کیا اسٹابری جہنمی پھل ہے ؟

Kia Strawbarry jahanumi phal hai?

قرآن مجید میں زقوم کا تین مرتبہ ذکر ہوا ہے جبکہ ایک بار اسے شجر ملعونہ کہا گیا ہے۔ مفسرین نے اس سے مراد وہ خاردار پودا لیا ہے جسے اردو میں تھوہَر یا تھوہڑ اور انگریزی میں کیکٹس کہتے ہیں۔ یہ کانٹے دار پودا ہے جس کا ذائقہ تلخ اور بو ناگوار ہوتی ہے، توڑنے پر اس سے دودھ کی طرح کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔

قرآن و حدیث میں زقوم کا خاکہ اس انداز سے پیش کیا گیا ہے:إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ. طَعَامُ الْأَثِيمِ. كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ. كَغَلْيِ الْحَمِيمِ. بیشک کانٹے دار پھل کا درخت۔ بڑے نافرمانوں کا کھانا ہوگا۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح وہ پیٹوں میں کَھولے گا۔ کھولتے ہوئے پانی کے جوش کی مانند۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ قَالَ رَسُولُ ﷲِ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنْ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْیَا لَأَفْسَدَتْ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیَا مَعَایِشَهُمْ فَکَیْفَ بِمَنْ یَکُونُ طَعَامَهُ.اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گر پڑے تو دنیا والوں کے لئے ان کی زندگی برباد کردے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کا یہی کھانا ہے۔جبکہ اسٹرابیری جسے عربی میں فراولۃ کہتے ہیں ایک خوشنما اور خوش ذائقہ پھل ہے جو دنیا کے ہر خطے میں کھایا جاتا ہے۔ اسٹرابیری کو زقوم قرار دینا شریعت، لغت اور عرف کے لحاظ سے غلط ہے۔

اسٹرابیری کا کھانا بلا کراہت جائز ہے۔اسٹرابری ایک ذائقہ دار پھل ہے، جس کو عربی میں فراولة کہتے ہیں، اس کا جہنم کا پھل ہونا کسی بھی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ہے، اس کا کھانا بلاشبہ جائز اور حلال ہے۔جہ ن میوں کی غذا کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی من جملہ غذا زَقُّوْم کا درخت ہوگا، زقوم ایک خاردار، کڑوا اور زہریلا پودا جسے اردو لغات میں تھوہڑ کا پودا لکھا گیا ہے، زقوم اور اسٹرابری دونوں نام، صورت، ذائقہ میں بالکل مختلف اور الگ الگ ہیں، اسٹرابری کو زقوم قرار دینا درست نہیں ہے۔

اسٹا بر ی میں موجو د مختلف وٹامن معدنیا ت اور زود ہضم ریشے جلد کی شادا بی خلیوں اور مدافعیتی نظام کی بہتر ی کے ساتھ ساتھ دل اور کینسر کی صورت میں مرض کی شدت کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے،اسٹابر ی میں موجود اینٹی آکسیڈیئٹس انسانی جسم میں پا ئے جا نے وا لے فری ریڈیکلز کو ختم کرتے ہیں نیز وٹا من سی فو لیٹ اور ما نع تکصید اجزاءسرطا ن اور رسولی کے خلیا ز سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

ا سی و جہ سے سٹرابر ی کھانے وا لے شخص سرطا ن جیسے مہلک مرض سے محفوظ رہتا ہے اسٹرابری میں فائیبر غذائی ریشہ سیلیکو ن پوٹا شیم مگنینشیم جست آیوڈین فولک ایسڈ ویٹا من بی 2بی 5بی 6اور میکنیز کی کافی مقدار پائی جاتی ہے، اسٹرابر ی جوڑوں کے درد اور گھنٹیا کے مرض میں فائدہ مند ہے، امراض چشم میں انتہائی مفید ہے ،بینائی کے نقائص بسری اعصاب کی تقویت اور آنکھوں کی انفکشن میں کا رآمد ہے، اسٹرابری کھانے سے قوت مدافعت بحا ل رہتی ہے، جس سے نز لہ زکا م اور انفکشنز سے انسان محفو ظ رہتا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment