جمعہ کے دن عصر کے بعد کا وظیفہ

jummay ko aser k waqt

ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس نے جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی مرتبہ درود شریف پڑھا أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا اسی ۸۰ مرتبہ پڑھنا ثابت ہے، اس عمل کی فضیلت اور اس کے ثبوت کے دلائل آگے ذکر کیے جارہے ہیں، اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں، سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔

اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف مثلاً اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمداور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی ۸۰ مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف کی فضیلت اور ثبوت:رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربارِ خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جن کا احادیثِ مبارکہ میں ذکر ملتا ہے۔

اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ درج ذیل درود شریف اکابر علماءِ کرام اور مشائِخ عظام کے معمول میں سے ہے، جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے فضائل درود شریف میں نقل کیا ہے اور اکثر اسی کتاب کے حوالے سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔حدیث مبارک ہے:جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی مرتبہ پڑھے:أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً.اس کے اَسیسال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں۔

اور اَسی سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ذیل میں اس حدیث کی علمی و فنی تحقیق پیش کی جاتی ہے۔ ہماری زیرِ بحث حدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد خاص درود شریف پڑھنے پر۸۰؍ سا ل کے گناہ کی معافی اور۸۰؍ سال کی عبادت کی بشارت ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس قسم کی دو موقوف روایات ملتی ہیں:پہلی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جوابھی ذکر کی گئی۔ دوسری روایت حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں:ان دو روایات میں تین فرق ہیں:پہلی روایت میںـقبل أن یقوم من مکانہٖ کے الفاظ ہیں، جب کہ دوسری اس سے خالی ہے۔ اسی طرح پہلی میں وسلم تسلیما ہے، جب کہ دوسری روایت میں تسلیما کا لفظ نہیں ہے۔

پہلی میں کتبت لہٗ عبادۃُ ثمانین سنۃًکے الفاظ بھی ہیں، جب کہ دوسری میں صرف”غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا” کے الفاظ آئے ہیں۔ بہر حال ہر دو حدیث کا مضمون دوسرے کی تائید کرتا ہے۔ ذیل میں ان کی تخریج پیش کی جاتی ہے:حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو محدث ِ اندلس حافظ ابن بشکوال المتوفی۵۷۸ھ نے اپنی کتاب القربۃ إلی رب العالمین بالصلاۃ علی محمد سید المرسلین صفحہ:۱۱۴میں ذکر کیا ہے، جب کہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ والی روایت مذکورہ کتاب میں نہیں ملی، حدیث پر کلام کرنے والے حضرت حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے چوں کہ اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی، اس بنا پر کسی بھی محدث یا مخرج نے اس پر صحت ،حسن یا ضعف کا حکم نہیں لگایا۔

البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی محدث نے اُسے موضوع بھی نہیں کہا۔موقوفاََ یہ روایت اسی طرح بیان کی جاتی ہے۔ لیکن درج ذیل سطروں میں جس طرح حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ کے استادشیخ ابو القاسم احمد بن بقی رحمہ اللہ المتوفی۵۳۲ھ سے امام مالک رحمہ اللہ تک کے رواۃ کا تذکرہ کیا گیا، اس سے اس حدیث کی صحت خوب واضح ہے۔ سند ِ حدیث ملاحظہ ہو: حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند میں شیخنا أبو القاسم کہنے پر اکتفا کیا ہے۔

Leave a Comment