قوم ثود کا قصہ

Qoam Sood ka qissa

عاد و ثمود کی مختصر تاریخ اور حالات
عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے جو نوح علیہ السلام کی پانچویں نسل اور ان کے بیٹے سام کی اولاد میں ہے، پھر اس شخص کی اولاد اور پوری قوم عاد کے نام سے مشہور ہوگئی۔ قرآن کریم میں عاد کے ساتھ کہیں لفظ عاد اولی اور کہیں ارم ذات العماد بھی آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد کو ارم بھی کہا جاتا ہے اور عاد اولی کے مقابلہ میں کوئی عادثانیہ بھی ہے۔

اس کی تحقیق میں مفسرین اور مورخین کے اقوال مختلف ہیں، زیادہ مشہور یہ ہے کہ عاد کے دادا کا نام ارم ہے اس کے ایک بیٹے یعنی عوص کی اولاد میں عاد ہے یہ عاد اولی کہلاتا ہے اور دوسرے بیٹے حبشو کا بیٹا ثمود ہے یہ عاد ثانی کہلاتا ہے اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ عاد اور ثمود دونوں ارم کی دو شاخیں ہیں۔ ایک شاخ کو عاد اولی اور دوسری کو ثمود یا عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور لفظ ارم عاد و ثمود دونوں کے لئے مشترک ہے۔

اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ قوم عاد پر جس وقت عذاب آیا تو ان کا ایک وفد مکہ معظمہ گیا ہوا تھا وہ عذاب سے محفوظ رہا اس کو عاد اخری کہتے ہیں۔ (بیان القرآن)اور ھود علیہ السلام ایک نبی کا نام ہے یہ بھی نوح علیہ السلام کی پانچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں قوم عاد اور حضرت ہود علیہ السلام کا نسب نامہ چوتھی پشت میں سام پر جمع ہوجاتا ہے اس لئے ہود علیہ السلام عاد کے نسبی بھائی ہیں اسی لے اخاھم ھودا فرمایا گیا۔

قوم عاد کی تیرہ خاندان تھے، عمان سے لے کر حضر موت اور یمن تک ان کی بستیاں تھیں ان کی زمینیں بڑی سرسبز و شاداب تھیں ہر قسم کے باغات تھے۔ رہنے کے لئے بڑے بڑے شاندار محلات بناتے تھے۔ بڑے قد آرو قوی الحبثہ آدمی تھے آیات مذکورہ میں زاد کم فی الخلق بصطۃ کا یہی مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ساری ہی نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دئیے تھے مگر ان کی کج فہمی نے انھیں نعمتوں کو ان کے لئے وبال جان بنا دیا۔ اپنی قوت و شوکت کے نشہ میں بدمست ہو کر من اشد مناقوۃکی ڈینگ مارنے لگے۔

اور رب العالمین جس کی نعمتوں کی بارش ان پر ہو رہی تھی اس کو چھوڑ کر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ہود علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ جو خود انھیں کے خاندان سے تھے۔ اور ابو البرکات جونی جو انساب عرب کے بڑے ماہر مشہور ہیں انھوں نے کھا ہے کہ ہود علیہ السلام کے بیٹے یعرب بن قحطان ہیں جو یمن میں جاکر آباد ہوئے اور یمنی اوقوام انھیں کی نسل ہیں۔ اور عربی زبان کی ابتداء انھیں سے ہوئی اور یعرب کی مناسبت سے ہی زبان کا نام عربی اور س کے بولنے والوں کو عرب کہا گیا۔(بحر محیط)

مگر صحیح یہ ہے کہ عربی زبان تو عہد نوح علیہ السلام سے جاری تھی کشتی نوح علیہ السلام کے ایک رفیق جرہم تھے جو عربی زبان بولتے تھے۔ (بحر محیط) اور یہی جرہم ہیں جن سے مکہ معظمہ کی آبادی شروع ہوئی۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ یمن میں عربی زبان کی ابتدا یعرب بن قحطان سے ہوئی اور ابو البرکات کی تحقیق کا یہی مطلب ہو۔

حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد کو بت پرستی چھوڑ کر توحید اختیار کرنے اور ظلم و جور چھوڑ کر عدل و انصاف اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ مگر یہ لوگ اپنی دولت و قوت کے نشہ میں سرشار تھے۔ بات نہ مانی جس کے نتیجہ میں ان پر پہلا عذاب تو یہ آیا کہ تین سال تک مسلسل بارش بند ہوگئی۔

ان کی زمینیں خشک ریگستانی صحرا بن گئیں باغات جل گئے۔ مگر اس پر بھی یہ لوگ شرک و بت پرستی سے باز نہ آئے تو آٹھ دن اور سات راتون تک ان پر شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلط ہوا جس نے ان کے رہے سہے باغات اور محلات کو زمین پر بچھا دیا ان کے آدمی اور جانور ہوا میں اڑتے اور پھر سر کے بل آکر گرتے تھے۔ اس طرح یہ قوم عاد پوری ہلاک کردی گئی۔

قرآن کریم میں جو ارشاد ہے وقطعنا دابر الذین کذبوا۔ یعنی ہم نے جھٹلانے والوں کی نسل قطع کردی اس کا مطلب بعض حضرات نے یہی قرار دیا ہے کہ اس وقت جو لوگ موجود تھے وہ سب فنا کر دئیے گئے ۔ اور بعض حضرات نے اس لفظ کے معنی قرار دئے ہیں کہ آئندہ کے لیے بھی قوم عد کی نسل اللہ تعالیٰ نے منقطع کردی۔

حضرت ہود علیہ السلام کی بات نہ ماننے اور کفر و شرک میں مبتلا رہنے پر جب ان کی قوم پر عذاب آیا تو ہود علیہ السلام اور ان کے رفقاء نے ایک حظیرہ (گھیر) میں پناہ لی۔ یہ عجیب بات تھی کہ اس طوفانی ہوا سے بڑے بڑے محلات تو منہدم ہورہے تھے مگر اس گھیر میں ہوا نہایت معتدل ہو کر داخل ہوتی تھی۔ ہود علیہ السلام کے سب رفقاء عین نزول عذاب کے وقت بھی اسی جگہ مطمئین بیٹھے رہے ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔ قوم کے ہلاک ہوجانے کے بعد مکہ معظمہ میں منتقل ہوگئے اور پھر یہیں وفات پائی۔(بحر محیط)

قوم عاد کا عذب ہوا کے طوفان کی صورت میں آنا قرآن مجید میں صراحتہََ مذکور اور منصوص ہے اور سورہ مومنون میں قصہ نوح علیہ السلام ذکر کرنے کے بعد جو ارشاد ہوا ہے ثم انشانا من بعد ھم قرنا احرین یعنی پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور جماعت پیداکی ظاہر یہ ہے کہ اس جماعت سے مراد قوم عاد ہے پھر اس جماعت کے اعمال و اقوال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:فاخذتھم الصیحۃ بالحقیعنی پکڑ لیا ان کو ایک سخت آواز نے۔

اس ارشاد قرآنی کی بنا پر بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ قوم عاد پر سخت قسم کی ہیبت ناک آواز کا عذاب مسلط ہوا تھا مگر ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ سخت آواز بھی ہوئی ہو اور ہوا کا طوفان بھی۔(معارف القرآن جلد 3 صفحہ 599، سورہ اعراف : آیت 65)

Leave a Comment