اگررزق اور لمبی عمر چاہتے ہوتو رمضان کی اس رات کبھی نہیں سونا

Ager rizaq or lambii umer chahty hoo

رمضان المبارک ہی وہ مقدس مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمائی جو قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے۔ قرآن پاک کو اس مہینہ سے خاص مناسبت ہے۔(شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰن)(البقرۃ۲:۱۸۵) ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا‘‘۔یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور آت.ش دوزخ سے آزادی کا مہینہ ہے ۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو اس مبارک و مقدس مہینہ میں روزہ و عبادت کے ذریعہ خدا کو راضی کرنے کی توفیق ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کی طرح نبی کریم ؐ کی امت پر بھی روزے فرض کیے تاکہ یہ اس کے ذریعہ تقویٰ و پرہیز گاری حاصل کرے۔رمضان وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب کم از کم ستر گُنا بڑھا دیتے ہیں۔

اس مہینہ میں امت محمدیہؐ کیلئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ سرکش شیاطین کو زنجیروں میں جک,ڑ دیا جاتا ہے اور روزہ وہ مبارک عمل ہے کہ جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ خالص میرے لیے ہے اور میں ہی اپنے بندہ کو اس کا اجر دونگا۔ روزہ ہی و ہ مبارک عمل ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے۔

اور اس کی وجہ سے ذہنی و قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے، خواہشاتِ نفس دب جاتی ہیں، دل کا زنگ دور ہو جاتا ہے، انسان گن اہوں اور بے ہودہ باتوں سے بچ جاتا ہے اور روزہ کے ذریعہ مساکین و غرباء سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔اگر آپ رزق میں برکت اور عمر میں اضافہ اور اس سال میں ہر وہ چیز جو آپ چاہتے ہیں اگر یہ چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں آپ کو مل جائیں تو ان تین راتوں میں کبھی نہ سوئیے گا کہ وہ تین راتیں کونسی ہیں ۔ یہ روایت حضرت امام رضا ؑ سے ہے کتاب مسائل الشیعہ جلد نمبر 8میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت امام رضاؑ نے فرمایا۔

حضرت امام علی ؑ تین راتوں میں نہیں سویا کرتے تھے پہلی رات ماہ مبارک رمضان کی 23 رات کو مولائے کائنات نہیں سویا کرتے تھے اور حضرت امام علی ؑ عیدالفطر کی رات بھی نہیں سوتے تھے ۔ ماہ مبارک شعبان کی پندرھویں رات کو بھی کبھی بھی مولائے کائنات نہیں سویا کرتے تھے ۔

کیونکہ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ رزق کو تقسیم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کی م و ت کو مقرر فرما تا ہے اس کے ساتھ پورے سال میں کیا ہونا ہے ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ معین فرماتا ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ ان تین راتوں میں ضرور جاگیں اور ان تین راتوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور خدا سے رزق کے بارے میں برکت اور اپنی نیک دلی خواہشات اور دعاؤں کی قبولیت کیلئے خدا سے دعا مانگیں ۔

Leave a Comment