حضرت عائشہؓ نےحضورؐسے پوچھا وہ کونسا عمل ہے؟

Hazrat Ayesha ny pucha

السلام علیکم دوستو کیسے ہو امید ہے کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔ایک دن رسولؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا’’جو جی چاہے مانگو‘‘ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’وہ راز بتائیے جس سے تمام گناہ معاف ہو جائیں‘‘حضورؐ نے فرمایا ’’وہ یہ راز ہے کہ جب کوئی مومن کسی دوسرے مومن کی کانٹا چبھنے کے برابر تکلیف دور کرتا ہے۔تو اللہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور جنت میں اس کواعلیٰ درجہ ملے گا‘‘جب صحابہ کرام کو یہ معلوم ہواتو وہ بے حد خوش ہوئے ، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے رونا شروع کردیا،صحابہؓ کو تعجب ہوا انہوں نے پوچھا ’’آپ کیوں روتے ہیں؟‘‘ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے جواب دیا’’میں اس لئے روتا ہوں کہ جب دوسروں کا دکھ درد دور کرنا گناہوں کی معافی اور جنتی ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے تو ان لوگوں کا کیا حشر ہوگا۔ جو دوسروں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ دوستو بے شک دوسروں کی تکلیف دور کرنے سے اللہ تعالی بہت ہوتا ہے۔ اور ہمیں چاہیے کہ دوسروں کو تکلیف نہ دے۔ کیوں کہ دوسروں کو تکلیف دینا یا ان کے دل کو دکھ دینے بھی بہت بڑا گناہ ہے۔ اج کل ہمارے معاشرے میں طنز و مزہ بہت عام ہے۔ اور ہم اکثر دوسرے لوگوں پر ایسے جملے کھستے ہیں جن سے ان کو انتہائی تکلیف پہنچتی ہیں۔ اور ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور ایسے بُرے اعمال کرنے سے منع فرمائیں۔

Leave a Comment