افطار کا سنت طریقہ۔ روزے میں کمزوری اور سر درد سے بچنے کا طریقہ ۔

Aftar ka sunnat treeqa

اکثر لوگ نمک سے روزہ کھولتے ہیں کیونکہ وہ اسے سنت مانتے ہیں لیکن اصل میں نمک سے روزہ کھولنا سنت سے ثابت نہیں بلکہ روزہ کھولنے کی صحیح سنت یہ ہے کہ آپ ﷺ یا تو ہمیشہ تازہ کھجور سے روزہ کھولا کر تے تھے یا وہ روزہ کھولنے کے لیے چھوارے کا استعمال کیا کر تے تھے اس لیے آپ بھی ہمیشہ یہی کوشش کیا کر یں کہ روزہ افطار کرنے کے لیے یا تو تازہ کھجوروں کا استعمال کیا کر یں لیکن آپ کے پاس تازہ کھجوریں میسر نہیں تو آپ چھواروں کا بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ کو روزہ رکھنے کے دوران سر میں درد ہو نے لگتا ہے جسم میں کمزوری ہونے لگتی ہے یا آپ کا انرجی لیول لو ہو جا تا ہے۔

تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی باڈی میں کمزوری ہو گئی ہے اس کے لیے سب سے بیسٹ یہ رہتا ہےکہ روزے کو کھجور سے افطار کرنے کے بعد آپ نے ایک گلاس لیموں پانی کا استعمال کر لینا ہے لیموں پانی میں کیونکہ نمک بھی شامل ہو تا ہےا ور لیموں بھی شامل کیا گیا ہو تا ہے اس لیے لیموں پانی استعمال کرنے سے آہستہ آہستہ آپ کے سر میں ہونے والا درد دور ہو جا ئے گا اور آپ کے جسم میں انرجی لیولز لو ہو گئے تھے وہ بھی تھوڑی دیر میں بحال ہو جا ئیں گے۔

اسی طرح حضر ت محمد ﷺ روزہ افطار کر نے کے لیے گڑھے کے ٹھنڈے پانی کو بھی استعمال کیا کر تے تھے گڑھے کا ٹھنڈا پانی استعمال کرنے سے نہ صرف آپ کے معدے اور پیٹ میں جو گرمی بیٹھ گئی ہو تی ہے اس کا خاتمہ ہو جا تا ہے اس لیے آپ کو بھی چاہیے کہ آپ فریج کا ٹھنڈا پانی استعمال کرنے کی بجائے گڑھے کا ٹھندا پانی استعمال کر یں اس سے نہ صرف معدے اور پیٹ کی گرمی کا خاتمہ ہو جا ئے گا اور آپ کو سنت کا ثواب بھی ملے گا اور آخر ی بات یہ کہ روزے کو افطار کرنے کے بعد فوری طور پر کھانے کا آغاز نہیں کر دینا چاہیے بلکہ پہلے نماز ادا کرنی چاہیے اور تسلی سے کھانے کا آغاز کر نا چاہیے۔

اس طرح سے کرنے سے آپ کے ہاضمے کے نظام پر زیادہ پریشر نہیں بنے گا اور آپ کے ہاضمے کا نظام میں کمزوری نہیں آتی۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ انسان افطاری میں جلدی کرے اور اسی چیز پر احادیث بھی دلالت کرتی ہیں ۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے ان میں خیر موجود رہے گی ) و جو چیز ضروری اور جلدی کرنے والی ہے وہ یہ کہ چند لقموں سے افطاری کر لی جائے تاکہ بھوک میں کمی واقع ہو اور پھر نماز پڑھی جائے اس کے بعد اگر چاہے تو کھانا کھا کر اپنی حاجت پوری کر لی جائے ۔

R

Leave a Comment