کفن چور اور پارسا عورت کا ہولناک قصہ

Kafan choor or parsa orat

بغداد شریف میں ایک پارسا عورت رہتی تھی اس زمانہ میں وہاں ایک کفن چور بھی رہا کرتا تھا جب وہ پارسا عورت اس دنیا سے رخصت ہوئی تو چو ر نے بھی اس کا جنا ز ہ پڑھا تا کہ عورت کی قبر دیکھ سکے۔ جب رات ہوئی تو وہ کفن چو ر اس پارسا عورت کی قبر پر گیا اور قبر کھودی جب اس نے کفن کو ہاتھ لگا یا۔

تو اس پارسا عورت نے چو ر کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اللہ کی شان ہے کہ ایک جنتی کسی دوسرے جنتی کا کفن چرا رہا ہے۔ یہ بات سن کر کفن چو ر لرز گیا اور کہنے لگا کہ اے پارسا بی بی ! تیرے جنتی ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن میں تو ساری زندگی مردوں کے کفن چرائے ہیں میں کیسے جنتی ہو سکتا ہوں؟

اس پر وہ عورت بو لی اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا۔ اور جس جس نے میرا جناوزہ پڑ ھا اسے بھی بخش دیا اور تو نے بھی میرا جنا ز ہ پڑھا ہے اس پر کفن چو ر شر مندہ ہوا اس نے توبہ کی اور اپنے زمانے کا قطب بن گیا۔

Leave a Comment