کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ اس والی سلیٹی کا لکھا مٹانے کیلئے ایک بار تھوکنا پڑتا تھا یا 2 بار؟

Sleati

آج سکول کے بچے کاپیوں اور پنسلوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب لکھنے کیلئے تختی اور سلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ تختی پر قلم دوات سے لکھا مٹانے کیلئے ’گاچی‘ استعمال کی جاتی تھی لیکن سلیٹ پر سلیٹی سے لکھا مٹانے کیلئے لعابِ دہن یعنی تھوک کام آتا تھا۔ٹوئٹر پر ایک صارف نے سلیٹ پر لکھنے کیلئے استعمال ہونے والی ’سلیٹی‘ کی تصویر شیئر کرکے لوگوں سے پوچھا کہ اس کا نام بتائیں۔ کمنٹس سیکشن میں نائنٹیز کے اکثر نوجوانوں نے اس کا درست نام بتایا لیکن بڑی بی نے تصویر میں نظر آنے والی سلیٹی پر اعتراض اٹھایا اور بتایا کہ ’ یہ والا سلیٹی اچھا نہیں ہوتا تھا، اس کو مٹانے کیلئے دو دفعہ تھوکنا پڑتا تھا، وہ دوسرا قسم کا سلیٹی اچھا ہوتا تھاسلیٹ پر لکھنے کے زمانے میں سلیٹ کو ہاتھ، کپڑے یا کاغذ سے صاف کرلیا جاتا تھا لیکن سردیوں کی دھوپ میں جب استاد بچوں کو گراؤنڈ میں بٹھا کر جمع تفریق کے سوال لکھوایا کرتے تھے تو تب اس کو صاف کرنے کیلئے تھوک ہی سب سے کارگر نسخہ سمجھا جاتا تھا۔ زیادہ لکھنے کی وجہ سے سلیٹ پر سلیٹی کی سفیدی برقرار رہ جاتی تھی اور اس کی صفائی کیلئے سیاہی کا ’پوچا‘ لگایا جاتا تھا جس سے سلیٹ ایک بار پھر ایسی شفاف ہوجاتی تھی جیسے ابھی نئی خرید کر لائی گئی ہو۔

Leave a Comment