اہل علم و ہنر کے لئے انتہائی مفید روحانی وظیفہ

اللہ کی ذات بہت باریک بینی سے ہر شے سے باخبر ہوتی ہے۔انسان اپنے تئیں جتنا بھی باشعور ہوجائے اس کی صلاحیتوں میں ضعف ہی پایا جائے گا۔ انسان اس جستجو میں رہتا ہے کہ اسکو معاملہ فہمی میں کمال حاصل ہوجائے۔یہ اللہ کی خاص عطا ہوتی ہے جس مل جائے ۔جو انسان معاملہ فہمی میں مہارت حاصل کرنے کا متمنی ہو،چاہے کہ اسکا باطن روشن ہوجائے۔وبال اور ناگہانی مصیبت سے بچ جائے۔زندگی میں لطافت پیدا ہو، کثافت دور ہوجائے تو اسے گنج العرش کا یہ وظیفہ حرز جاں بنا لینا چاہئے۔ایسے مسلمان کو باطنی طور پر قبل از وقت بہت سی باتیں معلوم ہوجائیں گی،وہ استخارہ کی قوت حاصل کر پائے گا۔زبان سے جوادا ہوگا اس میں فراست ہوگی۔بے خبری کے عالم سے نکل آئے گا۔ چونکہ لطافت کثافت دورکرتی ہے ،کثافت بیماریوں کا موجب بنتی ہے ،یہ وظیفہ اور ذکر بیماریوں سے شفا دیتا ہے ۔لاعلاج مریض اس کو اپنا لیں ۔مفلسی اور حاجت روائی میں مدد ملتی ہے۔اہل علم کے لئے یہ وظیفہ بہت افضل ہے،ڈاکٹر اور تخلیق کار کی صلاحیتیں ابھر آتی ہیں۔

روزانہ ایک تسبیح اوّل و آخر درودپاک کے ساتھ پڑھناہے

لاالہ الااللہ سبحان اللطیف الخبیر

Leave a Comment