جو شخص یہ کام نہیں کرتا اس کا روزہ نہیں ہوتا

Jo shakhs yh kam nahi kerta uska rooza nai hota

رمضان المبارک کا روزہ فرض ہے اس کے لئے نیت کرنی چاہئے رات کو نیت کر لیں سحری کے وقت نیت کرلیں یا رمضان المبارک کے شروع سے نیت ہو پورے مہینے کےلئے نیت انسان کر لے اور نیت کا تعلق دل کے ساتھ ہے النیت عبارۃ عن النبعاث القلب یہ قلبی رجحانات کا نام ہے ا س کے لئے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نیت کے لئے الفاظ نہیں بولے بلکہ حکم فرمایا من لم یبیت الصیام من الیل فلاصیام لہ جو شخص رات کو نیت نہیں کرتا اس کا روزہ نہیں ہے اور یہ روایت سنن نسائی کی ہے۔

اور دوسری روایت میں الفاظ ہیں من لم یبیت الصیام من الیل فلا صیام لہ جو شخص رات کو نیت نہیں کرے گا اس کا روزہ نہیں ہو گا اور یہ روایت بھی سنن نسائی کی ہے بل لم یبیت الصیام کا معنی کیا ہے آپ رات کو نیت کریں یا آپ سحری کے وقت نیت کریںیا رمضان المبارک کے شروع میں ہی آپ نیت کر لیں کہ میں نے اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھنا ہے اوریہ نیت ہی پورا مہینہ آپ کے ساتھ رہے گی۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں،

پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا،

اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔

اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment