اور یہ بھی بتایا کہ انہیں بھیجنے کا مقصد قوم لوط ؑ کے اوباش ، عیاش اور گمراہ لوگوں کو تباہ کرنا ہے۔قرآن میں ارشاد ہوتاہے:’’ابراہیم نے کہا: ’اے فرستادگانِ الہٰی ! اور کیا مہم آپ کو درپیش ہے؟‘ انہوں نے کہا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسادیں جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزرجانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں‘۔‘‘(الذاریات۔ آیات 31 تا 34 )’’صرف لوط ؑ کے گھروالے مستشنٰی ہیں، انہیں ہم بچالیں گے، سوائے اس کی بیوی کے جس کے لئے(اﷲ تعالیٰ فرماتاہے کہ) ہم نے مقدر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی‘‘۔ (الحجر۔ آیات 59 تا 60 )

حضرت ابراہیم ؑ سے ملنے کے بعدیہ فرشتے حضرت لوطؑ کے پاس آئے۔ وہ ان فرشتوں سے (جو انسانی شکل میں تھے) ناواقف تھے اس لئے پہلے تو پریشان ہوگئے لیکن پھر ان سے بات کرنے کے بعد پرسکون ہوگئے۔’’اور جب ہمارے پیغام رساں (فرشتے ) لوطؑ کے پاس پہنچے توان کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور (اس خیال سے کہ انہیں اپنی قوم کے لوگوں سے بچانا بس سے باہر ہوگا) وہ پریشان ہوکر کہنے لگا کہ آج تو بڑی مصیبت کا دن ہے‘‘۔(سورۃ ھود۔ آیت 77 )’’پھر جب یہ پیغام رساں لوطؑ کے ہاں پہنچے تو اس نے کہا : ’آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں‘ ۔ انہوں نے جواب دیا: ’نہیں! بلکہ ہم لوگ وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کررہے تھے۔ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ لہٰذا اب تم کچھ رات ہونے کے بعد اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے‘۔ اور ہم نے اپنا فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جائے گی‘‘۔(سورۃ الحجر۔ آیات 62 تا 66 )دریں اثناء قوم لوطؑ کے گمراہ افراد کو ان کے یہاں مہمانوں کے اطلاع مل گئی ۔ وہ اپنے ناپاک ارادے لے کر دوڑے دوڑے حضرت لوطؑ کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے ہر طرح کی شرم وحیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حضرت لوطؑ سے مطالبہ کیا کہ اپنے مہمان ہمارے حوالے کردو۔
اس غرض سے کہ گھر کا کوئی فرد نکل کر بھاگنے نہ پائے، ان لوگوں نے حضرت لوطؑ کے گھر کے گرد گھیرا ڈال دیا۔

حضرت لوطؑ اپنے مہمانوں کا خیال کرکے بے حدپریشان ہوئے اور اپنی قوم سے کچھ یوں خطاب فرمایا:’’(اے لوگو!) یہ میرے مہمان ہیں۔ میری فضیحت نہ کرو۔ اﷲسے ڈرو اور مجھے رسوانہ کرو۔‘‘(سورۃالحجر۔آیات 68 تا 69 )ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ جواباً کہنے لگے!’’کیا ہم تمہیں بارہا منع نہیں کرچکے ہیں کہ دنیا بھرکے ٹھیکے دار نہ بنو۔‘‘(الحجر۔ آیت 70 )اس خیال سے کہ انہیں اور ان کے مہمانوں کو شیطانی سلوک سے سابقہ ہے، حضرت لوطؑ نے کہا:کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کردیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا۔(‘‘ سورۃ ھود۔ آیت 80 )اس پران کے ’’مہمانوں ‘‘ نے انہیں یاد دلایا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے پیغام رساں ہیں اور انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا:”اے لوطؑ ! ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل وعیال کو لے کر نکل جا۔ اور تم میں کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے ‘ لیکن تیری بیوی (پیچھے رہ جائے گی کیونکہ اس) پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو ان لوگوں پر گزرے گا۔ ان کی تباہی کے لئے صبح کا وقت مقرر ہے۔ صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے‘‘(سورۃ ھود۔ آیت 81 )جب قوم لوطؑ کی سرکشی، گمراہی اور گناہ پر اصرارحد سے بڑھ گیا تو اﷲ تعالیٰ نے اس پوری قوم کو نیست ونابود کردیا اور صرف حضرت لوطؑ اور ان کے ماننے والوں کو فرشتے بھیج کر بچالیا۔ صبح کے وقت، بستی کے گمراہ لوگوں کو ایک ہولناک وہلاکت خیز حادثے (عذابِ الہٰی ) نے آلیا جس کی خبر حضرت لوطؑ انہیں پہلے ہی دے چکے تھے۔”اور پھر انہوں (قوم لوطؑ ) نے اسے (حضرت لوطؑ کو) اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے ان( لوگوں ) کو اندھا کردیا(اور انہوں نے سنا ) کہ ’اب میرے عذاب کا، اور میری تنبیہات کا مزا چکھو۔‘ صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا‘‘۔قوم لوطؑ کی تباہی کا احوال ‘
دیگر آیات قرآنی میں کچھ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے۔’’آخر کار پوپھٹتے ہی ان کو ایک زبردست دھماکے نے آن گھیرا اور ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسادی۔ اس واقعے میں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو صاحبِ فراست ہیں۔ اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے۔ اس میں سامانِ عبرت ہے ان لوگوں کے لئے، جو ایمان والے ہیں۔‘‘”پھر جب ہمارے فیصلے (کے عمل میں آنے کا) کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ(تہہ در تہہ بوچھاڑ کی شکل میں) برسائے، جن میں سے ہر پتھرتیرے رب کے یہاں نشان زدہ تھا۔ اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں۔‘پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کردیا اور ان پر برسائی (پکے ہوئے پتھروں کی) ایک برسات۔ بڑی ہی بری بارش تھی جو ان ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور بے حد رحیم بھی۔‘‘یہ گمراہ لوگ تباہ ہوگئے۔ا ور صرف ایک گھرانے کے بقدر، حضرت لوطؑ اور ان کے ماننے والے، لوگ بچالئے گئے۔ حضرت لوطؑ کی بیوی ان کے ماننے والوں میں نہیں تھی لہٰذا اسے بھی انہی لوگوں کے ساتھ نیست و نابود کر دیا گیا۔اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بناکر بھیجا، پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا: ’کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا ’نکالو ان لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں۔‘ آخر کار ہم نے لوطؑ اور اس کے گھر والوں کو، بجزاس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی، بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی (پکے پتھروں کی) ایک بارش،
پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا۔‘اور یوں حضرت لوطؑ اور ان کا گھرانہ ، ان کی بیوی کو چھوڑ کر ، بچالیا گیا۔ عہد نامہ عتیق میں لکھا ہے کہ یہ باقی ما ندہ لوگ بعد ازاں حضرت ابراہیم ؑ کے پاس ہجرت کرگئے۔جہاں تک سرکش، نافرمان اور گمراہ (قوم لوط ؑ کے) لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں اور ان کی رہائش گاہوں تک کو صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی مانند مٹا دیا گیا۔سورۂ ھود کی 82 ویں آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قومِ لوطؑ پر نازل کردہ عذاب کی نوعیت کیا تھی: ’’جب ہمارے فیصلے (کے عمل میں آنے کا) وقت آگیا تو ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی تابڑ توڑ (تہہ در تہہ بوچھاڑ کی شکل میں ) بارش کردی۔‘‘قرآن کا یہ کہنا کہ ’’اس بستی کو الٹ دیا‘‘ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پورا علاقہ ایک زبردست وشدید زلزلے کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کردیا گیا تھا۔ اسی کی مطابقت میں جھیل لوط (بحیرہ مردار)، جہاں یہ تباہی وقوع پذیر ہوئی تھی، اس حادثے کی’’واضح شہادتیں‘‘ لئے ہوئے ہے۔ دعا ہے اللہ رب العزت ہمیں بھی پہلی قوموں سےعبرت حا صل کر نے اور گنا ہوں سے بچنے کی تو فیق عطا فرما ئے ۔۔آمین ثم آمین ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ

Leave a Comment