تجارت و صنعت پاکستان نے صنعتوں کے لیے گیس کی بندش کو تین وزرا کی سازش

tijarat o sannat

وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان نے صنعتوں کے لیے گیس کی بندش کو تین وزرا کی سازش قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے ملاقات کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ وزیر اعظم کو لاعلم رکھ کر غلط اعداد و شمار پیش کیے گئے،اس حوالے سے پیر کو فیڈریشن ہاؤس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں نے بی ایم جی کے چئیرمین زبیر موتی والا، وائس چئیرمین ہارون فاروقی، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر شارق وہرا، اسماعیل ستار نے پریس کانفرنس کی، ان کے ہمراہ کراچی کی تمام صنعتوں علاقوں کے صدور موجود تھے۔ایف پی سی سی آئی کے عہدے داروں نے کہا کہ کیپٹیو پاور کو گیس کی بندش کا فیصلہ سازش ہے، جن 3 وزراء نے گیس کی بندش اور ٹیرف میں اضافے کی پریس کانفرنس کی وہ اس سازش کے سرخیل ہیں، اگر صنعت و تجارتی شعبے نے آرٹیکل 158 کے تحت عدالت کے فیصلے کے تناظر میں عدالت سے رجوع کیا تو حکومت کے لیے مسائل بڑھ جائیں گے۔صدر ایف پی سی سی آئی ناصر مگوں نے کہا کہ اچانک سے نجی بجلی گھروں کو گیس کی بندش سے بجلی کیسے اور کہاں سے ملے گی؟ اضافی بجلی کی فراہمی کے لیے ابھی سسٹم بھی موجود نہیں ہے، برآمدات میں اضافے کے اس ماحول میں ایسا یک طرفہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے، حکومت ایسے فیصلے کررہی ہے کہ جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے، محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آئی پی پیز کو بچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ مہنگی بجلی اور گیس کی عدم فراہمی پر صنعتیں کیسے چلیں گے؟ صنعتی پیداوار رکنے پر برآمدی آڈرز کیسے پورے ہوں گے؟حکومت آج ہی صنعتوں کے نجی بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ واپس لے۔بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ ملک میں مطلوبہ بجلی دستیاب نہیں لیکن گیس پر چلنے والی صنعتوں کی گیس بند کی جارہی ہے، بھارت اور بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے پاکستان کو ٹیکسٹائل مصنوعات کے وسیع برآمدی آرڈرز موصول ہوئے ہیں جس سے پاکستان کو مکمل استفادے کی ضرورت، آرڈرز کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے کیپٹیو پاورک ی حامل صنعتوں کی گیس بحال کرنے کی ضرورت ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر شارق وہرا نے کہا کہ حکومت پورے انرجی سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرے، صنعتوں کی گیس کی بندش اور بجلی پر منتقلی کراچی کی ترقی کے خلاف سازش ہے، کے الیکٹرک بدترین ادارہ ہے جس نے کراچی کی ترقی کو گزشتہ 20سال سے روکا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک صنعتی شعبے سے کئی برس میں اربوں روپے وصولی کرچکی ہے لیکن تاحال گرڈ اسٹیشن نہیں لگاسکی، کراچی چیمبر کابینہ کے اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کرے گا، پاکستان کی انرجی امپورٹ کا حجم 9 ارب ڈالر ہے اور 5 ارب ڈالر کا آئل انڈسٹری امپورٹ کرتی ہے، کراچی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا ہے، وزیر اعظم اس اقدام کو اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں کیونکہ بیورو کریٹس کو حقیقی مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔

Leave a Comment