کیا غصے کی حالت میں ظہار ہو جاتا ہے؟

kia gussay ki halat mai zahar hoo jata hai?

غصے کی حالت میں ظہار کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا ظہار ہو جاتا ہے؟ یا اس پر بھی غضب کی تینوں حالتیں لاگو ہو سکتی ہیں جیسے کہ طلاق کے معاملے میں ہوتی ہیں؟جواب اول: مسلمان جو باتیں بلا اختیار اور غیر ارادی طور پر کر دے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔

جب کوئی مسلمان اپنی ذات پر اثر انداز ہونے والے کلمات زبان سے نکالے تو ان پر مواخذہ اسی وقت ہو گا جب مسلمان انہیں عمداً، مکمل اختیار اور دلی ارادے کے ساتھ کہے، اس بارے میں بنیادی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے: (یقیناً تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی انسان نیت کرے) اس حدیث کو امام بخاری: (1) اور مسلم : (1907)نے روایت کیا ہے۔

لیکن جو باتیں غیر ارادی طور پر زبان سے نکل جائیں یا بلا اختیار نکلیں ، جیسے کہ جبری طور پر کسی سے کچھ کہلوانا یا غلطی سے کسی بات کا نکل جانا تو دونوں صورتوں میں مواخذہ نہیں ہو گا۔

اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ترجمہ: اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ اگر کوئی شخص اچھا کام کرے گا تو اسی کو اس کا اجر ملے گا اور اگر برا کام کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے ۔

ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا! اے ہمارے پروردگار! ہم پر اتنا بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے پروردگار! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوانا۔ ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مولیٰ ہے لہذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [البقرۃ: 286]

علامہ الشیخ محمد الامین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “فرمان باری تعالی : رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا [ترجمہ: ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا]میں اللہ تعالی نے یہ نہیں بتلایا کہ بھول چوک اور غلطی سے ہو جانے والی خطائیں معاف کرنے کی دعا اللہ تعالی نے قبول کی یا نہیں؟

تاہم دوسری جگہ پر اللہ تعالی نے اشارہ فرما دیا ہے کہ غلطی کے متعلق ان کی دعا قبول ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ترجمہ: اور کوئی بات تم غلطی کی بنا پر کہہ دو تو اس میں تم پر کوئی گرفت نہیں، تاہم جو دل کے ارادے سے کہو [اس پر ضرور گرفت ہو گی۔]اللہ تعالی یقیناً معاف کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ [الاحزاب: 5]

نیز تیسری جگہ پر یہ بھی بتلا دیا کہ بھول چوک کی صورت میں ہونے والی غلطی کی معافی کی دعا بھی قبول فرما لی، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ترجمہ: اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آ جانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔ [الانعام:68]تو اس آیت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ یاد آنے سے پہلے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔۔۔

مزید برآں صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ: (نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس وقت آیت پڑھی: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا [ترجمہ: ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا] تو پھر اللہ تعالی نے فرمایا: ہاں میں نے تمہاری یہ دعا قبول کر لی ہے۔)” ماخوذ از: “أضواء البيان” (1 / 312)

اسی طرح ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: “یہ بات جو ہم نے کہی ہے کہ الفاظ کی ادائیگی میں نیت اور مقصد کا اعتبار ہوتا ہے، اور یہ کہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پر اس وقت تک حکم نہیں لگتا جب تک متکلم ان الفاظ کو قصداً نہ بولے اور ان الفاظ کے موجب بننے والے احکامات کا ارادہ نہ رکھے، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ متکلم مکمل اختیار سے اور ارادۃً وہ الفاظ بولے؛

چنانچہ دو طرح کے ارادوں کا پایا جانا ضروری ہے: اختیاری طور پر ان الفاظ کو بولنے کا ارادہ کرے اور ان الفاظ کے معنی اور تقاضوں کا ارادہ کرے، بلکہ یہاں پر معنی اور تقاضوں کا ارادہ الفاظ بولنے کے ارادے سے زیادہ ضروری ہے؛ کیونکہ اصل مقصود تو معنی اور نتائج ہی ہوتے ہیں جبکہ الفاظ ان معانی کو بیان کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنتے ہیں، علمائے اسلام میں سے مفتیانِ کرام کا یہی موقف ہے۔۔

Leave a Comment