کیا زکوٰۃ رمضان میں نکالنا ضروری ہے ؟

KIa Zakaat Ramzan mai nikalna zroori hai?

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا زکوٰۃ رجب المرجب کے مہینے میں دینا ضروری ہے یا رمضان میں دینی چاہئے؟زکوٰۃ کا تعلق رمضان شریف یا رجب المرجب سے نہیں بلکہ زکٰوۃ کی ادائیگی سال پورا ہونے پر فرض ہوتی ہے یعنی جب آپ صاحبِ نصاب ہوئے اور پھر آپ کے نصاب پر سال گزرا تو اب زکوٰۃ فرض ہوگی چاہے وہ کوئی سا بھی مہینا ہو تاخیر جائز نہیں گناہ ہے،

مثلاً کوئی شخص شوال المکرم کی پانچ تاریخ کو صبح دس بجے صاحبِ نصاب ہوا اور پھر اگلے سال اسی مہینے، اسی تاریخ پر صاحبِ نصا ب ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔لہٰذا اب اسی وقت زکوٰۃ نکالنا فرض ہے تاخیر کرنے والا گنہگار ہوگا۔ اسی طرح اگر صاحبِ نصاب رجب میں ہوا یا رمضان میں تو اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔ البتہ اس مہینے کے آنے سے پہلے اگر زکوٰۃ ادا کردی جائے تو اس میں حرج نہیں جیسے شوال المکرم میں جس پر زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔

وہ اگر رمضان میں دینا چاہے تو درست ہے بلکہ رمضان میں فرض پر عمل کرنے والے کو ستَّر گُنا بڑھا کر ثواب دیا جاتا ہے اس لئے سال پورا ہونے سے پہلے اگر کوئی رمضان میں ادا کرے تاکہ زیادہ ثواب حاصل کرے تو اچھی بات ہے لیکن اگر کسی کا سال رجب یا شعبان میں پورا ہورہا ہواور وہ یہ سوچے کہ ایک دو مہینے بعد رمضان آنے والا ہے میں اس میں دوں گا تو ایسا کرنا جائز نہیں۔

بلکہ فوراً سال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی انسانوں میں ذہنی،ایمانی اور اعمالی اعتبار سے بہت سی خوش گوار تبدیلیاں واقع ہوتیں ہیں، نہ صرف یہ ، بلکہ ہمارے ارد گرد کے معاشرے میں امن و امان ، باہمی ہمدردی اور اخوت و بھائی چارگی کی ایک عجیب فضا قائم ہوتی ہے، چنانچہ اسی مہینے میں عام طور پر اپنے اموال کی زکاة نکالنے کا دستور ہے۔

اگرچہ زکاة کی ادائیگی کا براہِ راست رمضان المبارک سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ زکاة کے وجوب اور اس کی ادائیگی کا تعلق اس کے متعین نصاب کا مالک بننے سے ہے،لیکن چونکہ رواج ہی یہ بن چکا ہے کہ رمضان المبارک میں اس کی ادائیگی کی جاتی ہے؛ اس لیے اس موقع پر مناسب معلوم ہوا کہ اس ماہ میں جہاں رمضان ، روزہ اور ان سے متعلق ہر ہر عبادت پر لکھا جاتا ہے اور خوب لکھا جاتا ہے،وہاں اسی مہینے میں زکاة پر بھی لکھا جائے ؛ تاکہ اس فریضے کے ادا کرنے والے پوری ذمہ داری سے اپنے اس فریضے کو ادا کریں ۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہنوں میں رہے کہ ہم معاشرے سے اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں جو اس وقت عمومی طور پر سارے مسلمانوں میں اپنا زور پکڑ چکی ہے کہ زکاة رمضان میں نکالنی ہے،بلکہ ہم یہ ماحول بنائیں اور اسی کے مطابق دوسروں کی ذہن سازی کریں کہ زکاة نکالنے والا اپنی زکاة کی ادائیگی میں زکاة کے واجب ہونے کے وقت کا خیال رکھتے ہوئے اس کے وقت پر زکاة نکالے ،اور اس کے لیے رمضان کا انتظار نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment