منہ سے خو ن نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

Mun sy khoon nikalny sy roza toot jata hai?

روزے میں شدید ضرورت کے تحت داڑھ نکلوانا جائز ہے۔ بلاضرورت داڑھ نکلوانا مکروہ ہے۔ اگر خو ن یا دوا پیٹ کے اندر چلی جائے اور تھوک پر غالب یا اس کے برابر ہو تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔روزے کی حالت میں داڑھی میں تیل لگانا اور کنگھی کرنا جائز ہے۔ روزے کی حالت میں خضاب لگانا بھی جائز ہے۔

کالا خضاب لگانا حرام ہے، اس کے علاوہ باقی رنگ کا خضاب لگانا جائز ہے۔ اگر روزہ دار دانت صاف کئے بغیر سوگیا اور دانتوں میں اٹک۔ا ہوا کھانا چنے کی مقدار یا اس سے زیادہ حلق میں اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔اور اگر چنے کی مقدار سے کم ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ دانت کے درمیان اگر کوئی چیز چنے سے بڑی لگی ہوئی تھی ۔اور اسے نگل گیا تو روزہ فاسد ہوگیا، اگرچنے سے چھوٹی ہے۔

تو روزہ فاسد نہ ہوگا، لیکن مکروہ ہے۔ البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل لیا تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ جائے گا، چاہے چنے کے برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو، دونوں صورتوں میں روزہ فاسد ہوجائے گا۔ اگر دانت سے خو ن نکلا اور تھوک کے ساتھ مل کر حلق کے اندر چلا گیا تو دیکھا جائے گا کہ خو ن زیادہ ہے یا تھوک، اگر خو ن زیادہ ہے تو روزہ فاسدہے، قضا ضروری ہے، کفارہ نہیں۔

اگر تھوک زیادہ ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوا۔مصنوعی دانت منہ میں لگے رہنے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ روزہ بدستور صحیح رہے گا،کیونکہ مصنوعی دانت لگانے کے بعد اصل دانت کے حکم میں ہوجاتا ہے۔ اگر روزے کے دوران دانت نکالنے کی شدید ضرورت ہے تو دانت نکالنا جائز ہوگا، البتہ خو ن حلق سے نہ اترے۔

اس کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ اس لئے روزے کے دوران نہ نکالنا بہتر ہے۔اگر خو ن یا دوا پیٹ کے اندر چلا جائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لاز م ہوگی، کفارہ نہیں۔ روزے کے دوران دانت میں درد ہونے کی صورت میں دوائی لگانا منع ہے، کیونکہ اگر دوائی اندر جائے گی تو روزہ فاسد ہوگا، قضا لازم ہوگی اور اگر دوائی اندر نہیں جائے گی تو اندر جانے کا احتمال ہے۔

لہٰذا اس احتمال کی وجہ سے روزہ مکروہ ہوگا۔ اگر روزے کی حالت میں دانت سے خو ن نکل کر حلق میں چلا گیا تو روزہ فاسد ہوگا یا نہیں۔اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر خو ن کی مقدار کم اور تھوک کی مقدار زیادہ ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔اور اگر خو ن کی مقدار زیادہ یا برابرہے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا۔ دانت کے درمیان پھنسی ہوئی چیز جس کو تھوکا یا نگلا جاسکے اوروہ چنے کے برابرہواگر اس کوکھالیا ہے تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔

اگر کسی حاملہ کو حمل کی وجہ سے کافی تکلیف ہے اور روزہ برقرار رکھنے سے حاملہ یا بچے کو کوئی نقصان پہنچنے کا ظن غالب ہو تو روزہ توڑ دینا جائز ہوگا۔ صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔ اس قسم کے خطرے کے بغیر روزہ توڑنا گناہ ہوگا اور کفارہ واجب ہوگا۔ البتہ اگر اسی دن غروب آفتاب سے پہلے بچہ پیدا ہوگیا تو کفارہ ساقط ہوجائے گا۔

Leave a Comment